شام کیمیائی ہتھیاروں کے اتلاف کا مسئلہ
منصوبے کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بحرقلزم میں غرق کیا جائیگا اورانھیں امریکی بحری جہازکے ذریعے وہاں لایا جائیگا
مجوزہ منصوبے کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بحرقلزم میں غرق کیا جائیگا اورانھیں امریکی بحری جہازکے ذریعے وہاں لایا جائیگا. فوٹو:فائل
امریکا نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی سمندر میں ٹھکانے لگانے کی پیشکش کر دی، مجوزہ منصوبے کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بحرقلزم میں غرق کیا جائے گا اور انھیں امریکی بحری جہاز ایم وی کیپ رے کے ذریعے وہاں لایا جائے گا، اس دوران امریکا کے جنگی جہاز سمندر میں موجود رہیں گے۔اس پیشکش کے کئی عملی پہلو ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ واقعی بشارالاسد کی انتظامیہ کیمیائی ہتھیاروں کے اتلاف میں معاونت کی مد میں اپنی حکومت کے خلاف برسرپیکار باغیوں کی مدد سے امریکی ہاتھ کی دست کشی کی استدعا کریگی یا نہیں، بہر حال امریکی خارجہ پالیسی میں ڈپلومیسی کی ایک بنیادی تبدیلی کے بعد عالمی قوتوں کی بھی کوشش ہوگی کہ شام میں اقتدار کی تبدیلی اگر ناگزیر ہے تو اسے مزید خونریزی کے بغیر کس طرح مکمل کیا جاسکتا ہے،کہا جاتا ہے اگرکیمیائی ہتھیاروں کو سمندربرد کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد ہوا تو اس سے کسی ملک کی سرزمین پر شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے سے پیدا ہونے والے سفارتی، ماحولیاتی اور سیکیورٹی مسائل سے بھی بچا جاسکے گا۔
ذرائع اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ شامی کیمیائی ہتھیاروں میں 30 ٹن کے علاوہ تمام ہتھیاروں کو غیر مہلک شکل میں رکھا گیا ہے اور ان کا حجم تقریباً 600 ٹن ہے۔شامی ہتھیاروں میں 30 ٹن مسٹرڈ گیس بھی شامل ہے۔ اے ایف پی کے مطابق دمشق میں مسجد امیہ کے قریب توپ کا گولا گرنے سے 4 افراد جاں بحق اور 26 زخمی ہوگئے۔ علاوہ ازیں فوج نے لبنان کی سرحد سے ملحقہ دفاعی اہمیت کے حامل قصبے دیارالعطیعہ سے باغیوں کا قبضہ چھڑا لیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے بیرونِ ملک پناہ لینے والے شامی بچوں کا نہ صرف سلسلہ تعلیم منقطع ہوگیا ہے بلکہ انھیں کم اجرت پر زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔نیویارک ٹائمز نے شامی پناہ گزینوں کی یورپ میں آمد کی دردناک رپورٹ شائع کی ہے جب کہ اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے شام کی اس درخواست کو رد کیا ہے کہ اسے کیمیائی مواد کے مقامات کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کی اجازت دی جائے۔مبصرین کے مطابق آئندہ چند ماہ شام کی سیاسی تقدیر اور انسانی مصائب کے حوالے سے خاصے اعصاب شکن رہیں گے۔
ذرائع اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ شامی کیمیائی ہتھیاروں میں 30 ٹن کے علاوہ تمام ہتھیاروں کو غیر مہلک شکل میں رکھا گیا ہے اور ان کا حجم تقریباً 600 ٹن ہے۔شامی ہتھیاروں میں 30 ٹن مسٹرڈ گیس بھی شامل ہے۔ اے ایف پی کے مطابق دمشق میں مسجد امیہ کے قریب توپ کا گولا گرنے سے 4 افراد جاں بحق اور 26 زخمی ہوگئے۔ علاوہ ازیں فوج نے لبنان کی سرحد سے ملحقہ دفاعی اہمیت کے حامل قصبے دیارالعطیعہ سے باغیوں کا قبضہ چھڑا لیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے بیرونِ ملک پناہ لینے والے شامی بچوں کا نہ صرف سلسلہ تعلیم منقطع ہوگیا ہے بلکہ انھیں کم اجرت پر زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔نیویارک ٹائمز نے شامی پناہ گزینوں کی یورپ میں آمد کی دردناک رپورٹ شائع کی ہے جب کہ اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے شام کی اس درخواست کو رد کیا ہے کہ اسے کیمیائی مواد کے مقامات کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کی اجازت دی جائے۔مبصرین کے مطابق آئندہ چند ماہ شام کی سیاسی تقدیر اور انسانی مصائب کے حوالے سے خاصے اعصاب شکن رہیں گے۔