سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس کراچی لاہور موٹر وے فزیبلٹی سمیت244ارب کے38منصوبے منظور

گوادرسے کراچی اوربسیمہ جیکب آباد تا خضدار 1748کلو میٹر ریلوے لائن کی فزیبلٹی اسٹڈیزتیارکی جائینگی

منظور کیے گئے منصوبوں میں توانائی کے شعبوں کے لیے 68 ارب روپے کی غیرملکی امداد بھی شامل ہے۔ فوٹو: فائل

سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں 244.5 ارب روپے مالیت کے 38 منصوبوں کی منظوری دی گئی۔

سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس کا وفاقی وزیر برائے پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارمز احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں 42 منصوبہ جات پر غور کیا گیا، منظور کیے گئے منصوبوں میں توانائی کے شعبوں کے لیے 68 ارب روپے کی غیرملکی امداد بھی شامل ہے جبکہ پارٹی نے توانائی سمیت آبی وسائل، تعلیم، گورننس، سائنس و ٹیکنالوجی، سماجی بہبود اور زرعی شعبوں کے منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاکہ منصوبوں کی تجاویز کو ویب سائٹ پر لگایا جائے تاکہ ماہرین اور عوام ان کا جائزہ لے سکیں اور ترقیاتی پروگراموں کو شفاف بنایا جا سکے۔

انہوں نے وزارت پانی و بجلی اور چیئرمین واپڈا کو ہدایت کی کہ چھوٹے ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تیاری میں صوبوں کی معاونت کے لیے ماہرین پر مشتمل ایڈوائزری گروپ تشکیل دیا جائے۔ پبلک سیکٹر میں فنڈز کی دستیابی کے مسائل کی وجہ سے انہوں نے وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی کہ توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سرمایہ کاری پالیسی مرتب کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انرجی کے شعبے میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھانا ہو گا، پرائیویٹ سیکٹر دوست سرمایہ کاری پالیسی سے ہم پاکستان کے شمالی علاقوں میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے این سی ایچ ڈی کو ہدایت کی کہ شرح تعلیم میں اضافے کے اہداف کے حصول کے لیے اقدامات کیے جائیں کیونکہ 100 فیصد شرح تعلیم کا حصول ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے وزارت منصوبہ بندی و ترقیات کو ہدایت کی کہ پراجیکٹ مینجمنٹ میں ڈسپلن پیدا کرے اور اس حوالے سے تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو منصوبوں میں تاخیر اور ضیاع کے عمل کو روکنے کے لیے تجاویز مرتب کرے جس سے ترقیاتی شعبے کی کارکردگی میں اضافہ ہو گا۔


 



کمیٹی نے پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے ریل کے رابطے کے حوالے سے گوادر تا کراچی 700 کلومیٹر اور گوادر تا بسیمہ تا جیکب آباد براستہ خضدار 1048 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کے منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی کی منظوری دی جبکہ حویلیاں تا پاک چین بارڈر تک نئی ریل گاڑی چلانے کے لیے فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کی بھی منظوری دی گئی، اسی طرح کراچی تا لاہور 1160 کلومیٹر موٹروے کی تعمیر و مظفر آباد، میرپور منگلا این 5 کی تعمیر کی فزیبلٹی اسٹڈی کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹی نے لاڑکانہ انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن کی اپ گریڈیشن، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس مظفر آباد آزاد جموں و کشمیر کے فیز II کے 880 ملین روپے کے منصوبے کو بھی منظور کر لیا۔

اجلاس میں گلگت بلتستان میں اسکاؤٹس کی بیرکوں کی تعمیر کے 3 منصوبے، کے پی کے میں چھوٹے ڈیموں کی فزیبلٹی اسٹڈی کے 128 ملین روپے، جنوبی وزیرستان ایجنسی میں 798 ملین روپے کے چاؤ تنگی ڈیم، چارسدہ میں کنڈل ڈیم، پلال ڈیم کے لیے 999 ملین روپے کے منصوبے، دریائے چناب پر مظفر گڑھ خان گڑھ حفاظتی بند کی تعمیر کا395 ملین روپے کا منصوبہ، 86 ملین روپے کی لاگت سے آزاد کشمیر میں بھمبر ڈیم منصوبے کی فزیبلٹی، 6 ملین روپے سے شادی کور ڈیم کی تعمیر اور ڈیرہ بگٹی میں کچی کینال کے نظرثانی شدہ منصوبے کی منظوری دی گئی جس کی لاگت 57 ارب روپے ہے۔

توانائی کے شعبے میں 11.6 ارب روپے کی لاگت سے ہائیپرو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 27 ارب روپے سے خاور ہائیڈور منصوبے، پیسکو میں نقصانات کی کمی کیلیے 7.8 ارب روپے، منگلا میں ٹریننگ انسٹیٹیوٹ پر 568 ملین روپے جبکہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے 50 ارب روپے، لیسکو، گیپکو، پیسکو، آئیسکو اور حیسکو کی استعداد کار میں اضافے کیلیے 160 ملین ڈالر، 35 میگاواٹ بجلی کا پیداواری منصوبہ نگدار ہائیڈرو پراجیکٹ (7 ارب روپے) سمیت دیگر منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی جبکہ کمیٹی کے اجلاس میں فیڈرل گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس، مینجمنٹ سائنسز اور این سی ایچ ڈی کے ذریعہ انسانی وسائل کی ترقی و شرح تعلیم میں اضافے کیلیے 13 ارب روپے کے منصوبے، سندھ میں زرعی پیداوار بڑھانے کیلیے 9 ارب روپے اور صوبے میں نیوٹریشن پروگرام کیلیے 4ارب روپے کے منصوبے بھی منظور کر لیے گئے۔
Load Next Story