ٹارگٹ کلر بے قابو ٹارگٹڈ آپریشن ناکام ایک ماہ میں153شہری قتل کر دیے گئے

ٹارگٹڈ آپریشن اور محاصروں کے باوجود ٹارگٹ کلنگ اور قتل وغارت گری میں11پولیس اہلکاراور2 خواتین بھی نشانہ بن گئیں۔

اصل اہدافی قاتل پولیس ورینجرز کی گرفت سے آزاد،سیاسی ومذہبی کارکن اورطلبہ بھی قتل کردیے گئے. فوٹو: فائل

شہر میں پولیس اور رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن، چھاپے اور محاصروں کے باوجود شہر میں ٹارگٹ کلنگ ، اغوا کے بعد قتل کر کے لاشیں پھینکنے اور قتل غارت گری کے دوران11پولیس افسران اور اہلکاروں،2 خواتین ،سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عہدیداروں اور کارکنان سمیت 153 افراد جاں بحق ہوگئے۔

جبکہ درجنوں افراد فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں، پولیس اور رینجرز حکام کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود شہر میں ٹارگٹ کلرز دندناتے پھررہے ہیں مجرم جب اور جہاں چاہیں ہدف کو نشانہ بنا کر فرار ہوجاتے ہیں چاہے اس میں پولیس اہلکار ہی کیوں نہ شامل ہوں، تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے شہر میں دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کی ہدایت کے بعد رینجرز اور پولیس کی جانب سے ٹارگٹڈ آپریشن، چھاپوں ، محاصروں اور اسنیپ چیکنگ کے باوجود شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔

پولیس اور رینجرز حکام آئے دن پریس کانفرنسوں میں ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ ملزمان کی گرفتاریوں کے دعوے کرتے ہیں تاہم اصل اہدافی قاتل پولیس اور رینجرز کی گرفت سے آزاد ہیں اور اپنے ہدف کو نہ صرف نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ پولیس اور رینجرز کی کارکردگی کو بھی چیلنج کر رہے ہیں، ماہ نومبر کے دوران شہر میں موت کا رقص جاری رہا جس میں پولیس افسران اور اہلکاروں سمیت153افراد کو موت کی نیند سلادیا گیا، یکم نومبر کو ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری میں ایک پولیس اہلکار سمیت10 افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا،2 نومبر کو 2 افراد ، 3 نومبر کو بھی2 افراد جبکہ4 نومبر کو کئی علاقوں میں11 افراد کی زندگی کے چراغ گل کر دیے گئے، 5 نومبر کو شہر کے مختلف علاقوں میں 14 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، 6 نومبر کو شہر کے مختلف علاقوں میں 8 افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا،7 نومبر کو 6 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا،8 نومبر کو مختلف علاقوں میں 5 افراد کو ابدی نیند سلا دیا گیا 9نومبر کو شہر میں پولیس افسر سمیت 12 افراد کو قتل کیا گیا۔

10 نومبر کو شہر میں4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ،11 نومبر کو 2 افراد ، 12 نومبر کو 3 افراد جبکہ 13 نومبر کو 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ اسی روز شہر میں نارتھ ناظم آباد میں 2 بم دھماکوں اور نارتھ کراچی میں دستی بم حملے میں2 پولیس اہلکاروں سمیت 18 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔




14 نومبر کو شہر کے مختلف علاقوں میں5 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، 15نومبر کو ایک شخص کا قتل ہوا، 16 نومبر کو پولیس اہلکار سمیت 3 افراد زندگی کی بازی ہار گئے،17 نومبر کو مختلف علاقوں میں8 افراد کو قتل کر دیا گیا،18 نومبر کو شہر کے مختلف علاقوں میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا،19 نومبر کو شہر میں 6 افراد کو ہلاک کیا گیا ،20 نومبر کو شہر کے کئی علاقوں میں پولیس اہلکار سمیت 6 افراد جبکہ 21 نومبر کو ایک شخص کا قتل ہوا۔

22 نومبر کو شہر کے مختلف علاقوں میں5 افراد ، 23 نومبر کو پولیس افسر سمیت3 افراد ، 24 نومبر کو 2 افراد کو زندگی سے محروم کر دیا گیا، 25 نومبر کو میاں بیوی سمیت 3 افراد کو قتل کیا گیا ، 26نومبر کو شہر میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد کو قتل کردیا گیا،27 نومبر کو مختلف علاقوں میں3 افراد جبکہ 28 نومبر کو 8 افراد سے جینے کا حق چھین لیا گیا ، 29 نومبر کو مختلف علاقوں میں جامعہ کراچی کے2 طالبعلموں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 30 نومبر کو شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ و تیز دار آلے کے وار سے پولیس اہلکار اور میاں بیوی سمیت 6 افرادکو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

پولیس اور رینجرز کے جاری ٹارگٹڈ آپریشن اور چھاپوں کے باوجود ٹارگٹ کلرز کی آزادانہ کارروائیوں پر شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور رینجرز کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس افسران میں پریس کانفرنسوں کی ریس لگی ہوئی ہے کئی کئی افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے دعوے کیے جاتے ہیں اور انھیں پولیس کی کامیابی قرار دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت اس کے بلکل برعکس ہوتی ہے۔
Load Next Story