ایف بی آر نے ایساف کنٹینر اسکینڈل کی رپورٹ تیار کرنا شروع کردی
9سال سے زائد پرانے54 ارب کے اسکینڈل کی رپورٹ سپریم کورٹ جمع کروائی جائیگی
کئی افسران و اہلکار رٹائرڈ ہوچکے، متعلقہ ڈپارٹمنٹس سے ریکارڈ مانگا گیا ہے، ایف بی آر حکام فوٹو: فائل
ایف بی آر نے نو سال سے زائد پرانے54 ارب روپے کے انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنٹ فورسز (ایساف) کنٹینر اسکینڈل کی رپورٹ تیار کرنا شروع کردی ، رپورٹ چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے سپریم کورٹ پیش ہوکر جواب جمع کروانے کیلیے تیار کی جارہی ہے۔
اس ضمن میں،، ایکسپریس،،کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کے سیکرٹری لیٹیگیشن ایس سی نعیم حسن کی جانب سے ایف بی آر کوتحریری طور پر لیٹر لکھا گیا ہے اور اس لیٹر کے ہمراہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بنچ کی جانب سے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ(پرال) ،ایف بی آر اور شاہ خالد و دیگر کے کیس میں ہونیوالی سماعت میں جاری کردہ دو صفحات کے شارٹ آرڈر کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے۔
ایکسپریس، کو دستیاب مذکورہ لیٹر اور ساتھ بھجوائے جانیوالے دو صفحات کے سپریم کورٹ کے شارٹ آرڈر کی کاپی کے مطابق عدالت کی جانب سے اپنے شارٹ آرڈر میں ایساف کنٹینر سکینڈل میں 2010 سے عدالت میں زیر التواء ازخود کیس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور عدالت نے ایساف کنٹینر ازخود کیس دوبارہ فکس کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے اور عدالت نے اگلی سماعت پر چئیرمین ایف بی آر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور پرال کیس کے ساتھ ایساف کنٹینر سکینڈل میں زیر التواء 2010 کا ازخود نوٹس کیس بھی فکس کرنے کا حکم دیا ہے۔
مذکوفہ عدالتی شارٹ آرڈر کے تناظر میں معاملہ کی اہمیت کے باعث ضروری اقدامات کیلئے آگاہ کیا جارہا ہے اس بارے میں ایف بی آر حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر ایف بی آر کی لیگل ڈیپارٹمنٹ اور کسٹمز لیٹیگیشن سیکشن رپورٹ تیارکررہا ہے ۔
اس ضمن میں،، ایکسپریس،،کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کے سیکرٹری لیٹیگیشن ایس سی نعیم حسن کی جانب سے ایف بی آر کوتحریری طور پر لیٹر لکھا گیا ہے اور اس لیٹر کے ہمراہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بنچ کی جانب سے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ(پرال) ،ایف بی آر اور شاہ خالد و دیگر کے کیس میں ہونیوالی سماعت میں جاری کردہ دو صفحات کے شارٹ آرڈر کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے۔
ایکسپریس، کو دستیاب مذکورہ لیٹر اور ساتھ بھجوائے جانیوالے دو صفحات کے سپریم کورٹ کے شارٹ آرڈر کی کاپی کے مطابق عدالت کی جانب سے اپنے شارٹ آرڈر میں ایساف کنٹینر سکینڈل میں 2010 سے عدالت میں زیر التواء ازخود کیس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور عدالت نے ایساف کنٹینر ازخود کیس دوبارہ فکس کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے اور عدالت نے اگلی سماعت پر چئیرمین ایف بی آر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور پرال کیس کے ساتھ ایساف کنٹینر سکینڈل میں زیر التواء 2010 کا ازخود نوٹس کیس بھی فکس کرنے کا حکم دیا ہے۔
مذکوفہ عدالتی شارٹ آرڈر کے تناظر میں معاملہ کی اہمیت کے باعث ضروری اقدامات کیلئے آگاہ کیا جارہا ہے اس بارے میں ایف بی آر حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر ایف بی آر کی لیگل ڈیپارٹمنٹ اور کسٹمز لیٹیگیشن سیکشن رپورٹ تیارکررہا ہے ۔