عوام کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان

وزیراعظم نے عوام کے لیے 12کھرب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کر کے صائب قدم اٹھایا ہے۔

وزیراعظم نے عوام کے لیے 12کھرب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کر کے صائب قدم اٹھایا ہے۔ فوٹو: فائل

حکومت نے کورونا وائرس کے تناظر میں عوام کے لیے 1200ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ پیکیج کا اعلان منگل کے روز وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے کہا ریلیف پیکیج کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15روپے فی لٹر کمی کردی گئی، ایک کروڑ20 لاکھ لوگوں کو چار ماہ کے لیے 3ہزار روپے ماہانہ امداد دی جائے گی، 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین جومجموعی تعداد کا 75 فیصد ہیں،سے بجلی کے بل تین ماہ کی قسطوں میں وصول کیے جائیں گے، گیس کے81 فیصد صارفین جن کا بل 2 ہزار روپے مہینہ سے کم آتا ہے، ان کو بھی تین مہینے کی قسطوں میں بل ادا کرنے کی سہولت میسر ہو گی، برآمدی شعبے کو 100ارب کے ٹیکس ری فنڈ کر دیے جائیں گے تاکہ ان کے پاس فوری طور پر رقم میسر ہو تاکہ یہ اپنے مزدوروں پر خرچ کر سکیں۔

وزیراعظم نے میڈیکل ورکرز کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ان کے لیے آلات خریدے جائیں گے اور ان کو طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد دی جائے گی۔وزیراعظم نے بتایا ہم نے کھانے پینے کی چیزیں مثلاً دال، چاول اور گھی وغیرہ پر ٹیکسز ختم کر دیے ہیں یا انتہائی کم دیے ہیں تاکہ ان کی قیمت نیچے آئے۔ہم نے الگ سے 100ارب روپے بھی مختص کیے ہیں تاکہ اس لاک ڈاؤن کے دوران ایمرجنسی کی صورت میں اس رقم کو استعمال کیا جا سکے۔

کورونا وائرس سے انسانی ہلاکت خیزی کا سلسلہ جس قدر سرعت سے پیش قدمی کر رہا ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے عوام کے لیے 12کھرب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کر کے صائب قدم اٹھایا ہے' اس وقت جب ملک بھر میں لاک ڈاؤن اور کاروبار زندگی معطل اور عوام کی اکثریت گھروں میں مقید ہونے سے مزدور طبقے کے علاوہ عام متوسط طبقہ بھی پریشانی کا شکار ہے' ایسے میں ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت بڑے پیمانے پر ریلیف پیکیج کا اعلان کرے' پٹرولیم مصنوعات کے علاوہ روز مرہ اشیا کی چیزیں انتہائی سستے داموں فراہم کی جائیں، حکومت نے مزدور طبقے جس کی تعداد 1کروڑ20لاکھ بتائی گئی ہے کے لیے 3ہزار روپے ماہانہ امداد دینے کا شاہانہ فیصلہ کیا ہے' ناقدین کا کہنا ہے کہ جس قدر مہنگائی ہو چکی ہے کیا ایک خاندان جسے روز مرہ کی دیہاڑی سے محروم کر کے گھر میں مقید کر دیا گیا ہے' صرف 3ہزار روپے میں گزارا کر سکتا ہے۔

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے اس وقت متعدد مسائل میں جکڑا ہوا ہے' ایک طرف غیرملکی قرضوں کا پہاڑ تو دوسری جانب معاشی بحران مگر مچھ کی طرح منہ کھولے سب کچھ ہڑپ کرنے پر تلا ہوا ہے' حکومت معاشی بحران کے حل کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے' ایسی صورت میں ترقی یافتہ ممالک کی طرح بہت بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان ممکن نہیں' انتہائی کم وسائل کے باوجود 12کھرب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان بھی ایک غنیمت ہے۔

وزیراعظم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے لیے بھی 25 ارب روپے رکھے ہیں جوکٹس لینے سمیت دیگر طبی سازوسامان کی خریداری کے لیے مختص ہیں۔ زراعت کے لیے100ارب روپے رکھے گئے ہیں اورزرعی قرض پر سود کی ادائیگی مؤخر کر دی گئی ہے جب کہ کسانوں کو رعایتی قرض بھی دیا جائے گا۔اس کے علاوہ کسانوں کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھی ہم نے رقم مقرر کردی ہے۔گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے 280ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیر اعظم نے تعمیرات کی صنعت کے لیے بھی خصوصی پیکیج کا اعلان کیا اورکہا کہ ہم تعمیرات کی صنعت کے لیے آیندہ تین چاردن میں ایک پیکیج کا اعلان کر رہے ہیں اور یہ ایسا پیکیج ہو گا جس کا پاکستان کی تاریخ میں آج تک اعلان نہیں کیا گیا ۔وزیراعظم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سب سے زیادہ خطرہ ہمیں کورونا سے نہیں بلکہ کورونا کے خوف میں آ کر غلط فیصلے کرنے سے ہے۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم جوبھی فیصلہ کریں گے کہیں اس کے اثرات معاشرے میں کورونا سے زیادہ تباہی تو نہیں مچا دیں گے۔


جب ہم نے نیشنل سیکیورٹی کا اجلاس کیا تھا اور اس وقت محض کورونا کے21کیس تھے، لاک ڈاؤن تو اسی دن سے شروع ہو گیا تھا،اسکول، کالج بند کر دیے اور لوگوں کے غیر ضروری اجتماع پر پابندی لگا دی، لاک ڈاؤن کی آخری قسم کرفیو ہے، کرفیو لگانے کے جو ہمارے معاشرے پر اثرات پڑیں گے ہم اس کو سوچ بھی نہیں سکتے۔ وزیراعظم کا کہنا بالکل صائب ہے کہ جب لاک ڈاؤن سے مزدور اور عام طبقہ پریشان ہے تو ایسے میں اگر کرفیو لگا دیا گیا تو صورت حال مزید خراب ہو جائے گی۔

ادھر ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ کورونا وائرس سے میو اسپتال لاہور میں ایک مریض جان کی بازی ہار گیا جس کے بعد ملک بھر میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 7ہو گئی' گزشتہ 24گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 80نئے کیس سامنے آنے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 972ہو گئی ہے۔ کورونا وائرس سے سعودی عرب میں بھی پہلی ہلاکت ہوئی ہے' مرنے والے کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے' سعودی وزارت صحت نے مزید 205مریضوں کی تصدیق کی جس سے وہاں مریضوں کی مجموعی تعداد 767 ہو گئی۔

افغانستان آنے والے 4نیٹو فوجیوں میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ فرانس میں مزید دو ڈاکٹر ہلاک ہونے سے مرنے والے ڈاکٹروں کی تعداد 5ہوگئی۔ حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لوگوں کو گھر میں رہنے کی اپیل کر رہی ہے' پنجاب حکومت نے اس سلسلے میں ''گھر رہیں' محفوظ رہیں'' کے عنوان سے کورونا کے بارے میں آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔

دنیا بھر میں کورونا کے انسداد کے لیے عوام کو گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی جا رہی ہے' اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی اپنے ٹی وی خطاب میں عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس اپیل پر عمل نہ کیا گیا تو پھر پولیس کے ذریعے زبردستی اس پر عملدرآمد کرایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے' بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی قوم سے خطاب کرتے ہوئے 21دن کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔

آسٹریلیا نے جنازے اور شادی کی تقریبات میں شرکاء کی تعداد محدود کرتے ہوئے اعلان کیا کہ شادی کی تقریبات میں صرف 5 جب کہ جنازے میں 10افراد شرکت کر سکتے ہیں' عالمی ادارہ صحت کے مطابق امریکا میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے' امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان حالات میں امریکا کے لیے مزید فیس ماسک اور وینٹی لیٹرز کا انتظام کرنا آسان نہیں' عالمی مارکیٹ بے قابو ہو چکی ہے۔

جب دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کورونا وائرس کے سامنے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے طبی ضروریات کا مناسب انتظام کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں ایسے میں پاکستان جیسے ترقی پذیر اور غریب ملک کے عوام کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ ابتلا اور مشکل کے اس دور میں حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے کم سے کم گھر سے باہر نکلیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوں۔

 
Load Next Story