کورونا کا نفسیاتی بھونچال

مکمل لاک ڈاؤن سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکتے ہیں

کھانے پینے کی قلت ہوئی تو افرا تفری پیدا ہو سکتی ہے، فوٹو: فائل

دنیا میں کورونا وائرس کے بھونچال نے ایک نئے نائن الیون کی نوید دی ہے، ماہر سائنسدانوں، فلسفیوں اور دانشوروں کے نزدیک چین کے صوبہ ووہان میں جنم لینے والے کورونا وائرس نے عالمی معیشت، تجارت، سیاست اور سماجی رشتوں کی نئی تشکیل کا سامان کیا ہے اور عملی طور پر کیاس تھیوری Chaos Theory کے معروضی تناظر میں ایک دلچسپ اور چشم کشا تجزیہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جسے عرف عام میں ''بٹرفلائی ایفیکٹ'' کہا جاتا ہے۔

اس کی مثال تتلی کے خوبصورت پروں سے دی جاتی ہے اور یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ایک ننھی سی تتلی اپنے پروں سے دنیا میں قیامت کاسا ہنگامہ مچا سکتی ہے، ایک موقر غیر ملکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق تتلی کے خوبصورت رنگوں کو فطرت کے حسن اور آزادی کا لازوال استعارہ قراردیا گیا ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس نے دنیا میں تقریباً ویسی ہی معاشی تباہی ، نظام صحت کے سقوط ، سیاسی خلفشار، سماجی خوف وہراس، بے یقینی اور اداسی پیدا کی ہے جو کبھی دیکھی اور نہ سنی گئی۔ ایک وائرس نے جنم لے کر کس قدر ہولناک چیلنج دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

کورونا کے پیدا کردہ اسی منظرنامہ کی گونج جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کی میڈیا سے گفتگو میں سنائی دی، انھوں نے کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے فنڈ قائم کرنے اورلاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کے گھروں میں کھانا پہنچانے کے لیے ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کورونا وائرس سے نمٹنا بڑے ممالک کے لیے بھی آسان نہیں۔ امریکا نے 2 ہزار ارب روپے کا ریلیف پیکیج دیا ، ہماری ٹیکس کولیکشن 45ارب ڈالر ہے۔

پوری دنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے نہ صرف معیشت متاثر ہوئی ہے، پوری دنیا میں بر آمدات گر رہی ہیں، پاکستان کی ایکسپورٹ جو بڑھ رہی تھیں اب متاثر ہو رہی ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی کورونا وائرس کا اثر ہوگا۔وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ کورونا کے خلاف جنگ حکومت اکیلے نہیں جیت سکتی۔ اس وقت پاکستان کو اوورسیز پاکستانیوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وزیراعظم نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد سینئر صحافیوں سے کورونا کی روک تھام کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی، وزیراعظم نے گڈز ٹرانسپورٹ کی نقل وحرکت پرپا بندی بھی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم کی میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزرا اسد عمر،حماد اظہر،خسرو بختیار، معاونین خصوصی فردوس عاشق اعوان، ڈاکٹر ظفر مرزاعثمان ڈار اورنیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل بھی موجود تھے۔

اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ حکومت کورونا کے مسئلہ کی گمبھیرتا کا گہرا ادراک رکھتی ہے، وزیراعظم نے پہلے دن سے لاک ڈاؤن کے نفاذ سے بوجوہ گریزپائی اختیار کرنے کو صائب جانا ، وہ ملکی معیشت کو لاحق خطرات سے چشم پوشی بھی نہیں کرسکتے ، ان کا استدلال بھی بلاجواز نہیں، وہ بصد اصرار کہتے ہیں کہ نچلے طبقے کو مکمل انفراسٹرکچر مہیا کیے بغیر لاک ڈاؤن نہیں کرنا چاہیے،مگردوسری جانب سندھ حکومت فرنٹ فٹ پر جاچکی ہے، دیگر صوبے بھی لاک ڈاؤن سخت کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں، پنجاب میںرات 8بجے جب کہ سندھ میں شام 5 بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے،خیبر پختون خوا میں لاک ڈاؤن میں 10 اپریل تک توسیع کی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن سے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکتے ہیں، وفاق کا اس معاملہ میں موقف کچھ اور ہے مگر جو چیز وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مسلسل اقدامات اور اعلانات میں نظر آتی ہے وہ ایک کے بعد دوسرا انتظامی فیصلہ یا پے در پے ریلیف پیکیجز ہیں جن کے فوری اثرات ونتائج پر نہ تو حکومت نے کوئی رپورٹ جاری کی ہے اور نہ ارباب اختیار نے عوام کو ملنے والی ریلیف کا کوئی جامع ڈیٹا این جی اوز، مخیرحضرات اور حکومتی ٹاسک فورسز کے ذژرئعے عوام اور میڈیا کے سامنے رکھا ہے، بظاہر ریلیف پیکیجز اور امدادی اعلانات کا جمعہ بازار لگاہوا ہے، وزیراعظم نے مزدوروں اور اجرتی محنت کشوں کے لیے تین ہزار روپے ماہانہ کی امداد کا اعلان کیا تھا ، ابھی وہ یکمشت 12ہزار روپے دینے کی خوشخبری دے رہے ہیں، کورونا فنڈ دیا جائیگا، ٹائیاگر فورس گھر گھر کھانا پہنچائے گی۔


وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے ڈاک ملازمین کو پنشن گھر کی دہلیز پر 24مارچ سے پہنچانے کی نوید دی ہے مگر اخبارات نے پنشن کی عدم دستیابی کا شکوہ کیا اور بتایا کہ بینکوں کے سامنے پنشنرزکی قطاریں لگ گئیں، حکومت ایسی بد انتظامی نہ ہونے دے، وزیراعظم نے اسی خیال سے غیر ضروری اقدامات یا پوائنٹ اسکورنگ کے تحت اعلانات کی حوصلہ شکنی کی ہے، اچھے اقدامات کی عوام قدر افزائی کریں گے، جیسے کورونا کے خلاف قومی جنگ میں طبی عملے کے لیے ہیلتھ رسک انشورنس کا اعلان خوش آئند ہے، اسی طرح بجلی وگیس بلز کی ادائیگی کی مقررہ تاریخ میں 7اپریل تک توسیع ایک معقول فیصلہ ہے اور دیگر سہولتوں کی فراہمی میں بھی اس امر کا خیال رکھا جائے کہ حکومت جو اقدام یا اعلان کررہی ہے اس کے حقیقی نتائج اور فوائد و مراعات سے عوام استفادہ کربھی رہے ہیں یا یا نہیں، عام تاثر عوامی حلقوں میں یہ نہیں جانا چاہیے کہ حکومت صرف ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے، حقیقی ریلف دہلیز سے ابھی کوسوں دور ہے۔

یہ بے یقینی ختم ہونا شرط ہے۔ لہٰذا امید کی جانی چاہیے کہ ارباب اختیار اس افراتفری کا سدباب کریںگے، حکومت اب تک دی گئی ریلیف یا امدادی پیکیجز کی تفصیل سے میڈیا اور عوام تک مصدقہ اعدادوشمار کی دستیابی کا اہتمام کرے گی تاکہ کسی کو کوئی شبہ نہ رہے اور امداد حق داروں کو بروقت مل سکے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کوایک قابل عمل میکنزم وضع کرنا پڑے گا جس سے غریب اور اجرتی مزدور طبقے کی مشکلات کم ہو سکتی ہیں، وزیراعظم کی تشویش مناسب ہے کہ اگر کھانے پینے کی چیزوںکی قلت پیدا ہوگئی تو افراتفری پیدا ہوسکتی ہے، ان کے مطابق ٹرانسپورٹ کو روکنے سے کئی جگہوں پر آٹا مہنگا ہوگیا، حکومت نے اسی باعث گڈزٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی۔

وزیراعظم نے کہا جب پاکستان میں کورونا وائرس کا مسئلہ آیا تو صوبوں کا رویہ مختلف تھا۔تاثر دیاگیا کہ حکومت کو سمجھ نہیں آ رہی کیا ہو رہا ہے، پاکستان نے کبھی اس قسم کی وبا کا سامنا نہیں کیا، حکومت نے فوری طور پر نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا، نیشنل سیکیورٹی کونسل میں نیشنل کو آرڈی نیشن کمیٹی بنائی،فوری طور پراسکول بند، پی ایس ایل میچز کو مؤخر کیا۔ میں شروع سے کہہ رہا تھا فوری لاک ڈاؤن پر گئے تو نچلے طبقے کو مشکلات ہوں گی، نچلے طبقے کے لیے کوئی اسٹرکچر بنانے تک مکمل لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جانا چاہیے، ہم نے ایک دم لاک ڈاؤن کردیا تو دیہاڑی پر کام کرنے والوں کے لیے سخت مسئلہ ہوگا۔

اگر کھانے پینے کی قلت ہوئی تو افرا تفری پیدا ہو سکتی ہے،غریب طبقہ مشکل میں آجائے گا۔ٹرانسپورٹ کو روکنے سے کئی جگہوں پر آٹا مہنگا ہو گیا،ہم چاہتے ہیں لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء پہنچانے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔اب چاروں صوبوں نے مشترکہ طور پر گڈز ٹرانسپورٹ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔کھانے پینے کی چیزیں بنانے والی فیکٹریاں اورانرجی سیکٹربھی کام کرتا رہے گا۔اجلاس میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر اجلاس کو بریفنگ دی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریلوے فریٹ کے نظام کو جاری رکھے گی۔ وزیر مواصلات ملک میں گڈز ٹرانسپورٹ کی دستیابی یقینی بنائیں گے اور گڈزٹرانسپورٹ کا عملہ وزارت صحت کی ہدایات پر عمل کرے گا۔ٹرانسپورٹ کے لیے کم سے کم عملہ استعمال کیا جائے گا۔

ارباب بست کشاد کو دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی بروقت فیصلے کرنا چاہئیں، کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے عالمی سطح پر معاشی بحران آیا ہے ،فیکٹریاں،کارکانیبند ہوگئے، مزدور بے روزگار ہوگئے، اور یہ کسی ایک دفتر، کمپنی، فوڈ چینز یا ملٹی نیشنل اداروں اور عالمگیر پروفیشنلز سے منسلک لاکھوں باکمال افردا اور ہنرمندوں کی جابس کے خاتمہ کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ اس بحران سے نکلنے کے بعد بھی لوگ کورونا کے سحر اور اس کے اثرات مابعد اور نفسیاتی دباؤ سے باآسانی نہیں نکل سکیں گے، کسی نے سچ کہا ہے کہ گلوبل ولیج کو کورونانے ایک نفسیاتی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ کاروبار سکڑگیا ہے، تاجروں کے کنسائنمنٹس بلاک ہوگئے، تجارتی سرگرمیاں ماند پر گئیں۔ لیبر فورس ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے ہے، سیاحت،ہوٹلنگ، اسپورٹس اور فیشن و ملبوسات کی دنیا اجڑگئی ہے۔

دوسری طرف دیکھو تو ریاستی مشینری ملک میں غیر فعال ہے، میڈیا سے وابستہ افراد پر پولیس تشدد کی شکایتیں مسلسل آرہی ہیں، چاکیواڑہ پولیس نے ایک سینئر صحافی کے بیٹے پر تشدد کیا تاہم پولیس متحرک ہے، لاک ڈاؤن کو موثر بنانے کے لیے رینجرز اس کی مدد کو موجود ہے ، کہیں کہیں فوج سویلین کی مدد کررہی ہے تاہم ایک اجتماعی جذبے کی ضرورت ہے جو ووہان میںنظر آیا، اٹلی میں اس کا فقدان تھا، اب جنوبی کوریا چین کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کورونا نے جو مائنڈ سیٹ دیا ہے اس کا ادراک کرکے ہی ہم اس وائرس کے اسٹرائیک بیک سے قوم کو بچاسکتے ہیں۔
Load Next Story