لاک ڈاؤن کے باعث کپاس کی کاشت بھی غیر معمولی طور پر متاثر

ملکی پیداوار میں متوقع کمی سے ٹیکسٹائل ملز مالکان کوروئی درآمدکرنا پڑسکتی ہے

تصدیق شدہ بیج کی دستابی یقینی بنانے کیلیے تمام اقدام اٹھائے جائیں،چیئرمین کاٹن جنرز ۔ فوٹو : فائل

ملک بھر میں لاک ڈائون کے باعث کپاس کی کاشت غیر معمولی طور پر متاثر ہے اور رواں سال کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار میں متوقع کمی سے ٹیکسٹائل ملز مالکان کو ایک بار پھر بیرون ملک سے اربوں ڈالرمالیت کی روئی درآمد کرنا پڑ سکتی ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرزاحسان الحق نے بتایا کہ روایتی طور پر سندھ اورپنجاب کے کئی اضلاع میں مارچ کے دوسرے اورتیسرے ہفتے سے کپاس کی کاشت شروع ہو جاتی تھی لیکن رواں سال کرونا وائرس کے باعث سندھ اورپنجاب میں مکمل لاک ڈائون کے باعث کپاس کے بیج اورکھادوں کی ترسیل متاثر ہونے اورکھاد اوربیج کی دکانیں بند ہونے سے کپاس کی کاشت ابھی تک شروع نہیں ہو سکی اورخدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاک ڈائون میں مزید توسیع سے کپاس کی کاشت مزید متاثرہو سکتی ہے جس سے ہماری ملکی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


اس لیے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ زراعت سے متعلق زرعی مداخل کی نقل وحمل کومکمل آزادی دینے کے ساتھ ساتھ بیج اورکھاد کی دوکانوں کو کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ کپاس کی کاشت شروع ہو سکے۔

 

 
Load Next Story