ایف بی آر اربوں روپے کے ٹیکس چوروں کے خلاف تحقیقات شروع
بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز،فیکٹری مالکان کسٹمرز سے ٹیکس وصول کرکے ایف بی آرکوجمع نہیں کراتے،بدعنوانی میں عملہ بھی شامل
ایف بی آرکی جانب سے مختلف اشیا پر19فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔کسٹمرز سے ماہانہ اربوں روپے سیلز ٹیکس وصول کرلیا جاتا ہے۔ فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اربوں روپے کے سیلز ٹیکس چوری کرنے والے بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز، ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے مالکان کے خلاف اعلی سطح پرتحقیقات شروع کر دیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاہور، کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، سرگودھا، ملتان اور کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں قائم بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز، فیکٹریوں، کارخانوں، ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے مالکان کسٹمرز سے سیلز ٹیکس وصول کرنے کے باوجود ایف بی آر کو سیلز ٹیکس جمع نہیں کرا رہے۔ ایف بی آرکی جانب سے مختلف اشیا پر 19 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔کسٹمرز سے ماہانہ اربوں روپے کا سیلز ٹیکس وصول کرلیا جاتا ہے لیکن ٹیکس عملے کی مبینہ طورپر ملی بھگت سے سیلز ٹیکس جمع نہیں کرایا جا رہا بلکہ سیلز ٹیکس کی رقم بینکوں میں رکھ کر ماہانہ لاکھوں روپے کا منافع وصول کر رہے ہیں اور ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس جمع کرانے کے نوٹس جاری ہوتے ہیں تو اپنے قانونی مشیروں کی مدد سے سیلز کے گوشواروں میں اپنی سیل انتہائی کم ظاہر کرتے ہیں۔
اس طرح بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز ماہانہ کروڑوں روپے کے سیلز ٹیکس چوری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ بعض بڑے ریسٹورنٹس جن کی روزانہ کی کھانے پینے کی سیل لاکھوں روپے میں ہوتی ہے وہ کسٹمرز سے سیلز ٹیکس وصول کرنے کے باوجود قومی خزانے میں بہت کم سیلز ٹیکس جمع کراتے ہیں اور بعض ریسٹورنٹس ایسے ہیں جن کی روزانہ کی آمدنی لاکھوں روپے ہے لیکن وہ حکومت کو کسی قسم کا کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس چوری کرنے والے بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز، ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے مالکان کی فہرست تیار کر کے اعلی سطح کی تحقیقاتی کمیٹی کو پیش کر دی ہے جس کی روشنی میں سیلز ٹیکس چوری کرنے والے مالکان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا اس کے علاوہ ایف بی آر نے از سرنو شہروں میں قائم کھانے پینے کے بڑے بڑے ریسٹورنٹس، فاسٹ فوڈز پوائنٹس اور ہوٹلوں کا سروے بھی شروع کر دیا ہے تاکہ ایسے افراد جن کی کھانے پینے کی اشیا کی فروخت سے روزانہ لاکھوں روپے کی آمدنی ہو رہی ہے لیکن وہ حکومت کو کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں دیتے انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے علم میں یہ بات بھی آئی ہے کہ بڑے شہروں میں سردیوں میں بعض مچھلی فروخت کرنے والوں کی روزانہ لاکھوں روپے کی آمدنی ہے لیکن وہ حکومت کو کسی قسم کا ٹیکس نہیں دے رہے انہیں بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور، کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، سرگودھا، ملتان اور کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں قائم بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز، فیکٹریوں، کارخانوں، ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے مالکان کسٹمرز سے سیلز ٹیکس وصول کرنے کے باوجود ایف بی آر کو سیلز ٹیکس جمع نہیں کرا رہے۔ ایف بی آرکی جانب سے مختلف اشیا پر 19 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔کسٹمرز سے ماہانہ اربوں روپے کا سیلز ٹیکس وصول کرلیا جاتا ہے لیکن ٹیکس عملے کی مبینہ طورپر ملی بھگت سے سیلز ٹیکس جمع نہیں کرایا جا رہا بلکہ سیلز ٹیکس کی رقم بینکوں میں رکھ کر ماہانہ لاکھوں روپے کا منافع وصول کر رہے ہیں اور ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس جمع کرانے کے نوٹس جاری ہوتے ہیں تو اپنے قانونی مشیروں کی مدد سے سیلز کے گوشواروں میں اپنی سیل انتہائی کم ظاہر کرتے ہیں۔
اس طرح بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز ماہانہ کروڑوں روپے کے سیلز ٹیکس چوری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ بعض بڑے ریسٹورنٹس جن کی روزانہ کی کھانے پینے کی سیل لاکھوں روپے میں ہوتی ہے وہ کسٹمرز سے سیلز ٹیکس وصول کرنے کے باوجود قومی خزانے میں بہت کم سیلز ٹیکس جمع کراتے ہیں اور بعض ریسٹورنٹس ایسے ہیں جن کی روزانہ کی آمدنی لاکھوں روپے ہے لیکن وہ حکومت کو کسی قسم کا کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس چوری کرنے والے بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز، ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے مالکان کی فہرست تیار کر کے اعلی سطح کی تحقیقاتی کمیٹی کو پیش کر دی ہے جس کی روشنی میں سیلز ٹیکس چوری کرنے والے مالکان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا اس کے علاوہ ایف بی آر نے از سرنو شہروں میں قائم کھانے پینے کے بڑے بڑے ریسٹورنٹس، فاسٹ فوڈز پوائنٹس اور ہوٹلوں کا سروے بھی شروع کر دیا ہے تاکہ ایسے افراد جن کی کھانے پینے کی اشیا کی فروخت سے روزانہ لاکھوں روپے کی آمدنی ہو رہی ہے لیکن وہ حکومت کو کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں دیتے انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے علم میں یہ بات بھی آئی ہے کہ بڑے شہروں میں سردیوں میں بعض مچھلی فروخت کرنے والوں کی روزانہ لاکھوں روپے کی آمدنی ہے لیکن وہ حکومت کو کسی قسم کا ٹیکس نہیں دے رہے انہیں بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔