پاک چین اقتصادی راہداری سے خطے میں تجارت بڑھے گی
روزگار، برآمدات، صنعت و تجارت کے حوالے سے منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، اقتصادی ماہر
روزگار، برآمدات، صنعت و تجارت کے حوالے سے منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، اقتصادی ماہر۔ فوٹو: فائل
پاک چین اقتصادی راہداری سے خطے میں تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔ نامور اقتصادی ماہر ڈاکٹر خواجہ امجد سعید نے کہاکہ پاکستان اور چین کو اقتصادی راہداری کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
اتوار کو نجی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے دونوں ممالک اقتصادی ترقی اور خوشحالی میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ روزگارکی فراہمی، برآمدات، صنعت و تجارت کے حوالے سے منصوبہ بڑا اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے سے دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کو مواقع دستیاب ہوں گے کہ وہ مشترکہ منصوبے شروع کرسکیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے چین کی تجارتی سرگرمیوں کی معاونت کے لیے گوادر کی بندرگاہ کا ٹھیکہ چین کو دیا ہے۔ خواجہ امجد سعید نے کہاکہ دنیا کے بعض چھوٹے ممالک کے مقابلے میں پاکستانی برآمدات کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مسائل کے باوجود پاکستان کو اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بھرپور توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے اداروں کے باہمی روابط کے فروغ کے ذریعے نئے موقعوں کی تلاش میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے جس سے دوطرفہ اقتصادی روابط مستحکم ہوں گے۔
اتوار کو نجی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے دونوں ممالک اقتصادی ترقی اور خوشحالی میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ روزگارکی فراہمی، برآمدات، صنعت و تجارت کے حوالے سے منصوبہ بڑا اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے سے دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کو مواقع دستیاب ہوں گے کہ وہ مشترکہ منصوبے شروع کرسکیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے چین کی تجارتی سرگرمیوں کی معاونت کے لیے گوادر کی بندرگاہ کا ٹھیکہ چین کو دیا ہے۔ خواجہ امجد سعید نے کہاکہ دنیا کے بعض چھوٹے ممالک کے مقابلے میں پاکستانی برآمدات کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مسائل کے باوجود پاکستان کو اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بھرپور توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے اداروں کے باہمی روابط کے فروغ کے ذریعے نئے موقعوں کی تلاش میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے جس سے دوطرفہ اقتصادی روابط مستحکم ہوں گے۔