بائیوڈیزل پلان کیلیے حکومت کو تجاویز پیش کردی گئیں
بنجروغیر آباد زمینوں کے 5 فیصد پر جیٹروفا کاشت کر کے ڈیزل کا درآمدی بل صفر کیا جا سکتا ہے
بائیو ڈیزل ذرائع کو قانونی تحفظ، 2008 کے پروگرام پر عمل کیا جائے، آلٹر نیٹو انرجی ایسوسی ایشن. فوٹو:فائل
ری نیو ایبل اینڈ آلٹر نیٹو انرجی ایسوسی ایشن پاکستان نے ملک کو ڈیزل کی پیداوار میں خود کفیل کرنے کی غرض سے 11ویں پانچ سالہ پلان (2013-18) کی تیاری کے سلسلے میں حکومت کو تجاویز پیش کر دیں۔
حکومت بائیو ڈیزل، بائیوماس، ایتھنول، میتھنول، استعمال شدہ کوکنگ آئل اور دیگر بائیو ڈیزل کے ذرائع کو قانونی تحفظ فراہم کرے، نیشنل بائیو ڈیزل پروگرام 2008 کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ ایسوسی ایشن کی طرف سے دی گئی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ اگرملک میں موجود آٹھ کروڑ ایکڑ بنجر اور غیر آبادزمینوں کا صرف پانچ فیصد رقبہ یعنی چالیس لاکھ ایکڑ رقبے جیٹروفا کی کاشت کے لیے مختص کر دیا جا ئے تو ڈیزل کا درآمدی بل صفر ہو سکتا ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ اسکیم کا اعلان کر کے بنجر اور بے آباد زمینوں کو ننانوے سال کے لیے کرایے پر دے دے نیز اسٹیٹ بینک تمام بینکوں کو ہدایت کرے کہ وہ بائیو ڈیزل کے پراجیکٹس کے لیے سر مایہ فراہم کریں، فیڈرل سیڈ سر ٹیفیکیشن ڈپارٹمنٹ کو ہدایت کی جائے کہ فوری طور پر جیٹروفا کے بیج کی منظوری دے جبکہ دس سال کے لیے بائیوڈیزل سیکٹر کو ٹیکس کی رعایت دی جائے، اوگرا فوری طور پر بائیو ڈیزل کی قیمت کا اعلان کرے ۔
محکمہ جنگلات کو حکم دیا جائے کہ فوری طور پر نرسری لگا کر پورے پاکستان میں رعایتی نر خوں پر جیٹروفا کے پودے فراہم کرے جبکہ محکمہ ماحولیات اسے اپنی پالیسی میں شامل کرے، محکمہ ریلوے کو ہدایت کی جائے کہ وہ انڈین ریلوے کی طرز پر ریلوے لا ئنوں کے ساتھ ساتھ جیٹروفاکے پودے لگائے، نیشنل ہائی ویزاینڈ موٹر ویزاتھا رٹی اسلام آباد کو ہدایت کی جائے کہ وہ تمام ہائی ویز اور موٹر ویز کے ساتھ جیٹروفا کے پودے لگائے، نیشنل بائیو ڈیزل ڈیولپمنٹ بورڈ قا ئم کیا جائے جس کا چیئرمین پرائیویٹ سیکٹر سے ہو اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس میں شامل کیا جائے، دنیا کے تمام ملکوں میں پاکستانی سفارت کاروں کو ہدایت کی جائے کہ وہ بائیو ڈیزل سیکٹر میں سر ما یہ کاری کے لیے مختلف کمپنیوں سے رابطہ کریں،گورنمنٹ نیشنل بائیو ڈیزل ڈیولپمنٹ بورڈ کے تمام ارکان کو بیرون ممالک تر بیت کے لیے بھیجے، ملک میں بائیو فیول ایکٹ 2013کا نفاذ کیا جائے اور بائیو ڈیزل، بائیو ماس، ایتھنول، میتھنول، استعمال شدہ کوکنگ آئل اور دیگر بائیو ڈیزل کے ذرائع کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
گورنمنٹ کے اعلان شدہ نیشنل بائیو ڈیزل پروگرام 2008کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور اسے مزید بہتر بنا یا جائے۔ نسٹ یو نی ورسٹی اسلام آباد کی تیار شدہ ریفائنری کو پورے ملک میںفروغ دیا جائے تاکہ قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے، تمام سکولوں اور کالجوں کے طلبا کو شجر کاری مہم میں شامل کیا جائے، بین الاقوامی ڈونرز اور فنڈ نگ ایجنسیز سے رابطہ کیا جائے، پٹرولیم پراڈکٹس پر نافذ شدہ دس فیصد لیویزکو بائیو ڈیزل کے فروغ کے لیے مختص کیا جائے، تمام ملکی اور غیر ملکی این جی اوزکو بائیو ڈیزل کو فروغ دینے کی ہدایت کی جائے۔ ایسوسی ایشن کے بائیو ڈیزل کو آ رڈینیٹر رانا توصیف اقبال نے''اے پی پی'' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بائیو ڈیزل کو ٹھوس بنیادوں پر ترقی دینے کی غرض سے حکومت پاکستان کو تجاویز پیش کر دی گئی ہیں جس پر عمل درآمد کر کے ملک کو ڈیزل کی پیداوار میں خود کفیل کیا جا سکتا ہے، اس سے کسانوں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی جس سے زرعی سیکڑ مضبوط ہو گا اور کسان خوشحال ہو گا۔
حکومت بائیو ڈیزل، بائیوماس، ایتھنول، میتھنول، استعمال شدہ کوکنگ آئل اور دیگر بائیو ڈیزل کے ذرائع کو قانونی تحفظ فراہم کرے، نیشنل بائیو ڈیزل پروگرام 2008 کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ ایسوسی ایشن کی طرف سے دی گئی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ اگرملک میں موجود آٹھ کروڑ ایکڑ بنجر اور غیر آبادزمینوں کا صرف پانچ فیصد رقبہ یعنی چالیس لاکھ ایکڑ رقبے جیٹروفا کی کاشت کے لیے مختص کر دیا جا ئے تو ڈیزل کا درآمدی بل صفر ہو سکتا ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ اسکیم کا اعلان کر کے بنجر اور بے آباد زمینوں کو ننانوے سال کے لیے کرایے پر دے دے نیز اسٹیٹ بینک تمام بینکوں کو ہدایت کرے کہ وہ بائیو ڈیزل کے پراجیکٹس کے لیے سر مایہ فراہم کریں، فیڈرل سیڈ سر ٹیفیکیشن ڈپارٹمنٹ کو ہدایت کی جائے کہ فوری طور پر جیٹروفا کے بیج کی منظوری دے جبکہ دس سال کے لیے بائیوڈیزل سیکٹر کو ٹیکس کی رعایت دی جائے، اوگرا فوری طور پر بائیو ڈیزل کی قیمت کا اعلان کرے ۔
محکمہ جنگلات کو حکم دیا جائے کہ فوری طور پر نرسری لگا کر پورے پاکستان میں رعایتی نر خوں پر جیٹروفا کے پودے فراہم کرے جبکہ محکمہ ماحولیات اسے اپنی پالیسی میں شامل کرے، محکمہ ریلوے کو ہدایت کی جائے کہ وہ انڈین ریلوے کی طرز پر ریلوے لا ئنوں کے ساتھ ساتھ جیٹروفاکے پودے لگائے، نیشنل ہائی ویزاینڈ موٹر ویزاتھا رٹی اسلام آباد کو ہدایت کی جائے کہ وہ تمام ہائی ویز اور موٹر ویز کے ساتھ جیٹروفا کے پودے لگائے، نیشنل بائیو ڈیزل ڈیولپمنٹ بورڈ قا ئم کیا جائے جس کا چیئرمین پرائیویٹ سیکٹر سے ہو اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس میں شامل کیا جائے، دنیا کے تمام ملکوں میں پاکستانی سفارت کاروں کو ہدایت کی جائے کہ وہ بائیو ڈیزل سیکٹر میں سر ما یہ کاری کے لیے مختلف کمپنیوں سے رابطہ کریں،گورنمنٹ نیشنل بائیو ڈیزل ڈیولپمنٹ بورڈ کے تمام ارکان کو بیرون ممالک تر بیت کے لیے بھیجے، ملک میں بائیو فیول ایکٹ 2013کا نفاذ کیا جائے اور بائیو ڈیزل، بائیو ماس، ایتھنول، میتھنول، استعمال شدہ کوکنگ آئل اور دیگر بائیو ڈیزل کے ذرائع کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
گورنمنٹ کے اعلان شدہ نیشنل بائیو ڈیزل پروگرام 2008کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور اسے مزید بہتر بنا یا جائے۔ نسٹ یو نی ورسٹی اسلام آباد کی تیار شدہ ریفائنری کو پورے ملک میںفروغ دیا جائے تاکہ قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے، تمام سکولوں اور کالجوں کے طلبا کو شجر کاری مہم میں شامل کیا جائے، بین الاقوامی ڈونرز اور فنڈ نگ ایجنسیز سے رابطہ کیا جائے، پٹرولیم پراڈکٹس پر نافذ شدہ دس فیصد لیویزکو بائیو ڈیزل کے فروغ کے لیے مختص کیا جائے، تمام ملکی اور غیر ملکی این جی اوزکو بائیو ڈیزل کو فروغ دینے کی ہدایت کی جائے۔ ایسوسی ایشن کے بائیو ڈیزل کو آ رڈینیٹر رانا توصیف اقبال نے''اے پی پی'' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بائیو ڈیزل کو ٹھوس بنیادوں پر ترقی دینے کی غرض سے حکومت پاکستان کو تجاویز پیش کر دی گئی ہیں جس پر عمل درآمد کر کے ملک کو ڈیزل کی پیداوار میں خود کفیل کیا جا سکتا ہے، اس سے کسانوں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی جس سے زرعی سیکڑ مضبوط ہو گا اور کسان خوشحال ہو گا۔