رواں سیزن کینو کی برآمد کا ہدف 3 لاکھ ٹن مقرر
برآمد یکم دسمبر سے شروع، گزشتہ سال پیداوار 18 لاکھ تھی، رواں سال پیداوار کا تخمینہ 21لاکھ ٹن ہے
گزشتہ سال ہدف2لاکھ ٹن تھا، اضافہ انڈونیشیا اور روس کی اہم منڈیوں کو دیکھتے ہوئے کیا، ایکسپورٹرز۔ فوٹو: محمد نعمان / ایکسپریس/فائل
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے رواں سیزن کے لیے کینوں کی برآمد کا ہدف تین لاکھ ٹن مقرر کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے ترجمان و سابق چیئرمین وحید احمد کے مطابق کینو کی برآمد یکم دسمبر سے شروع کی جائیگی گزشتہ سال کینو کی پیداوار 18لاکھ ٹن رہی اس سال کینو کی پیداوار کا اندازہ 21لاکھ ٹن لگایا گیا ہے تاہم بعض علاقوں میں فصل کا معیار خراب ہونے کی وجہ سے پیداوار متاثر رہنے کا اندیشہ ہے۔ وحید احمد کے مطابق گزشتہ سال کینو کی برآمد کا ہدف 2لاکھ ٹن تھا تاہم 140ملین ڈالر کا 2لاکھ 35ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال کینوں کی برآمد کے ہدف میں ایک لاکھ ٹن کا اضافہ انڈونیشیا اور روس کی اہم منڈیوں کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے اگر عالمی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے پاکستانی بینکوں کی جانب سے ایران کے لیے بینکاری سہولتوں پر پابندی ختم ہوئی تو کینو کی برآمد 3 لاکھ ٹن سے بھی تجاوز کرجائیگی۔ رواں سیزن کینو کی 3 لاکھ ٹن ایکسپورٹ سے 180ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہو گا۔
وحید احمد نے کہا کہ پاکستانی کینو کا برآمدی ہدف پورا کرنے کے لیے روس کی جانب سے پاکستان پر لگائی گئی پابندی کا جلد از جلد خاتمہ ضروری ہے جس کے لیے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اینڈ ریسرچ پہلے ہی روسی حکام سے رابطے میں ہے تاہم پابندی اور قرنطینہ نظام پر اعتراضات دور کرنے کے عمل کو تیزی سے مکمل کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹیشن ، پیکجنگ اور لیبر کی اجرت بڑھنے سے رواں سیزن برآمدی لاگت میں 15سے 20فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی کینو کے لیے عالمی منڈی میں حریف تجارتی ملکوں سے مسابقت مزید مشکل ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کے ساتھ ترجیحی تجارت کا معاہدہ طے پانے کے بعد اس سال انڈونیشیا کو کینو کی برآمدات میں نمایاں اضافے کی توقع ہے انڈونیشیا پاکستانی کینو کی 40ہزار ٹن کی مارکیٹ ہے اسی طرح روس 82ہزار اور ایران 80ہزار ن کی مارکیٹ ہے ایرانی مارکیٹ بند رہنے کی صورت میں پاکستان کو زرمبادلہ کی مد میں 40ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ برآمدی ہدف پورا کرنے کے لیے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا ناگزیر ہے ٹرانسپورٹ کہ ہڑتال نے گزشتہ سیزن بھی کینو کی برآمدات کو بھاری نقصان سے پہنچایا تھا ، برآمدی ہدف کو ممکن بنانے کے لیے شپنگ کمپنیوں قرنطینہ ڈپارٹمنٹ سمیت تمام متعلقہ محکموں کے درمیان مربوط کوآرڈیشنین ناگزیر ہے۔
ایسوسی ایشن کے ترجمان و سابق چیئرمین وحید احمد کے مطابق کینو کی برآمد یکم دسمبر سے شروع کی جائیگی گزشتہ سال کینو کی پیداوار 18لاکھ ٹن رہی اس سال کینو کی پیداوار کا اندازہ 21لاکھ ٹن لگایا گیا ہے تاہم بعض علاقوں میں فصل کا معیار خراب ہونے کی وجہ سے پیداوار متاثر رہنے کا اندیشہ ہے۔ وحید احمد کے مطابق گزشتہ سال کینو کی برآمد کا ہدف 2لاکھ ٹن تھا تاہم 140ملین ڈالر کا 2لاکھ 35ہزار ٹن کینو برآمد کیا گیا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال کینوں کی برآمد کے ہدف میں ایک لاکھ ٹن کا اضافہ انڈونیشیا اور روس کی اہم منڈیوں کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے اگر عالمی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے پاکستانی بینکوں کی جانب سے ایران کے لیے بینکاری سہولتوں پر پابندی ختم ہوئی تو کینو کی برآمد 3 لاکھ ٹن سے بھی تجاوز کرجائیگی۔ رواں سیزن کینو کی 3 لاکھ ٹن ایکسپورٹ سے 180ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہو گا۔
وحید احمد نے کہا کہ پاکستانی کینو کا برآمدی ہدف پورا کرنے کے لیے روس کی جانب سے پاکستان پر لگائی گئی پابندی کا جلد از جلد خاتمہ ضروری ہے جس کے لیے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اینڈ ریسرچ پہلے ہی روسی حکام سے رابطے میں ہے تاہم پابندی اور قرنطینہ نظام پر اعتراضات دور کرنے کے عمل کو تیزی سے مکمل کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹیشن ، پیکجنگ اور لیبر کی اجرت بڑھنے سے رواں سیزن برآمدی لاگت میں 15سے 20فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی کینو کے لیے عالمی منڈی میں حریف تجارتی ملکوں سے مسابقت مزید مشکل ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کے ساتھ ترجیحی تجارت کا معاہدہ طے پانے کے بعد اس سال انڈونیشیا کو کینو کی برآمدات میں نمایاں اضافے کی توقع ہے انڈونیشیا پاکستانی کینو کی 40ہزار ٹن کی مارکیٹ ہے اسی طرح روس 82ہزار اور ایران 80ہزار ن کی مارکیٹ ہے ایرانی مارکیٹ بند رہنے کی صورت میں پاکستان کو زرمبادلہ کی مد میں 40ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ برآمدی ہدف پورا کرنے کے لیے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا ناگزیر ہے ٹرانسپورٹ کہ ہڑتال نے گزشتہ سیزن بھی کینو کی برآمدات کو بھاری نقصان سے پہنچایا تھا ، برآمدی ہدف کو ممکن بنانے کے لیے شپنگ کمپنیوں قرنطینہ ڈپارٹمنٹ سمیت تمام متعلقہ محکموں کے درمیان مربوط کوآرڈیشنین ناگزیر ہے۔