محکمہ خوراک کے گودام سے گندم کی 13306 بوریاں غائب جام مہتاب کا انکوائری کا حکم

جیکب آباد کے گڑھی خیرو سرکاری گودام کے معائنے کے دوران گندم کا ذخیرہ غائب پایا گیا،گندم کی بوریوں کی مالیت 5 کروڑ ہے

وزیر خوراک نے 2 انچارجوں کومعطل کردیا، سیکریٹری خوراک نے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی جو 15 یوم میں رپورٹ پیش کریگی۔ فوٹو: فائل

محکمہ خوراک کے گودام واقع گڑھی خیرو جیکب آباد سے5 کروڑروپے مالیت کی گندم کی 13306بوریاں غائب ہوگئی ہیں، وزیر خوراک جام مہتاب حسین ڈھر نے گندم غائب ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے وزیر خوراک جام مہتاب حسین ڈھرکی ہدایت پر سیکریٹری خوراک کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جو سرکاری گودام گڑھی خیرو جیکب آباد سے5 کروڑروپے مالیت کی 13306 گندم کی بوریاں غائب ہونے کے واقع کی تحقیقات کرے گی ،اس سلسلے میں محکمہ خوراک کی معائنہ ٹیم نے گڑھی خیرو جیکب آباد کے سرکاری گودام کے معائنے کے دوران گندم کی 13306 بوریوں کی گمشدگی کا انکشاف کیا تھا غائب ہونے والی گندم کی مالیت 5 کروڑ روپے ہے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر خوراک جام مہتاب حسین ڈھر نے اس معاملے پر سیکریٹری خوراک کو ہدایت کی تھی کہ فوری طور پر انچارج سیف الدین بھٹی اور علی رضا بلیدی کو معطل کرکے انکوائری کمیٹی تشکیل دیں۔




سیکریٹری خوراک نے معاملے کی تحقیقات کیلیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ایڈیشنل سیکریٹری خوراک کی سربراہی میں تمام معاملے کی تحقیقات کرکے رپورٹ 15یوم میں پیش کریگی، صوبائی وزیر خوراک جام مہتاب حسین ڈھر نے محکمہ خوراک کے تمام ملازمین کو خبردار کیا ہے کہ محکمہ خوراک سندھ کے کوئی بھی ملازم کسی بدعنوانی یا فرائض میں غفلت برتتے پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
Load Next Story