کورونا کے آگے سر کیوں جھک گئے
روزانہ اجرتوں پر کام کرنے والے دو تہائی شہریوں سمیت ایک کروڑ85 لاکھ سے زائد لوگوں کا روزگار متاثر ہوگا
کورونا کے ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات حکومت کے لیے غیر معمولی ہیں، فوٹو: فائل
کورونا وائرس کی چنگھاڑتی ہوئی رفتار نے عالمی صحت کو لاحق خطرات واشگاف کر دیے۔ دنیا بھر میں معاشی اور مالیاتی بحران کی داستان پر بریک لگ گئے تاکہ کورونا وائرس کے ہولناک اثرات کو غربت زدہ آبادیوں سے چھپایا جا سکے۔ اگرچہ یورپ، ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں گرتی ہوئی اقتصادی صورتحال کسی سے چھپ نہ سکی مگر ان کی اسٹاک مارکیٹوں کی مندی و تیزی کی کشمکش اور کاروباری سرگرمیوں کے مجموعی انحطاط کا تہلکہ خیز منظر نامہ ان ممالک کے لیے وجہ تشویش ضرور بن گیا ہے جہاں کورونا کی وبا تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہلاکتوں اور وائرس سے متاثرین کے بچاؤ کی کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہورہی۔
تاہم وزارت منصوبہ بندی نے کورونا وائرس کی موجودہ وبا کے سبب تین ماہ میں معیشت کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 2 سے ڈھائی ہزار ارب روپے لگالیا جب کہ اس سے ایک کروڑ23 لاکھ سے ایک کروڑ 85 لاکھ تک لوگ بیروزگار ہوجائیں گے۔ نقصان کا انحصار کم درجہ، درمیانے درجہ اور مکمل لاک ڈاؤن کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔
گزشتہ روز وزارت منصوبہ بندی میں ہونے والے بین الوزارتی اجلاس میں لاک ڈاؤن سے ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار پر غور کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس اور مختلف سرکاری اداروں کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں۔ وزارت منصوبہ بندی نے محدود لاک ڈاؤن کی صورت میں نقصان کا تخمینہ ایک ہزار200 ارب، درمیانے لاک ڈاؤن کی صورت میں ایک ہزار 960 ارب اور مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں ڈھائی ہزار ارب ڈالر لگایا ہے۔ نقصانات کا یہ تخمینہ کاروباری نقصانات، ٹیکس ریونیو کے نقصانات، عالمی تجارت کے نقصانات اور بیروزگاری پھیلنے سے ہونے والے نقصانات کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔
وبا 206 ممالک تک پھیل چکی ہے جب کہ دنیا بھر میں ہلاکتیں 50ہزار 10لاکھ رپورٹ ہوئی ہیں۔ اٹلی 13 ہزار، اسپین10000امریکا 5000 فرانس4000 ایران3000 برطانیہ2000 اموات کی حد عبور کرچکا، عالمی ادارہ صحت کے مطابق194578صحتیاب ہوچکے۔
ملک میں کورونا وائرس سے 32 افراد جاں بحق، مزید 5 اموات کی اطلاعات ہیں، متاثرین کی تعداد2386 ہوگئی ہے جب کہ107 کی صحت بحال ہوئی۔ پنجاب میں کیسز 922 ڈی جی خان 213 ملتان21 رائیونڈ 142فیصل آباد میں5 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی، سندھ761 کے پی کے276، بلوچستان169، گلگت187، آزاد کشمیر میں9 متاثرین ہیں۔ مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن 14اپریل تک رہے گا۔
جمعہ کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے پر حکومت نے نماز جمعہ کو5 افراد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا، پورے ملک میں لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کیا گیا، سندھ میں دوپہر 12سے3 بجے تک کرفیو جیسا لاک ڈاؤن رہا، کورونا کے پیش نظر جامع مساجد میں3سے 5 افراد بشمول خطیب، موذن اور انتظام کرنے والوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی صوبائی حکومتوں نے نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی اداروں کو عملدرآمد کرانے کی ہدایات جاری کردی گئیں، دوسری جانب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی عوام کو نمازیں گھروں پر ادا کرنے کی ہدایت کی تھی، واضح رہے ملک میں لاک ڈاؤن جاری ہے، تاہم گڈز ٹرانسپورٹ کا پہیہ چلتا رہا، لاہور میں لاک ڈاؤن میں مزید سختی کرتے ہوئے شہر کو ناکوں و رکاوٹوں کے ذریعے مکمل طور پر بند رکھا گیا۔
بتایا جاتا ہے حکومت کے جاری کردہ یہ ابتدائی اعداد و شمار سابق حکومت کے دو عہدیداروں حفیظ پاشا اور شاہد کاردار کے اندازوں سے بہت زیادہ ہیں جنہوں نے نقصانات کا تخمینہ891 ارب سے ایک ہزار 600 ارب تک بتایا تھا۔ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر جہانزیب خان نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے ملکی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونگے اور حکومت کے معاشی اعداد و شمار بکھر کر رہ جائیں گے۔ محدود لاک ڈاؤن کی صورت میں 14 لاکھ لوگ بیروزگار ہوسکتے ہیں جو ملک کی مجموعی ورک فورس کا 2.2 فیصد ہیں۔ درمیانے درجے کے لاک ڈاؤن جس میں زیادہ تر دکانیں بند اور صرف ضروری اشیا کی کھلیں گی تو ایک کروڑ23 لاکھ لوگ ملازمتوں سے محروم ہوں گے۔
مکمل لاک ڈاؤن سے حکومت کا اندازہ ہے کہ روزانہ اجرتوں پر کام کرنے والے دو تہائی شہریوں سمیت ایک کروڑ85 لاکھ سے زائد لوگوں کا روزگار متاثر ہوگا۔ ماہرین نے کرفیو جیسی صورتحال میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کے عارضی طور پر بیروزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا جہاں تک حکومتی محصولات کا تعلق ہے تو ایف بی آر کے لیے یہ آسانی پیدا ہوگئی ہے کہ اپنی نااہلی کو کورونا کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کا اندازہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں ملکی درآمدات میں 30 سے 60فیصد تک کمی ہوگی جب کہ مالی سال کے آخری چار مہینوں میں ڈالر کی مد میں برآمدات پر 10 فیصد تک اثر پڑے گا۔
حقیقت میں کورونا کے ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات حکومت کے لیے غیر معمولی ہیں، کورونا کے بعد بھی اس کے نتائج اور اثرات کے ازالے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو شدید اقتصادی مسائل اور دباؤ کا سامنا ہوگا، کاروبار ٹھپ جب کہ اجرتی مزدور بیروزگار ہوگئے، صنعتی یونٹوں، فیکٹریز، کارخانوں اور بازاروں میں تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں، زندگی کے معمولات مفلوج ہوکر رہ گئے۔ حالات کی سفاکی اور کورونا کی تباہ کاریوں کا ایک ہلکا سا جائزہ نیو یارک کے میئر کو درپیش صورتحال سے لگایا جاسکتا ہے جو نیو یارک میں اتنی زیادہ تعداد میں اموات پر رو پڑے۔
آنسوؤں کی اس دلگداز داستان کا ملکی باب بھی کم اندوہ ناک نہیں، کورونا کی ناگہانی وبا پوری دنیا کو غمزدہ کرگئی ہے لیکن پاکستان کی معیشت اور غریب و متوسط طبقے کو جن تلخ تجربات کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط سیاسی عزم و حوصلے اور غیر معمولی سٹریٹجی اور شفاف معاشی میکنزم کی ضرورت ہے۔ افسوس ہے کہ ارباب اختیار سیاسی اختلافات اور محدود سیاسی وژن کے باعث اس بڑے بحران سے نکلنے میں اب تک کامیاب نہیں رہے، عوام کو کورونا کے وائرس سے بچاؤ کی تدبیریں ڈھونڈنے میں جتنا وقت لگایا گیا اگر اس سے کم توانائی صرف کی گئی ہوتی اور عوام کو بروقت ریلیف مہیا کردیا جاتا تو کورونا کے عذاب کی شدت عوام کے لیے کبھی چیلنج نہ بنتی کیونکہ عوام نے ہر بڑے چیلنج، ٹاسک اور آزمائش کے وقت بے مثال قومی جذبے، صبر و استقامت، قربانی اور ایثار کا ثبوت دیا ہے۔
کراچی میں کورونا کے ایک مریض نے صحت یابی کے بعد اپنا پلازمہ عطیہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کچھ ہی عرصہ میں تاریخ بن جائے گا لیکن ہماری کوششیں یاد رکھی جائیں گی، ایک پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ثاقب انصاری نے کہا کہ پلازمہ کورونا سے متاثرہ مریضوں کی زندگی بچانے کے کام آئے گا، اجازت ملتے ہی ٹرانسفیوژن شروع کردیں گے۔
کورونا سے نمٹنے کی حکومتی کوششیں بھی کثیر جہتی ہیں، کوشش ہونی چاہیے کہ اس جدوجہد میں قومی جذبہ سرخرو رہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کورونا سے نمٹنے میں سبقت لے گیا، یہ خوشی کی بات ہے مگر ایک وائرس کے خاتمہ میں پوری قوم شامل ہے، ہیلتھ فورس کے تہ در تہ انتظامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کوتاہیوں کو درگزر کرتے ہوئے بہتر حکمت عملی، موثر اقدامات، دور اندیشی پر مبنی فیصلوں سے کورونا کی بساط الٹ سکتی ہے، ضرورت قائدانہ پیش رفت کی ہے۔
لہٰذا ارباب اختیار و سول سوسائٹی کو ساتھ ساتھ چل کر کورونا کو تنہا کرنے کا تاریخی کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ دنیا کو کورونا کے باب میں کئی سبق ملے ہیں، ایک مغربی خاتون میرین بایولوجسٹ ریچل کارسن نے اپنی کتاب Silent Spring خاموش بہار'' میں اس دھرتی کی تباہی کا نوحہ لکھا تھا، اس نے اپنے ممدوح عالمی شہرت یافتہ نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر آلبرٹ شویٹزر کے اس قول سے کتاب کا آغاز کیا تھا کہ آج کے انسان نے دور اندیشی اور پیش بینی کے انسانی وصف کو فنا کردیا ہے، آدمی روئے ارض کی تباہی پر تلا ہے، 50 سال بیت گئے انسان عالمی معیشت کو برباد کرنے والے کورونا وائرس کی شناخت و تفہیم سے محروم ہے، وہ عالمی سیاسی رہنماؤں پر طعنہ زن ہیں جو درست اور بروقت رسپانس نہ دے سکے۔ کتاب کے مطابق سیاستدانوں کی نااہلیت اور زخمی رعونت آج کے دن بے نقاب ہوئی ہے۔
1962 میں لکھی گئی یہ کتاب ایک دکھی دل کی پکار ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ واقعی کورونا کے ہولناک حملے کا خود بھی نشانہ بنے گی، عالمی برادری نے کورونا کے سامنے ہار مان لی، اس نے قائدانہ کردار ادا کرنے کی زحمت بھی نہیں کی، اس کی عالمی توقیر زمین بوس ہوچکی، انتونیو گوتیرس لاکھ بیانات دیں، امداد کی اپیل کریں لیکن ان سے دکھی انسانیت نے کورونا سے بچاؤ کے لیے جس سطح کی مدبرانہ اور بین الاقوامی انسان دوستی کی توقع کی تھی وہ خاک بسر ہوگئی۔ اگر سنجیدہ لوگوں کو عالمی ادارہ صحت کے کردار سے بھی مایوسی ہوئی ہے تو اس میں کوئی خطاوار نہیں، کورونا نے سیاست عالم سے وابستہ اور اسلحہ کی دوڑ میں شامل ممالک کو حیران کردیا ہے۔ دنیا کے پھنے خانوں کے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں۔
تاہم وزارت منصوبہ بندی نے کورونا وائرس کی موجودہ وبا کے سبب تین ماہ میں معیشت کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 2 سے ڈھائی ہزار ارب روپے لگالیا جب کہ اس سے ایک کروڑ23 لاکھ سے ایک کروڑ 85 لاکھ تک لوگ بیروزگار ہوجائیں گے۔ نقصان کا انحصار کم درجہ، درمیانے درجہ اور مکمل لاک ڈاؤن کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔
گزشتہ روز وزارت منصوبہ بندی میں ہونے والے بین الوزارتی اجلاس میں لاک ڈاؤن سے ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار پر غور کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس اور مختلف سرکاری اداروں کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں۔ وزارت منصوبہ بندی نے محدود لاک ڈاؤن کی صورت میں نقصان کا تخمینہ ایک ہزار200 ارب، درمیانے لاک ڈاؤن کی صورت میں ایک ہزار 960 ارب اور مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں ڈھائی ہزار ارب ڈالر لگایا ہے۔ نقصانات کا یہ تخمینہ کاروباری نقصانات، ٹیکس ریونیو کے نقصانات، عالمی تجارت کے نقصانات اور بیروزگاری پھیلنے سے ہونے والے نقصانات کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔
وبا 206 ممالک تک پھیل چکی ہے جب کہ دنیا بھر میں ہلاکتیں 50ہزار 10لاکھ رپورٹ ہوئی ہیں۔ اٹلی 13 ہزار، اسپین10000امریکا 5000 فرانس4000 ایران3000 برطانیہ2000 اموات کی حد عبور کرچکا، عالمی ادارہ صحت کے مطابق194578صحتیاب ہوچکے۔
ملک میں کورونا وائرس سے 32 افراد جاں بحق، مزید 5 اموات کی اطلاعات ہیں، متاثرین کی تعداد2386 ہوگئی ہے جب کہ107 کی صحت بحال ہوئی۔ پنجاب میں کیسز 922 ڈی جی خان 213 ملتان21 رائیونڈ 142فیصل آباد میں5 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی، سندھ761 کے پی کے276، بلوچستان169، گلگت187، آزاد کشمیر میں9 متاثرین ہیں۔ مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن 14اپریل تک رہے گا۔
جمعہ کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے پر حکومت نے نماز جمعہ کو5 افراد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا، پورے ملک میں لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کیا گیا، سندھ میں دوپہر 12سے3 بجے تک کرفیو جیسا لاک ڈاؤن رہا، کورونا کے پیش نظر جامع مساجد میں3سے 5 افراد بشمول خطیب، موذن اور انتظام کرنے والوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی صوبائی حکومتوں نے نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی اداروں کو عملدرآمد کرانے کی ہدایات جاری کردی گئیں، دوسری جانب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی عوام کو نمازیں گھروں پر ادا کرنے کی ہدایت کی تھی، واضح رہے ملک میں لاک ڈاؤن جاری ہے، تاہم گڈز ٹرانسپورٹ کا پہیہ چلتا رہا، لاہور میں لاک ڈاؤن میں مزید سختی کرتے ہوئے شہر کو ناکوں و رکاوٹوں کے ذریعے مکمل طور پر بند رکھا گیا۔
بتایا جاتا ہے حکومت کے جاری کردہ یہ ابتدائی اعداد و شمار سابق حکومت کے دو عہدیداروں حفیظ پاشا اور شاہد کاردار کے اندازوں سے بہت زیادہ ہیں جنہوں نے نقصانات کا تخمینہ891 ارب سے ایک ہزار 600 ارب تک بتایا تھا۔ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر جہانزیب خان نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے ملکی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونگے اور حکومت کے معاشی اعداد و شمار بکھر کر رہ جائیں گے۔ محدود لاک ڈاؤن کی صورت میں 14 لاکھ لوگ بیروزگار ہوسکتے ہیں جو ملک کی مجموعی ورک فورس کا 2.2 فیصد ہیں۔ درمیانے درجے کے لاک ڈاؤن جس میں زیادہ تر دکانیں بند اور صرف ضروری اشیا کی کھلیں گی تو ایک کروڑ23 لاکھ لوگ ملازمتوں سے محروم ہوں گے۔
مکمل لاک ڈاؤن سے حکومت کا اندازہ ہے کہ روزانہ اجرتوں پر کام کرنے والے دو تہائی شہریوں سمیت ایک کروڑ85 لاکھ سے زائد لوگوں کا روزگار متاثر ہوگا۔ ماہرین نے کرفیو جیسی صورتحال میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کے عارضی طور پر بیروزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا جہاں تک حکومتی محصولات کا تعلق ہے تو ایف بی آر کے لیے یہ آسانی پیدا ہوگئی ہے کہ اپنی نااہلی کو کورونا کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کا اندازہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں ملکی درآمدات میں 30 سے 60فیصد تک کمی ہوگی جب کہ مالی سال کے آخری چار مہینوں میں ڈالر کی مد میں برآمدات پر 10 فیصد تک اثر پڑے گا۔
حقیقت میں کورونا کے ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات حکومت کے لیے غیر معمولی ہیں، کورونا کے بعد بھی اس کے نتائج اور اثرات کے ازالے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو شدید اقتصادی مسائل اور دباؤ کا سامنا ہوگا، کاروبار ٹھپ جب کہ اجرتی مزدور بیروزگار ہوگئے، صنعتی یونٹوں، فیکٹریز، کارخانوں اور بازاروں میں تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں، زندگی کے معمولات مفلوج ہوکر رہ گئے۔ حالات کی سفاکی اور کورونا کی تباہ کاریوں کا ایک ہلکا سا جائزہ نیو یارک کے میئر کو درپیش صورتحال سے لگایا جاسکتا ہے جو نیو یارک میں اتنی زیادہ تعداد میں اموات پر رو پڑے۔
آنسوؤں کی اس دلگداز داستان کا ملکی باب بھی کم اندوہ ناک نہیں، کورونا کی ناگہانی وبا پوری دنیا کو غمزدہ کرگئی ہے لیکن پاکستان کی معیشت اور غریب و متوسط طبقے کو جن تلخ تجربات کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط سیاسی عزم و حوصلے اور غیر معمولی سٹریٹجی اور شفاف معاشی میکنزم کی ضرورت ہے۔ افسوس ہے کہ ارباب اختیار سیاسی اختلافات اور محدود سیاسی وژن کے باعث اس بڑے بحران سے نکلنے میں اب تک کامیاب نہیں رہے، عوام کو کورونا کے وائرس سے بچاؤ کی تدبیریں ڈھونڈنے میں جتنا وقت لگایا گیا اگر اس سے کم توانائی صرف کی گئی ہوتی اور عوام کو بروقت ریلیف مہیا کردیا جاتا تو کورونا کے عذاب کی شدت عوام کے لیے کبھی چیلنج نہ بنتی کیونکہ عوام نے ہر بڑے چیلنج، ٹاسک اور آزمائش کے وقت بے مثال قومی جذبے، صبر و استقامت، قربانی اور ایثار کا ثبوت دیا ہے۔
کراچی میں کورونا کے ایک مریض نے صحت یابی کے بعد اپنا پلازمہ عطیہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کچھ ہی عرصہ میں تاریخ بن جائے گا لیکن ہماری کوششیں یاد رکھی جائیں گی، ایک پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ثاقب انصاری نے کہا کہ پلازمہ کورونا سے متاثرہ مریضوں کی زندگی بچانے کے کام آئے گا، اجازت ملتے ہی ٹرانسفیوژن شروع کردیں گے۔
کورونا سے نمٹنے کی حکومتی کوششیں بھی کثیر جہتی ہیں، کوشش ہونی چاہیے کہ اس جدوجہد میں قومی جذبہ سرخرو رہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کورونا سے نمٹنے میں سبقت لے گیا، یہ خوشی کی بات ہے مگر ایک وائرس کے خاتمہ میں پوری قوم شامل ہے، ہیلتھ فورس کے تہ در تہ انتظامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کوتاہیوں کو درگزر کرتے ہوئے بہتر حکمت عملی، موثر اقدامات، دور اندیشی پر مبنی فیصلوں سے کورونا کی بساط الٹ سکتی ہے، ضرورت قائدانہ پیش رفت کی ہے۔
لہٰذا ارباب اختیار و سول سوسائٹی کو ساتھ ساتھ چل کر کورونا کو تنہا کرنے کا تاریخی کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ دنیا کو کورونا کے باب میں کئی سبق ملے ہیں، ایک مغربی خاتون میرین بایولوجسٹ ریچل کارسن نے اپنی کتاب Silent Spring خاموش بہار'' میں اس دھرتی کی تباہی کا نوحہ لکھا تھا، اس نے اپنے ممدوح عالمی شہرت یافتہ نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر آلبرٹ شویٹزر کے اس قول سے کتاب کا آغاز کیا تھا کہ آج کے انسان نے دور اندیشی اور پیش بینی کے انسانی وصف کو فنا کردیا ہے، آدمی روئے ارض کی تباہی پر تلا ہے، 50 سال بیت گئے انسان عالمی معیشت کو برباد کرنے والے کورونا وائرس کی شناخت و تفہیم سے محروم ہے، وہ عالمی سیاسی رہنماؤں پر طعنہ زن ہیں جو درست اور بروقت رسپانس نہ دے سکے۔ کتاب کے مطابق سیاستدانوں کی نااہلیت اور زخمی رعونت آج کے دن بے نقاب ہوئی ہے۔
1962 میں لکھی گئی یہ کتاب ایک دکھی دل کی پکار ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ واقعی کورونا کے ہولناک حملے کا خود بھی نشانہ بنے گی، عالمی برادری نے کورونا کے سامنے ہار مان لی، اس نے قائدانہ کردار ادا کرنے کی زحمت بھی نہیں کی، اس کی عالمی توقیر زمین بوس ہوچکی، انتونیو گوتیرس لاکھ بیانات دیں، امداد کی اپیل کریں لیکن ان سے دکھی انسانیت نے کورونا سے بچاؤ کے لیے جس سطح کی مدبرانہ اور بین الاقوامی انسان دوستی کی توقع کی تھی وہ خاک بسر ہوگئی۔ اگر سنجیدہ لوگوں کو عالمی ادارہ صحت کے کردار سے بھی مایوسی ہوئی ہے تو اس میں کوئی خطاوار نہیں، کورونا نے سیاست عالم سے وابستہ اور اسلحہ کی دوڑ میں شامل ممالک کو حیران کردیا ہے۔ دنیا کے پھنے خانوں کے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں۔