جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ دھڑوں میں تقسیم اجلاس اختلافات کی نظر

ایجنڈے پربحث اورکسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم، 2 ارکان نے اجلاس کا واک آئوٹ کیا

ایجنڈے پربحث اورکسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم، 2 ارکان نے اجلاس کا واک آئوٹ کیا۔ فوٹو: فائل

COLOMBO:
جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ کااجلاس منتخب اور گورنرسندھ کے نامزداراکین کے مابین اختلافات کی نظرہوگیا،مسلسل 5 گھنٹے تک ایک ہی نکتے پرنوک جوکھ کے بعد اجلاس ختم کردیا گیا۔

اجلاس کے دوران سینڈیکیٹ کئی دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اوراراکین کے اختلافات اور دھڑے بندی کے بعداجلاس وائس چانسلرکے کنٹرول سے بھی باہرہوگیا، ایجنڈے پربحث اورکسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگیا، سینڈیکیٹ کااجلاس محض گزشتہ اجلاس کی روداد کی توثیق کرسکاتاہم اس پربھی اعتراض کے بعد شیخ الجامعہ کواس معاملے پر کمیٹی بنانے کی سفارش کردی گئی، بعض اراکین کوشعبہ سیاسیات کے اساتذہ کی ترقیوں پراعتراض،بعض اس کی حمایت جبکہ بعض اس معاملے کو صرف سمجھنے ہی کی کوشش کرتے رہے، ہفتہ کوجب جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ کااجلاس شروع ہواتو اجلاس ایک ہی نکتے پربحث کے گرد کئی گھنٹے تک گھومتارہا، اس دوران رکن سینڈیکیٹ سینیٹرعبدالحسیب خان کی منتخب اراکین عاصم علی اورحارث شعیب سے مسلسل نوک جوکھ چلتی رہی، معاملہ اس قدرگھمبیرہوگیاکہ ایک موقع پر سینڈیکیٹ میں اساتذہ نمائندے عاصم علی اجلاس سے احتجاجاً واک آئوٹ کرگئے جبکہ ایک مقام پرسینٹرعبدالحسیب نے بھی اجلاس سے واک آئوٹ کیا۔




اجلاس آگے بڑھاتوشیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر کی سفارش پرگورنرسندھ کے نامزد رکن انیس زیدی نے شدیداعتراض کیا، وہ یہ بھی نہیں سمجھ سکے کہ سینڈیکیٹ میں ان کونامزدکروانے والے شیخ الجامعہ اس معاملے پر مزید بحث نہیں چاہتے بلکہ معاملے کوافہام وتفہیم سے ختم کرناچاہتے ہیں، واضح رہے کہ جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ میں یہ پہلاموقع پرہے، الحاق شدہ کالجوں کے پرنسپلزکی نشست پرایک ریٹائر پروفیسر کو رکن سینڈیکیٹ بنایاگیاہے جبکہ اس سے قبل ریٹائرہونے والے پرنسپلز سینڈیکیٹ کی رکنیت سے خود ہی فارغ ہوجاتے تھے، علاوہ ازیں اجلاس میں انیس زیدی کی جانب سے کیے گئے اعتراضات کوایک اور رکن سینڈیکیٹ انجینئرجبارمیمن نے آڑے ہاتھوں لیااورخود پروفیسرانیس زیدی کے رویے پر شدید تنقید کی جس کے بعد پروفیسرانیس زیدی نے خاموشی میں ہی عافیت جانی، بعدازاں سینڈیکیٹ نے شعبہ سیاسیات میں اساتذہ کی تقرریوں سمیت گزشتہ اجلاس کی پوری روداد کی توثیق کردی جس میں سینڈیکیٹ کو5 گھنٹے کاوقت لگا۔

Recommended Stories

Load Next Story