گھٹن زدہ ماحول میں اردو کانفرنس کا انعقاد تازہ ہوا کا جھونکا ہے
ہمیں اپنی تہذیب نہیں بھولنی چاہیے،آغا سراج، فیصل سبزواری نے منتخب اشعار پیش کیے.
عالمی اردو کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے فیصل سبزواری خطاب کررہے ہیں ڈائس پر اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی، ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار ،انتظار حسین ،شمیم حنفی، حسینہ معین، امینہ سید موجود ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
متحدہ قومی موومنٹ کے سینئررہنماڈاکٹرفاروق ستارنے کہاہے کہ شہرقائدکے گھٹن زدہ ماحول میں عالمی اردوکانفرنس کاانعقادتازہ ہوا کا جھونکا ہے۔
ہجرت کے بعداردوکی ترقی میں کراچی والوں نے اہم کرداراداکیا،ملک میں جاری دہشت گردی کواس طرح کی کانفرنس ختم کرسکتی ہیں جب لوگ ادب کی بات کرینگے موسیقی کی بات کرینگے توخوف خود ہی ذہنوں سے ختم ہوجائیگا،کراچی ماضی میں بھی امن کاگہواراتھاآج بھی ہے، چند شرپسنداس کاامن تباہ کرناچاہتے ہیں جوہم کسی صورت ہونے نہیں دینگے، انھوںنے مزیدکہاکہ سیاست میں دوستی ہوتی ہے یاکٹی ہوتی ہے، دشمنی نہیں ہوتی، زیادہ سے زیادہ ترک تعلق ہوجائے مگردشمنی کی سیاست نہیں ہونی چاہیے، ان خیالات کااظہارانھوں نے گزشتہ شب آرٹس کونسل میں منعقد ہونے والی چھٹی عالمی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب میںکیا، اس موقع پراسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی تہذیب نہیں بھولنی چاہیے، ہماری ثقافتی جڑیں 500 قبل مسیح کی قدیم تہذیب موہن جو دڑو سے جڑی ہوئی ہیں،اردو اسی کا تسلسل ہے،آرٹس کونسل کا6 سال سے بین الاقوامی اردو کانفرنس کا انعقاد اردو کی ترقی اور فروغ کے لیے سود مند ثابت ہورہا ہے۔
اس نوعیت کی کانفرنس کا انعقاد لاڑکانہ میں بھی ہونا چاہیے تاکہ چھوٹے چھوٹے شہروں میں رہنے والے لوگوں کی ملاقاتیں ملک کے نامور شاعروں،ادیبوں اور دانشوروں سے ممکن ہوسکے، اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی، فیصل سبزواری، ممتاز سفر نامہ نگار انتظار حسین، بھارت سے آئے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی،امریکہ سے آئے ہوئے رضا علی عابدی،ڈاکٹر مسعود اشعر، ممتاز ڈرامہ نگار حسینہ معین، آکسفورڈ یونیورسٹی کی امینہ سید، بھارت کے ادیب ستیا پال آنند، ڈاکٹرخورشید رضوی،صدر آرٹس کونسل احمد شاہ، نائب صدر محمود احمد خان، سیکریٹری پروفیسر اعجاز فاروقی بھی اسٹیج پر موجود تھے،تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے انجام دیے، آغا سراج درانی نے مزید کہا کہ اردو ایک قدیم زبان ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں رابطے کی زبان بھی کہلاتی ہے،ان نا مسائد حالات میں اردو کانفرنس کا انعقاد کرنا کسی چیلنچ سے کم نہیں تھا اس کے فروغ اور ترویج کے لیے حکومتی سطح پر بھی کام ہونے چاہیں، پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کراچی میں ایک ہفتے خوابوں کی طرح گذر گیا۔
کانفرنس کے چار دن کبھی فراموش نہیں کر سکوں گا، میں بھارت سے خالی ہاتھ آیا تھا مگر خالی ہاتھ واپس نہیں جارہا ہوں، ادب کے تراش خراش کے لیے اس طرح کی کانفرنس بھی ضرروی ہیں،ممتاز سفر نامہ نگار انتظار حسین نے کہا کہ میں کراچی والوں کو اردو کانفرنس کا زبردست انعقاد کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں یہ کانفرنس دہشت گردی کے موسم میں محبت کا پیغام ثابت ہوئی ہے،اس طرح کی اردو کانفرنس کا ہم لاہور والے ابھی صرف تصور ہی کر رہے ہیں،اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے فیصل سبزواری نے مختلف شعرا کے منتخب اشعار پیش کر کے محفل گرما دیا، حیدر عباس رضوی نے کہا کہ انتظار حسین کی باتیں سن کر میرا سینہ خوشی سے پھول گیا ہے، یہ کانفرنس سال ہا سال بہتر سے بہتر ہوتی جارہی ہے، یہ شہر کراچی دنیا کا عظیم و ادبی ثقافتی شہر ہے، دنیا کی کسی تہذیب کو طاقت کے ذریعے نہیں کچلا جاسکتا، اردو کو کوئی نہیں مار سکتا اور نہ اردو سے وابستہ تہذیب کو کوئی مار سکتا ہے، سیکریٹری آرٹس کونسل پروفیسر اعجاز احمد فاروقی نے تمام مہمانوں کو شکریہ ادا کیا۔
ہجرت کے بعداردوکی ترقی میں کراچی والوں نے اہم کرداراداکیا،ملک میں جاری دہشت گردی کواس طرح کی کانفرنس ختم کرسکتی ہیں جب لوگ ادب کی بات کرینگے موسیقی کی بات کرینگے توخوف خود ہی ذہنوں سے ختم ہوجائیگا،کراچی ماضی میں بھی امن کاگہواراتھاآج بھی ہے، چند شرپسنداس کاامن تباہ کرناچاہتے ہیں جوہم کسی صورت ہونے نہیں دینگے، انھوںنے مزیدکہاکہ سیاست میں دوستی ہوتی ہے یاکٹی ہوتی ہے، دشمنی نہیں ہوتی، زیادہ سے زیادہ ترک تعلق ہوجائے مگردشمنی کی سیاست نہیں ہونی چاہیے، ان خیالات کااظہارانھوں نے گزشتہ شب آرٹس کونسل میں منعقد ہونے والی چھٹی عالمی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب میںکیا، اس موقع پراسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی تہذیب نہیں بھولنی چاہیے، ہماری ثقافتی جڑیں 500 قبل مسیح کی قدیم تہذیب موہن جو دڑو سے جڑی ہوئی ہیں،اردو اسی کا تسلسل ہے،آرٹس کونسل کا6 سال سے بین الاقوامی اردو کانفرنس کا انعقاد اردو کی ترقی اور فروغ کے لیے سود مند ثابت ہورہا ہے۔
اس نوعیت کی کانفرنس کا انعقاد لاڑکانہ میں بھی ہونا چاہیے تاکہ چھوٹے چھوٹے شہروں میں رہنے والے لوگوں کی ملاقاتیں ملک کے نامور شاعروں،ادیبوں اور دانشوروں سے ممکن ہوسکے، اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی، فیصل سبزواری، ممتاز سفر نامہ نگار انتظار حسین، بھارت سے آئے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی،امریکہ سے آئے ہوئے رضا علی عابدی،ڈاکٹر مسعود اشعر، ممتاز ڈرامہ نگار حسینہ معین، آکسفورڈ یونیورسٹی کی امینہ سید، بھارت کے ادیب ستیا پال آنند، ڈاکٹرخورشید رضوی،صدر آرٹس کونسل احمد شاہ، نائب صدر محمود احمد خان، سیکریٹری پروفیسر اعجاز فاروقی بھی اسٹیج پر موجود تھے،تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے انجام دیے، آغا سراج درانی نے مزید کہا کہ اردو ایک قدیم زبان ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں رابطے کی زبان بھی کہلاتی ہے،ان نا مسائد حالات میں اردو کانفرنس کا انعقاد کرنا کسی چیلنچ سے کم نہیں تھا اس کے فروغ اور ترویج کے لیے حکومتی سطح پر بھی کام ہونے چاہیں، پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کراچی میں ایک ہفتے خوابوں کی طرح گذر گیا۔
کانفرنس کے چار دن کبھی فراموش نہیں کر سکوں گا، میں بھارت سے خالی ہاتھ آیا تھا مگر خالی ہاتھ واپس نہیں جارہا ہوں، ادب کے تراش خراش کے لیے اس طرح کی کانفرنس بھی ضرروی ہیں،ممتاز سفر نامہ نگار انتظار حسین نے کہا کہ میں کراچی والوں کو اردو کانفرنس کا زبردست انعقاد کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں یہ کانفرنس دہشت گردی کے موسم میں محبت کا پیغام ثابت ہوئی ہے،اس طرح کی اردو کانفرنس کا ہم لاہور والے ابھی صرف تصور ہی کر رہے ہیں،اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے فیصل سبزواری نے مختلف شعرا کے منتخب اشعار پیش کر کے محفل گرما دیا، حیدر عباس رضوی نے کہا کہ انتظار حسین کی باتیں سن کر میرا سینہ خوشی سے پھول گیا ہے، یہ کانفرنس سال ہا سال بہتر سے بہتر ہوتی جارہی ہے، یہ شہر کراچی دنیا کا عظیم و ادبی ثقافتی شہر ہے، دنیا کی کسی تہذیب کو طاقت کے ذریعے نہیں کچلا جاسکتا، اردو کو کوئی نہیں مار سکتا اور نہ اردو سے وابستہ تہذیب کو کوئی مار سکتا ہے، سیکریٹری آرٹس کونسل پروفیسر اعجاز احمد فاروقی نے تمام مہمانوں کو شکریہ ادا کیا۔