کورونا وائرس قوم استقامت دکھائے

کراچی پاکستان کا معاشی حب ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کا پہیہ بھی رواں دواں رکھتا ہے

کراچی پاکستان کا معاشی حب ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کا پہیہ بھی رواں دواں رکھتا ہے

ہر نیا طلوع ہونے والا دن کورونا وائرس کے حوالے سے درد ناک اموات اور مریضوں کی تعداد میں اضافے کی خبر دیتا ہے۔ پاکستان میں اب تک 54 افراد جاں بحق اور تقریبا چار ہزار اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔ ملک بھر میں اب تک کورونا کے35 ہزار 875 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ صورتحال پریشان کن ہوتی جا رہی ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلاشبہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہیں، لیکن بائیس کروڑ کی کثیر آبادی والے ملک میں صحت کی بنیادی سہولتوں کا پہلے ہی فقدان تھا اور اب نئی صورتحال نے شعبہ صحت میں مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ حکومت کے ساتھ عوام پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ احتیاط کا دامن ہرگز نہ چھوڑیں، ورنہ حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو کسی صورت روکا نہیں جاسکے گا۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ہمیں ایک قوم بن کر لڑنا ہوگا تب ہی ہمیں اس کے خلاف کامیابی ملے گی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں ہم سب کو ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ کورونا کے خلاف جنگ میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ فرنٹ لائن سپاہی ہیں۔ ہمارے لیے بحیثیت قوم یہ بات باعث طمانیت ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاک فوج اپنا بھر پور کردار ادا کررہی ہے۔ وطن عزیز کے معروف سائنسدان ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا ہے کہ کورونا کیسز ایک لاکھ تک جاسکتے ہیں، کیونکہ ہماری وائرس ٹیسٹنگ صلاحیت بہت کم ہے۔ ان کا یہ بیان غور طلب ہونے کے ساتھ ساتھ آنیوالے دنوں کی مشکلات کی نشاندہی بھی کررہا ہے، ملکی سطح پر یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارے پاس اس ضمن میں تربیت یافتہ طبی عملے کی شدید کمی بھی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن کے منعقدہ اجلاس میں بتایا گیا کہ 15اپریل سے صنعتیں کھولنے سے متعلق ایکشن پلان زیر غور ہے، بعدازاں انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے25 ارب روپے آلات اور ادویات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹنگ کی صلاحیت سات سو سے بڑھ کر دو ہزار ہوگئی ہے۔

حکومتی سطح پر اقدامات لائق تحسین سہی لیکن اگر یہ سب کچھ پہلے کرلیا جاتا تو پاکستانی عوام اتنی مشکلات سے دو چار نہ ہوتے۔ ایک جانب کورونا وائرس کے خلاف حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تو دوسری جانب چینی بحران کے معاملے میں وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ایف آئی اے نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے، اکھاڑ پچھاڑ ہوئی ہے، حکومتی سطح پر ہونیوالی اعلیٰ پیمانے کی تحقیقات کے مثبت نتائج قوم کے سامنے ضرور آنے چاہییں تاکہ آئندہ یہ سب کچھ کرنے کی جرات کسی کو نہ ہوسکے۔

کورونا وائرس پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔ انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی قیادت کو متحد ہونے کی ضرورت ہے، پارلیمان کے کردار کو موثر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا، پارلیمانی کمیٹی مانیٹرنگ کرے گی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن کمیٹی میں بھیجی جائیں گی تاکہ جامع حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ بلاشبہ اس مشکل وقت میں سیاسی اتفاق رائے اور قومی یکجہتی کی بہت زیادہ ضرورت ہے، قومی قیادت کو اپنی فہم و فراست سے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم ایک زندہ اور متحد قوم ہیں۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 3800 سے زائد وینٹی لیٹر موجود ہیں۔ 2200 پبلک سیکٹر اور باقی پرائیویٹ سیکٹر کے پاس ہیں، نو اپریل کو مزید پانچ سو وینٹی لیٹر پاکستان پہنچ جائیں گے جب کہ معاون خصوصی صحت ظفر مرزا نے بتایا کہ سرکاری طور پر کورونا ٹیسٹ بالکل مفت کیا جا رہا ہے۔ دس پیتھالوجسٹس پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی ہے جو ٹیسٹ کے حوالے سے تجاویز دے گی۔ حکومتی اقدامات قابل تعریف ہیں چہ جائیکہ ان پرخلوص نیت سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

کورونا وائرس کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان ظاہر کر رہا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کا عمل جاری ہے، گزشتہ ہفتہ حکومت کے معاشی ریلیف پیکیج کے اثرات اور حصص کی قیمتوں میں کمی سے آنے والی تیزی کی لہر برقرار نہیں رہ سکی ہے، مارکیٹ میں پیر کو رونما ہونے والی مندی کی لہر سرمایہ کاروں کے 132 ارب 50 کروڑ روپے لے ڈوبی۔ یہ صورتحال ملکی معیشت کے حوالے نقصان دہ ہے، ہم ایک بڑے معاشی بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں، اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے جلد معاشی وصنعتی سرگرمیاں بحال کی جائیں۔


وفاقی حکومت کے علاوہ تمام صوبائی حکومتیں بھی کورونا وائرس کے خلاف نبردآزما ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت اگلے روز محکمہ زکوٰۃ اور سماجی بہبود کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک لاکھ مستحق خاندانوں کو زکوٰۃ فنڈ سے فی خاندان 12 ہزار روپے دیے جائیں گے، جس پر ایک ارب 20 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ یہ رقوم چھ، چھ ہزار روپے کی دو قسطوں میں ادا کی جائے گی۔

یہ امدادی رقوم صوبائی حکومت کی طرف سے احساس پروگرام کے تحت دیے جانے والے پیکیج کے علاوہ ہیں۔ بلاشبہ غریب طبقے کو اس وقت حکومتی امداد کی اشد ضرورت ہے، اس مستحسن عمل کو شفاف طریقے سے اپنایا جائے تو اس کے مثبت اثرات صوبے کے عوام پر مرتب ہونگے اور ان کی مشکلات میں کمی آئے گی۔ حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتوں کی توسیع کردی ہے جب کہ پنجاب حکومت نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے فیصلے کے تحت صوبہ بھر میں جزوی لاک ڈاؤن میں 14 اپریل تک توسیع کردی ہے۔

لاہور سمیت پنجاب بھر میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن پر عملدرآمد چودھویں روز بھی جاری رہا، شہر میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بدستور بند ہیں، البتہ صرف اشیائے ضروریہ کی دکانیں شام پانچ بجے تک کھلی رکھنے کی اجازت ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ مخیر حضرات راشن کی تقسیم میں لوگوں کے درمیان فاصلہ رکھیں، راشن کی تقسیم سے اگر کورونا وائرس پھیلا تو یہ جرم سمجھا جائے گا، انھوں نے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن کے بعد کام کرنے کیلیے ایس او پی بنا رہے ہیں، ہر سیکٹر میں لوگوں کو بننے والی ایس او پی کے تحت کام کرنا ہوگا۔

کراچی پاکستان کا معاشی حب ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کا پہیہ بھی رواں دواں رکھتا ہے۔ لاک ڈاؤن کے باعث صنعتیں بند ہونے سے مزدور پیشہ طبقے کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آچکی ہے، اس صورتحال کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہوئے صنعتوں کو مرحلہ وار کھول دیا جائے تاکہ کمزور و مجبور محنت کش طبقہ نہ صرف اپنی روزی کما سکے بلکہ ملکی معیشت کو بھی سہارا ملے۔

ملک بھر میں مختلف حکومتی محکموں نے اپنے تمام امور معطل کرتے ہوئے اس وبا کے خلاف اقدامات کو اپنی اولین ترجیح قرار دے رکھا ہے۔ حکومتی امور کی ترجیحات میں اس تبدیلی کے نتیجے میں صوبہ سندھ میں جاری مختلف ترقیاتی اسکیمیں بھی متاثر ہوئی ہیں اور ایسا مستقبل قریب میں کب تک جاری رہے گا، اس حوالے سے ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا کیونکہ صوبائی حکومت کی پوری توجہ اس وبا کے خلاف اقدامات پر ہے۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو جو اقدامات اس وقت تعطل کا شکار ہیں ان میں گندم کی خریداری کا معاملہ بھی شامل ہے جہاں ایک طرف کسانوں کو بے تحاشا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے بلکہ زیادہ تاخیر کی صورت میں صوبے بھر میں آٹے کا بحران اور خوراک کی قلت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

کورونا وائرس کے خلاف اقدامات اہم سہی، لیکن دیگر اہم معاملات کو نظر انداز کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہونگے، لہذا تمام صوبائی حکومتوں پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دیگر معاملات پر بھی توجہ دیں تاکہ صورتحال قابو سے باہر نہ ہو۔ کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے، متاثرہ خاندان میں عباسی شہید اسپتال کی ایک خاتون ڈاکٹر بھی شامل ہیں، تمام متاثرہ افراد کو قرنطینہ کردیا گیا ہے۔

یہ خبر اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود عوام مکمل طور احتیاط نہیں برت رہے ہیں جس کے باعث اس وائرس کے پھیلاؤ کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔ کراچی کے حوالے سے دوسری خبر ہے کہ عزیز آباد پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران پتنگ فروخت کرنے والے 9 افراد کو گرفتار کرکے مقدمات درج کرلیے ہیں۔

پتنگ بازی کے دوران شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعات پر پولیس نے پہلے خریدار بن کر پتنگ اور مانجھا فروخت کرنے والوں کا سراغ لگایا اور بعدازاں چھاپہ مار کارروائی کے دوران انھیں گرفتار کیا۔ لاک ڈاؤن عوام کی جانوں کے تحفظ کے لیے کیا جارہا ہے، لیکن ایک ہم ہیں کہ اسے تفریح کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں اور پتنگ بازی کرکے سنگین غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام میں کورونا وائرس کے خلاف شعور وآگہی پیدا کیا جائے اور اس مہم کو زیادہ موثر انداز میں چلایا جائے تاکہ عوام اپنی زندگیوں سے کھیلنے سے باز آجائیں۔ یہ سوچ اور شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کہ زندگی عطیہ خداوندی ہے اور یہ صرف ایک بار ملتی ہے اس کی قدر کی جانی چاہیے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہماری حکومت لاک ڈاؤن کو طویل مدت تک توسیع نہیں دے سکتی ہے، کیونکہ ملکی معیشت کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔
Load Next Story