معاشی مستقبل کی بھی فکر کیجیے

حکومتی سطح پر شعبہ صحت کے حوالے سے عدم توجہی منظر عام پر آرہی ہے

ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب اختیار وقت کی نزاکت کا ادراک کریں، فوٹو: فائل

عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ کورونا وائرس، پاکستان کی معیشت ہلا دے گا، خسارہ، قرضے ڈالر اور مہنگائی بڑھے گی۔ یہ رپورٹ چشم کشا حقائق اور مستقبل کے منظرنامے کی تصویرکشی کر رہی ہے، ملکی جی ڈی پی گروتھ مزید سکڑنے کے بعد منفی ہوسکتی ہے۔ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان میں ترسیلات زر خلیجی ممالک، امریکا اور برطانیہ سے آتے ہیں جہاں اب مکمل لاک ڈاؤن سے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر کم اجرتی ملازمتوں کے خاتمے کے بعد شہروں سے ملازمین کی بڑی تعداد دوبارہ دیہاتوں کا رخ کرے گی،جس کے باعث یہ خدشہ ہوگا کہ ان میں سے بڑی تعداد دوبارہ غربت کا شکار ہوجائے گی۔ پاکستان میں بھی جیسے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تو تمام چھوٹے بڑے شہروں سے محنت کش طبقہ فوراً اپنے آبائی دیہاتی علاقوں میں منتقل ہوچکا ہے، اگر لاک ڈاؤن میں محدود پیمانے پر حکومت نرمی بھی کردے تو اس بات کی امید بہت کم ہے کہ یہ لوگ واپس شہروں میں آئیں گے اور ملکی صنعتوں کا رک پہیہ مکمل طور پر رواں ہوسکے۔

وزیر اعظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں ریلیف فراہم کریں۔ اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن پر بین الاقوامی برادری سے اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کو تاریخ کی بدترین کساد بازاری کا سامنا ہے اور کوئی بھی ملک اس پر تنہا قابو نہیں پا سکتا۔ اس کے لیے مستحکم اور مربوط عالمی رد عمل کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کا عالمی برادری سے اپیل کرنا درست اور بروقت سہی لیکن اس سچ کو بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ وزیر اعظم ہاؤس کے اندر جو شخص موجود ہے، اس کے اخراجات کا تخمینہ کیا ہے۔

چاروں صوبوں کے گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہوا؟ اور وزرائے اعلیٰ ہاؤسز کے بھاری کم اخراجات بھی تو ملکی معیشت پر بوجھ ہیں، ان کا کیا حل نکالا گیا ہے اب تک۔ حکومتی اخراجات تو خود ملکی خزانے پر بوجھ بنے ہیں ایسے میں اپیل کرنے سے پہلے اپنی اصلاح بھی کرنی چاہیے۔ حالیہ دنوں میں چینی اور آٹا بحران پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد کچھ وزرا کی وزارتیں تبدیل ہوئیں اور چند سینئر بیوروکریٹس کو سائیڈلائن کردیا گیا ہے۔ اس کیس میں شوگر ملوں نے چینی کی پیداوار اور ذخائر سے متعلق اعدادوشمار مہیا کیے۔

حکومت کے پاس ان اعداد وشمار کی تصدیق کرنے کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں تھا۔ اس بحران کے ذمے داروں کے خلاف فوری کارروائی کی بجائے مزید ایک فزانزک رپورٹ کا انتظار کرنا بھی بہت سے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ کورونا وائرس کے بحران کی مدت میں اضافہ ہوا تو اس سے فوڈسیکیورٹی کو خطرہ ہوگا۔ احساس پروگرام کے تحت جو امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے اس میں بھی بعض شکایت منظرعام پر آرہی ہیں اور تاحال فوری امداد کا یہ عمل بھی احسن طریقے سے سرانجام نہیں دیا جارہا ہے۔ اس میں جو بھی خامیاں ہیں انھیں فوری طور پر دور کیا جانا چاہیے۔

ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے، جب کہ اموات سو کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ حکومتی سطح پر تو بلند و بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں لیکن صورتحال یکسر مختلف ہے۔ اگلے روز ملتان کے نشتر اسپتال کے12 ڈاکٹرز اور 6 پیرا میڈکس میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے انھیں آئسولیشن میں بھیج دیا گیا ہے۔ کراچی میں ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال میں ایک ڈاکٹر اور چار پیرا میڈکس کورونا کا شکار ہوئے ہیں۔ متاثرین میں وائرس اسپتال کے باہر سے رابطوں کے ذریعے منتقل ہوا، ایک مریض کو وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا ہے۔ جب مسیحا ہی مناسب طبی حفاظتی سامان نہ ہونے کے سبب اس وائرس کا شکار ہورہے ہیں تو عام آدمی کی حالت زار کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔


چند دن قبل جب ینگ ڈاکٹرز نے کوئٹہ میں کورونا وائرس کے حوالے سے حفاظتی طبی سامان کی عدم دستیابی پر احتجاج کیا تھا تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا تھا، حوالات میں بند رکھا اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ احتجاج کے پس پردہ ''سازش'' تلاش کرتے نظر آئے۔ خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز کورونا وائرس کے خلاف لڑائی کی پہلی صف میں ہیں۔ تاہم وہ حفاظتی سامان و کٹس سے پوری طرح سے لیس نہیں ہیں۔ کے پی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صوبے کی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، لیکن انھیں شکایت ہے کہ حفاظتی سامان، کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافے نے اسے صوبے کی پہنچ سے باہر بنا دیا ہے۔ کے پی کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے اعتراف کیا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے پاس کافی ماسک اور دیگر ضروری طبی سامان نہیں ہیں۔ ہر ایک کو N95 ماسک فراہم کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔

حکومتی سطح پر شعبہ صحت کے حوالے سے عدم توجہی منظر عام پر آرہی ہے یہ صورتحال انتہائی الارمنگ ہے کہ کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کو ڈاکٹر ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا کہہ دیا ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سمجھ میں نہیں آرہی،کس قسم کی ٹیم کورونا پر کام کررہی ہے، اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ اس موقعے پر ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹانا خطرناک ہوگا، ان پر کیسز کی تحقیقات ہورہی ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کچھ نہیں کررہی، بس وزیروں، مشیروں کی فوج ظفر موج پال رکھی ہے، ملک کی صنعتیں بند ہیں، انڈسٹری بیٹھ گئی ہے، گزشتہ30 سال سے انڈسٹری پر توجہ نہیں دی گئی، ہاکس بے پر گودام بنے ہوئے ہیں۔ اعلیٰ حکومتی عہدیداران پر سنجیدہ الزامات ہیں، ظفر مرزا کس حد تک شفاف ہیں کچھ نہیں کہہ سکتے جب کہ معاونین خصوصی کی پوری فوج جن کے پاس وزراء کے اختیارات ہیں اور کئی کابینہ ارکان پر جرائم میں ملوث ہونے کے مبینہ الزامات ہیں۔

دوسری جانب تاجر تنظیموں نے بھی حکومت سے ملکی معیشت کو بچانے کے لیے فوری طور پر معیشت بچاؤ پیکیج کا اعلان کرنے کا مطالبہ کردیا اور آرمی چیف سے مدد کے لیے رجوع کرلیا، مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو خط لکھ دیا جس میں درخواست کی گئی ہے کہ قومی مشکل کے وقت افواج پاکستان آگے بڑھ کر قومی حکمت عملی کی تشکیل اور معیشت کو درپیش مسائل کو حل کروائیں۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران کو لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے توسیع کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کو دوبارہ کھڑا کرسکتے ہیں مگر انسان کو دوبارہ زندگی نہیں دے سکتے۔ وزیراعظم لاک ڈاؤن توسیع پر قومی اتفاق رائے سے آگے بڑھ کر اعلان کریں۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر نہیں ہیں۔ وفاقی وزراء سندھ حکومت پر برس رہے ہیں جب کہ صوبائی وزراء وفاق کو صورتحال کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں عوام بری طرح پس رہے ہیں۔ کراچی کے علاقے گلشن اقبال کی یوسی آٹھ اور نو ریڈ زون قرار دے دیا گیا ہے۔

سندھ میں کورونا وائرس کے کیسوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہورہا ہے جب کہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف حفاظتی طبی سامان سے محروم ہونے کی وجہ اس مرض کا شکار ہورہا ہے۔ سول اسپتال کراچی میں ایک ڈاکٹر اور چار پیرا میڈیکس کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف لاک ڈاؤن کے باعث ملک میں ڈیزل کی شدید قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ درآمد پر پابندی کی وجہ سے ڈیزل کا ایک ہفتے کا ذخیرہ رہ گیا ہے۔ ڈیزل کی قلت ایک اور نئے بحران کو جنم دے گی۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا موجودہ پورٹ فولیو 10 ارب ڈالر کے قریب ہے جس میں سے سست روی سے جاری پراجیکٹ کے بجائے کورونا وائرس سے لڑنے پر توجہ مرکوز ہوسکتی ہے جس کی خاطر مزید اضافی وسائل بھی ڈھونڈے جاسکتے ہیں۔ ورلڈ بینک نے تجویز دی ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی عالمی وبا سے بڑھتی ہوئی اموات اور عالمی معیشت کو نقصان کے پیش نظر جنوبی ایشیائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کریں۔ اپنی عوام اور بالخصوص غریب شہریوں اور زیادہ خطرے کے حامل افراد کی زندگیاں بچائیں اور معیشت کی تیزی سے بحالی کی راہ ہموار کریں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب اختیار وقت کی نزاکت کا ادراک کریں، عوام سخت اضطراب اور شدید معاشی مسائل کا شکار ہیں، بھوک اور بیچارگی بڑھی جارہی ہے، اور کوئی ایسی اجتماعی دانش اور حکمت عملی نظر نہیں آرہی جس میں امید کی روشنی تاریک سرنگ کے آخری حصے میں نظر آرہی ہو،لہٰذا جو بھی فیصلے ہوں وہ ملک و قوم کے عظیم تر مفاد میں ہوں اور عوام کو کورونا سے نجات کی کوئی دائمی نوید ملے، فیصلوں کے صائب ہونے کے انتظار میں مزید وقت ضایع نہ ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام دن میں 20بار ہاتھ دھونے کی کوشش میں ہاتھ ملتے نہ رہ جائیں۔
Load Next Story