عالمی بینک نے نئے ترقیاتی فنڈز ٹیکس چھوٹ واپس لینے سے مشروط کر دیے
برآمدی شعبوں پرٹیکس عائد،رعایتوں واستثنیٰ کیلیے ایس آراوکے بجائے پارلیمنٹ سے منظوری.
ورلڈبینک نے پالیسی ڈرافٹ بھیج دیا، وزارت خزانہ سے مسودہ متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کو ارسال، عالمی ادارے سے معاملات طے کرنے کیلیے آرا طلب کرلیں فوٹو : فائل
عالمی بینک نے پاکستان کوڈیری مصنوعات اور گوشت کی مصنوعات کے علاوہ ٹیکسٹائل، لیدر، گارمنٹس سمیت 5 ایکسپورٹ اورینٹڈ شعبوں کو دی جانے والی زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم کرنے کی تجویز دیدی ہے جبکہ وزارت خزانہ نے متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں سے عالمی بینک کی مجوزہ شرائط کے بارے میں 5 دسمبر تک آرا اور فیڈ بیک طلب کر لیا ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان کو معاشی ترقی، سرمایہ کاری ماحول اور مسابقت کے فروغ کے حوالے سے پالیسی ریفارمز کے لیے پاکستان کو نیا قرضہ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور اس نئے قرضے کے لیے عالمی بینک نے نظر ثانی شدہ پالیسی ڈرافٹ وزارت خزانہ کو بھجوایا ہے جو وزارت خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس ونگ نے ایف بی آر سمیت دیگر متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کو آرا اور فیڈ بیک کے لیے بھجوا دیا ہے۔ دستاویز کے مطابق عالمی بینک کی طرف سے پاکستان کو نیا قرضہ فراہم کرنے کے لیے تجویز دی ہے کہ ریونیو بڑھانے کے لیے مذکورہ شعبوں پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ واپس لینے کے علاوہ مخصوص ایس آر اوز کے ذریعے سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی میں دی جانیوالی رعایت و چھوٹ بھی واپس لی جائیں۔
دستاویز کے مطابق عالمی بینک نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ ایس آر اوز کے ذریعے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں چھوٹ دینے کا اختیار ختم کیا جائے اور اگر ڈیوٹی و ٹیکس چھوٹ ضروری ہو تو اس کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری کو لازمی قرار دیا جائے ورنہ ٹیکسوں میں کسی قسم کی کوئی رعایت نہ دی جائے۔ دستاویز میں کہا گیاکہ عالمی بینک نے پاکستان پر زور دیاکہ ٹیکس چھوٹ اور رعایت واپس لینے کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ جو ٹائم فریم طے ہوا ہے اسی ٹائم فریم میں ان رعایتوں اور چھوٹ کو واپس لیا جائے تاکہ ریونیو میں جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے برابر اضافہ ہوسکے۔ دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ نے عالمی بینک کی طرف سے موصول ہونے والے مسودے کی کاپی متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کو بھجوائی ہے جس میں نئے قرضے کے لیے عالمی بینک کی مجوزہ شرائط کے بارے میں آرا اور فیڈ بیک طلب کیا گیا ہے تاکہ اس کی روشنی میں عالمی بینک حکام کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان کو معاشی ترقی، سرمایہ کاری ماحول اور مسابقت کے فروغ کے حوالے سے پالیسی ریفارمز کے لیے پاکستان کو نیا قرضہ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور اس نئے قرضے کے لیے عالمی بینک نے نظر ثانی شدہ پالیسی ڈرافٹ وزارت خزانہ کو بھجوایا ہے جو وزارت خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس ونگ نے ایف بی آر سمیت دیگر متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کو آرا اور فیڈ بیک کے لیے بھجوا دیا ہے۔ دستاویز کے مطابق عالمی بینک کی طرف سے پاکستان کو نیا قرضہ فراہم کرنے کے لیے تجویز دی ہے کہ ریونیو بڑھانے کے لیے مذکورہ شعبوں پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ واپس لینے کے علاوہ مخصوص ایس آر اوز کے ذریعے سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی میں دی جانیوالی رعایت و چھوٹ بھی واپس لی جائیں۔
دستاویز کے مطابق عالمی بینک نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ ایس آر اوز کے ذریعے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں چھوٹ دینے کا اختیار ختم کیا جائے اور اگر ڈیوٹی و ٹیکس چھوٹ ضروری ہو تو اس کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری کو لازمی قرار دیا جائے ورنہ ٹیکسوں میں کسی قسم کی کوئی رعایت نہ دی جائے۔ دستاویز میں کہا گیاکہ عالمی بینک نے پاکستان پر زور دیاکہ ٹیکس چھوٹ اور رعایت واپس لینے کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ جو ٹائم فریم طے ہوا ہے اسی ٹائم فریم میں ان رعایتوں اور چھوٹ کو واپس لیا جائے تاکہ ریونیو میں جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے برابر اضافہ ہوسکے۔ دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ نے عالمی بینک کی طرف سے موصول ہونے والے مسودے کی کاپی متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنوں کو بھجوائی ہے جس میں نئے قرضے کے لیے عالمی بینک کی مجوزہ شرائط کے بارے میں آرا اور فیڈ بیک طلب کیا گیا ہے تاکہ اس کی روشنی میں عالمی بینک حکام کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھایا جا سکے۔