ایف بی آرنے موٹرسائیکل پرزوں پر5فیصدڈیوٹی رعایت ختم کردی

1سال چھوٹ،پھرنظرثانی کافیصلہ ہواتھا،حکومتی جائزے کے بغیرڈیوٹی10سے 15فیصدکر دی گئی

کمپوننٹس سمیت اہم پرزوں کی کلیئرنس رک گئی،موٹرسائیکلیں مہنگی ہو جائینگی،ذرائع فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وفاقی حکومت کی جانب سے موٹرسائیکل انڈسٹری کو دی جانے والی سہولت ایس آر او کی مدت کے خاتمے کے بعد ازخود معطل کردی ہے جس سے موٹرسائیکلوں کے پرزہ جات کی کلیئرنس رک گئی۔

موٹرسائیکل انڈسٹری کے تحفظ کیلیے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اکتوبر 2012میں درآمدی ڈیوٹی 15 سے کم کرکے 10فیصد کی تھی اور ایک سال بعد اس پر نظرثانی کا فیصلہ کیاتھا تاہم ایف بی آر نے مذکورہ سہولت کیلیے جاری کردہ ایس آر او کی مدت 30نومبر کو ختم ہونے پر حکومتی نظرثانی کی ضرورت محسوس کیے بغیر درآمدی ڈیوٹی بڑھا کر 15فیصد کر دی جس کے نتیجے میں موٹرسائیکلوں کے درآمدی پرزہ جات کے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس رک گئی۔




پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کے نام ہنگامی مراسلے میں کہا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے مذکورہ سہولت کے لیے ایس آر او کی مدت ایک سال مقرر نہیں کی گئی بلکہ اس سہولت پر ایک سال بعد نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا جو بروقت نہ ہوسکا، ایسوسی ایشن نے ایف بی آر پر واضح کیا ہے کہ ایس آر او کی مدت 30نومبر تک قرار دینا اور یکم دسمبر سے ڈیوٹی کی شرح 15 فیصد کرنا اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی روح کے منافی ہے، ایسوسی ایشن نے انڈسٹری کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ایس آر او میں درج ایک سال کی مدت کے الفاظ حذف کرکے فوری طور پر نیا نوٹیکفیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر انڈسٹری ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ڈیوٹی سے متعلق ایس آر او میں ابہام دور کرکے سہولت بحال نہ کی گئی تو اضافی ڈیوٹی قیمتوں میں 3 ہزار سے 4ہزار روپے اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
Load Next Story