کورونا سے متعلق اہم سوالات

لوگ احتیاط نہیں کررہے، جس کی وجہ سے وبا تیزی سے پھیل رہی ہے

لوگ احتیاط نہیں کررہے، جس کی وجہ سے وبا تیزی سے پھیل رہی ہے

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفرمرزا نے کہا ہے کہ آیندہ تین سے چارہفتے پاکستان کے لیے مشکل ہیں،گذشتہ چوبیس گھنٹے میں سب سے زیادہ اموات اور مریض سامنے آئے ہیں ، ہم سب کو زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا،کورونا کی وبا سے بچنے کے لیے آگاہی نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ احتیاط نہیں کررہے، جس کی وجہ سے وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، رمضان میں ذمے داری کا مظاہرہ کیا توکورونا کم پھیلے گا۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو این سی او سی کے دورہ میں بریفنگ دی گئی،کورونا کے خلاف قومی کاوش میں فوج کا اہم کردار ہے۔ رواں ماہ کے آخر تک 20 ہزارٹیسٹ یومیہ کی صلاحیت حاصل کرلیں گے۔

اس وقت بلاشبہ پوری قوم کی دعا ہے کہ کورونا وائرس سے ملک کی جان چھوٹے، چین سے ویکسین کی نعمت ملنے کی قوم کو خوشخبری مل چکی، ویکسین کے استعمال کے لیے چار ماہ ابھی انتظارکرنا پڑے گا، ملک بھر میں کورونا متاثرین 10ہزارسے بڑھ گئے، 222 اموات ہوگئیں،2334 صحت یاب ہوگئے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن سخت کیا جائے کورونا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں کمی لانے کی موثرکوششوں کی مزید ضرورت ہے۔

طب کی دنیا کے لیے سب سے بنیادی سوال لاک ڈاؤن پر ثابت قدمی سے قائم رہنا ہے مگر بپھرے ہوئے لوگ جنھیں غربت، بیروزگاری اورغیر یقینی صورتحال نے جذباتی اور اعصابی طورپر نڈھال کر دیا ہے وہ سڑکوں پرآگئے ہیں، ایک بین الاقوامی معاشی اضطراب بڑھتا چلا جا رہا ہے،گلوبلائزیشن نے رابطے پیدا کردیے ہیں۔کورونا پر ہونے والی تحقیق، اسپتالوں میں لگنے والی بھیڑ، مریضوں کے لیے وینٹیلیٹرز اور دیگر آلات کی کمی نے بڑے بحران کو جنم دیا ہے، ایسے واقعات جنم لے رہے ہیں کہ مستحکم صحت کے نظام دھڑام سے گرنے لگے ہیں، جاپان کا ہیلتھ سسٹم شفافیت میں اعلیٰ مقام پر تھا اور ہر شک سے بالاتر۔ برطانیہ اور امریکاکے نظام ہائے صحت پرکسی کی دو رائے نہیں تھی مگرکورونا وائرس نے سب پرجھاڑو پھیردی۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا جانے کے کے لیے نہیں آیا ، وہ رہنے پربضد ہے، لوگ کسی غلط فہمی میںنہ رہیں، لاک ڈاؤن پر یقین رکھیں، حکومتی ایس او پیزکی پابندی کریں،ڈبلیو ایچ اوکے اس انتباہ کے مطابق دنیا میں اموات ایک لاکھ82 ہزار تک پہنچ چکی ہیں، جاپان میں ہیلتھ نظام پرکسی کو شک نہ تھا، لیکن 8 شیرخوار جاپانی بچوں میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔آج نیویارک ،اٹلی، اسپین سمیت یورپ کے کئی ملکوں کے سماجی اورمعاشی حالات دگرگوں ہیں،جسے دیکھتے ہوئے کورونا کو مکافات فطرت کا نام دیا جاسکتا ہے، بنیادی طور پرکورونا کے بارے میں عجیب وغریب تاویل، تبصرے اورافواہوں کا سلسلہ چل رہا ہے، مغرب میں تو ابھی اس بات پر تحقیق ہونے لگی ہے کہ 2030 میں چین کا بدنام زمانہ ''سارس Cov -3 پھر سر اٹھائے گا۔

مختلف ملکوں میں ڈاکٹروں، ماہرین اور عوام کی رائے یکساں نہیں، بعض عناصرکا کہنا ہے کہ کورونا ایک معمہ ہے، سندھ میں اتنی تیزی سے ممکنہ ہلاکتوں پر رائے قائم کی جاتی ہے کہ وفاق کوکم ازکم لاک ڈاؤن پر اپنی پالیسی میں استقامت لانے کے لیے ہفتوں گزر جاتے ہیں، اتفاق رائے کا شدید فقدان ہے، تاجرآج سے دکانیں کھولنے کی دھمکی دے چکے ہیں، وزیر اعظم کی خواہش ہے کہ لاک ڈاؤن ضرور ہو مگرہلاکتیں نہ ہوں،لوگ غربت سے نہ مر جائیں۔ اس صائب انداز نظر پر ہٹ دھرمی کی نہیں ، ایک نتیجہ خیز قومی بیانیے کی ضرورت ہے مگر افسوس ہے کہ سیاسی کشیدگی، بلیم گیم، بے اعتمادی اور شکوک وشبہات کے گورکھ دھندے میں کورونا پر ایک غیر متزلزل پالیسی بنانے کی بات ایں خیال است ومحال است وجنوں سے آگے نہیں بڑھتی۔

خدا نہ کرے ملکی مافیا، مفاد پرست عالمی گروہ یا بین المملکتی داستان گو کورونا وائرس کو اکیسویں صدی کی سب سے مہیب وبائی داستان سے جوڑ دیں۔ابھی اس بات کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کورونا کہیں کاروبارکی شکل اختیار نہ کر لے، جاری ملکی سیناریوں میں کوئی بات ناممکن نہیں، مافیازکوکیفرکردار تک پہنچانے کی باتیں تو ہو رہی ہیں۔ صدر مملکت سے منسوب اس بیان پر سوچنا چاہیے کہ وزیر اعظم کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں، مگر نظام کی پیچیدگیوں میں پھنس جاتے ہیں۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ بجلی گھپلوں کی رپورٹ ابھی یک طرفہ ہے، مافیاؤں کے ذریعے اس قوم کے ساتھ زیادتی نہیں اجتماعی زیادتی ہوئی ہے۔ یہ خوش آئند پیش رفت ہے کہ ای سی سی کے اجلاس میں بیروزگار مزدوروں اور دہاڑی داروں کے لیے 75 ارب کی منظوری دی جاچکی ہے۔


سچ تو یہ ہے کہ پاکستان اور چینی صوبہ ووہان سے کورونا کے سدباب اورلاک ڈاؤن کے خاتمہ کا تقابل کرنا دشوار ہے کیونکہ صحت حکام اس نکتہ پر متفق نہیں ہوسکے ہیں کہ دو ماہ گزرنے کے باوجود کورونا کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھنے کو تیار نہیں۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان میں انفیکشن کنٹرول اوراس کی روک تھام کے لیے مناسب سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں بیماریوں کا دباؤ دو سے تین گنا زیادہ ہے۔

کورونا کی وبا کے بعد ملک میں میڈیکل یونیورسٹی میں تدریس اور شعبہ صحت میں سرمایہ کاری کے معیارات مختلف ہو جائیں گے۔ آیندہ نسلوں کے لیے اس وبا کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمیں اسی کے مطابق اپنے صحت کے شعبے کو از سر نو تشکیل دینا چاہیے۔ وبائی امراض کے بعد ترقی پذیر ممالک میں صحت کے شعبے کبھی بھی موجودہ نظام جیسے نہیں ہوں گے۔ عوامی صحت کے شعبے اور وبا کی روک تھام سے متعلق امور پر پوری تاریخ میں کبھی بھی توجہ نہیں دی گئی، جس طرح اب دی جا رہی ہے۔آیندہ چند برس میں میڈیکل انڈسٹری، وزارت صحت سمیت تمام ایسے شعبہ جات جو طب سے وابستہ ہیں ان کی ساخت میں تبدیلی آئے گی ،جس کے مثبت ثمرات ہماری آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

ماہرین صحت اور طبی تنظیموںنے ملک بھر میں سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے ہوئے علمائے کرام سے درخواست کی ہے کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں، انھوں نے کہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن میں نرمی برقرار رہی تو صورتحال مزید بگڑجائے گی، گزشتہ چار دنوں میںکیسزکی شرح میں40 فیصد اضافہ ہواہے، اسپتالوں میں بستروںکی کمی ہے، ایسا نہ ہوکہ مریضوںکا علاج سڑکوں پرکرنا پڑجائے۔ ان خیالات کا اظہارانڈس اسپتال کے سی ای او پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کراچی کے صدر ڈاکٹر عظیم الدین، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد، معروف ماہر امراض پیٹ ومعدہ ڈاکٹر سعد نیاز خالد، پیماکے سابق صدر ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی ودیگر نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ کراچی میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو رپورٹ ہوا، 14 اپریل کو لاک ڈاؤن کا فیصلہ ہوا، لاک ڈاؤن نرم ہوا تو کیسز میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ، ڈاکٹرز بھی کورونا کا شکار ہونے لگے ہیں، پانچ دنوں میں مریضوں میں40 فیصد اضافہ ہوا ہے، ماہرین سمجھتے ہیں کہ کورونا کیسز میں مزید اضافہ ہوگا، اگر مریض بڑھ گئے تو ہمارے پاس اسپتالوں میں بستر نہیں ہونگے، اگلے دو یا چار ہفتوں میں کیسز مزید بڑھیںگے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاق اور سندھ حکومت کے مابین لاک ڈاؤن کی یکساں پالیسی اب بھی لاگو نہ ہوئی تو اندیشے حقیقت کا روپ دھار لیں گے، ہلاکتیں بڑھ جائیں گی، اگر صورتحال سے مفر ممکن نہیں تو حکمران ریاستی رٹ قائم کیوں نہیں کرتے،اگر ووہان کو سخت ترین لاک ڈاؤن سے ہی نجات ملی، تو ہماری حکومت ایسا ہی نجات دہندہ بننے کے لیے پیش رفت سے گریزاں کیوں ہے، یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر لاک ڈاؤن نظام صحت سمیت کورونا کے مریضوں کو بڑھاوا دینے کا بنیادی سبب بن سکتا ہے۔

ارباب اختیارکو اس تھیوری پر بھی غورکرنا چاہیے جس میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فلو سے عمومی ہلاکتوں کا جائزہ لیا جائے تو ان ہلاکتوں کی شرح کے مقابلہ میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم ہے، ملک میں مختلف امراض میں ہلاکتوں کی سالانہ اور یومیہ شرح کے مکمل ڈیٹا کو پبلک کرنے کا مطالبہ بھی قابل غور ہے، عوامی رائے ہے کہ کیا کورونا کی آمد کے بعد پاکستان کے شہری ودیہی علاقوں میں دوسرے مریضوں کی ہلاکتیں رک گئی ہیں؟ چنانچہ سندھ سمیت تمام صوبوں کو ممکنہ ہلاکتوں کے خطرہ کے پیش نظر ایک متفقہ لاک ڈاؤن پالیسی بنا لینی چاہیے، مگر اس سے زیادہ توجہ کابینہ میں توسیع پر ہے، سنا ہے اتحادی وزارتیں مانگ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق لیاری جنرل اسپتال نوگو ایریا بنا ہوا ہے، عام مریض خوف کے مارے اسپتال میں داخل ہونے کے لیے تیار نہیں۔دوسری طرفHerd Immunity کی اصطلاح بھی مستعمل ہے جس کا مطلب مریض میں مرض کے خلاف مدافعتی قوت اورگروہی استثنیٰ کی فطری صلاحیت کا ہونا ہے،لیکن ضرورت ایک اجتماعی طبی میکنزم ، مربوط لائحہ عمل اور قومی جوش وجذبہ کی ہے جس میں پوری قوم کورونا سے نمٹنے کے لیے جان لڑانے پر تیارہوجائے۔
Load Next Story