کپاس کی پیداوار1کروڑ10لاکھ گانٹھ سے تجاوز کرگئی

30 نومبرتک کپاس کی پیداوار میں سال بہ سال 15.27 فیصد کا اضافہ،پنجاب 14.5، سندھ 17 اور بلوچستان کی فصل 18 فیصد بہتررہی

ٹیکسٹائل ملز نے 87 لاکھ 29 ہزار گانٹھیں خریدیں، 2 لاکھ74 ہزار برآمد،20 لاکھ 41 ہزار بیلز روئی کے ذخائر موجود ہیں، پی سی جی اے۔ فوٹو: فائل

کپاس کی پیداوار 30 نومبر تک 1کروڑ 10 لاکھ 45ہزار 341 گانٹھ تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 15.27 فیصدزائد ہے۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے کاٹن بیلٹ میں 14.54 فیصد کے اضافے سے 75لاکھ 65ہزار 861 گانٹھوں کے برابر پھٹی کاٹن فیکٹریوں میں پہنچی جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 66لاکھ 5ہزار379 گانٹھ کپاس آئی تھی، 30 نومبر تک سندھ میں کپاس کی پیداوار 16.87فیصد بڑھ کر 34لاکھ 79ہزار 480 گانٹھ تک پہنچ گئی، گزشتہ سال کے اسی عرصے میں پیداوار 29لاکھ 77ہزار 181 گانٹھ رہی تھی۔




جبکہ بلوچستان کی جننگ فیکٹریوں میں 17.78 فیصد کے اضافے سے 56 ہزار64 گانٹھوں کے برابر پھٹی پہنچی۔ اعداد و شمار کے مطابق 30 نومبر تک جننگ فیکٹریوں میں 1 کروڑ 2لاکھ 61 ہزار 11گانٹھ روئی تیار کی گئی، ٹیکسٹائل سیکٹر نے 87 لاکھ 29 ہزار 136 گانٹھ روئی خریدی، برآمد کنندگان نے2لاکھ 74 ہزار 374 بیلز روئی خریدی جبکہ 30 نومبر تک 20لاکھ 41 ہزار 831 گانٹھ روئی کے غیر فروخت شدہ ذخائر ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں موجود تھے۔ پی سی جی اے کے مطابق ملک بھر میں فی الوقت 1075 جننگ فیکٹریوں چل رہی ہیں جس میں سے 840 فیکٹریاں پنجاب اور 235 سندھ میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Load Next Story