محکمہ صحت سرکاری اسپتالوں کوملنے والے عطیات کی نگرانی کا فیصلہ
سرکاری اسپتالوں میں عطیات جمع کرنےکےعمل کو قانونی بنایا جائے گا،مخیر حضرات اور ادارے عطیات دیکر محکمہ صحت کو آگاہ کریں
حکومت غریب مریضوں کے لیے سرکاری اسپتالوں کوکروڑوں روپے فراہم کرتی ہے۔ فوٹو : ایکسپریس/فائل
محکمہ صحت نے سرکاری اسپتالوں میں شہریوں اور اداروں کی جانب سے دیے جانے والے عطیات کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری اسپتالوں میں عطیات جمع کرنے کے عمل کو قانونی شکل دی جارہی ہے اور اس سلسلے میں قانون بھی وضع کیا جارہا ہے کہ مخیر حضرات اور ادارے جب سرکاری اسپتالوں کو عطیات دیں تو محکمہ کو ضرور مطلع کریں تاکہ ان عطیات کی نگرانی اور جانچ پڑتال کی جاسکے یہ بات سیکریٹری صحت اقبال دررانی نے منگل کو قومی ادارہ صحت برائے اطفال کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں کہی اس موقع پر اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر جمال رضا، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈومکی سمیت دیگر ماہرین اورمخیر حضرات بھی موجود تھے، سیکریٹری صحت اقبال دررانی نے کہاکہ محکمہ کے ماتحت اسپتالوں میں صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے عوام کو بہتر علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جارہی سرکاری اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو علاج کی تمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔
بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی انھوں نے کہا کہ محکمہ صحت حساس محکمہ ہے جہاں انسانی زندگیوں کی بہتر خدمت کی جاسکتی ہے سرکاری اسپتالوں کے سربراہوں اوردیگر عملے کو متنبہ کرتے ہوئے انھوں کہا کہ کسی بھی سرکاری اسپتال سے ملنے والی شکایات پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی سرکاری اسپتالوں کی نگرانی اورکارکردگی کا جائزہ لیاجارہا ہے، حکومت غریب مریضوں کے لیے سرکاری اسپتالوں کوکروڑوں روپے فراہم کرتی ہے لیکن بعض اسپتالوں میں بہتر خدمات فراہم نہیں کی جارہی بیشتر سرکاری اسپتالوں کے شعبے غیر فعال ہیں انھوں نے کہا کہ ان غیر فعال شعبوں کو فعال بنایا جائے اور نامکمل منصوبوں کو بھی مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے محکمہ صحت کو پبلک پارٹنر شپ کی ضرورت ہے انھوں نے مخیر حضرات سے بھی کہا کہ غریب مریضوں کے علاج کے لیے محکمہ کا ساتھ دیں تاکہ غریب مریضوں کو صحت کی تمام سہولتوں کو یقینی بنایاجاسکے، ملک میں مخیرحضرات کی کمی نہیں۔
سرکاری اسپتالوں میں عطیات جمع کرنے کے عمل کو قانونی شکل دی جارہی ہے اور اس سلسلے میں قانون بھی وضع کیا جارہا ہے کہ مخیر حضرات اور ادارے جب سرکاری اسپتالوں کو عطیات دیں تو محکمہ کو ضرور مطلع کریں تاکہ ان عطیات کی نگرانی اور جانچ پڑتال کی جاسکے یہ بات سیکریٹری صحت اقبال دررانی نے منگل کو قومی ادارہ صحت برائے اطفال کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں کہی اس موقع پر اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر جمال رضا، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈومکی سمیت دیگر ماہرین اورمخیر حضرات بھی موجود تھے، سیکریٹری صحت اقبال دررانی نے کہاکہ محکمہ کے ماتحت اسپتالوں میں صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے عوام کو بہتر علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جارہی سرکاری اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو علاج کی تمام سہولتیں فراہم کی جائیں۔
بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی انھوں نے کہا کہ محکمہ صحت حساس محکمہ ہے جہاں انسانی زندگیوں کی بہتر خدمت کی جاسکتی ہے سرکاری اسپتالوں کے سربراہوں اوردیگر عملے کو متنبہ کرتے ہوئے انھوں کہا کہ کسی بھی سرکاری اسپتال سے ملنے والی شکایات پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی سرکاری اسپتالوں کی نگرانی اورکارکردگی کا جائزہ لیاجارہا ہے، حکومت غریب مریضوں کے لیے سرکاری اسپتالوں کوکروڑوں روپے فراہم کرتی ہے لیکن بعض اسپتالوں میں بہتر خدمات فراہم نہیں کی جارہی بیشتر سرکاری اسپتالوں کے شعبے غیر فعال ہیں انھوں نے کہا کہ ان غیر فعال شعبوں کو فعال بنایا جائے اور نامکمل منصوبوں کو بھی مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے محکمہ صحت کو پبلک پارٹنر شپ کی ضرورت ہے انھوں نے مخیر حضرات سے بھی کہا کہ غریب مریضوں کے علاج کے لیے محکمہ کا ساتھ دیں تاکہ غریب مریضوں کو صحت کی تمام سہولتوں کو یقینی بنایاجاسکے، ملک میں مخیرحضرات کی کمی نہیں۔