کورونا وائرس کی شدت میں اضافے کا خدشہ

یہ وائرس ایک بھیانک حقیقت ہے، نہ جانے ہماری قوم اب تک اس مسئلے پر سنجیدہ کیوں نہیں ہوسکی ہے

یہ وائرس ایک بھیانک حقیقت ہے، نہ جانے ہماری قوم اب تک اس مسئلے پر سنجیدہ کیوں نہیں ہوسکی ہے

وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید 9 مئی تک توسیع کا فیصلہ کیا ہے،کیونکہ صورت حال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے، کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد گیارہ ہزار سے زائد جب کہ جاں بحق افرادکی تعداد ڈھائی سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ بقول وفاقی وزیر اسد عمر رمضان کا مہینہ کورونا وائرس کے حوالے سے فیصلہ کن مہینہ ہے، اگر ہم نے بے احتیاطی کی تو ہوسکتا ہے کہ عید پر ہمیں مزید بندشیں لگانی پڑجائیں، انھوں نے کہا کہ57 لاکھ خاندانوں میں 69 ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ حکومت بلاشبہ اپنے عوام کے لیے فکرمند ہے اور اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر فیصلے ہورہے ہیں۔

ادھر وزیراعظم عمران خان نے سمندر پار پاکستانی ڈاکٹرزکی رضاکارانہ رجسٹریشن کے لیے ''یاران وطن'' کے نام سے ایک پلیٹ فارم بنانے کا اعلان کیا ہے، اس طرح باآسانی بیرون ملک مقیم ڈاکٹرز بھی پاکستان کے لیے رضاکارانہ طور پر خدمات سرانجام دے سکتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے اپنے ٹویٹر بیان میں کہا کہ کورونا کے خلاف جہاد میں پاکستانی طبی ماہرین اگلے محاذوں پر سرگرم ہیں اور وہ اس بیماری کے انسداد کے لیے ہمارا ہاتھ بھی بٹانا چاہتے ہیں، یہ فیصلہ قابل تعریف ہے۔ لاک ڈاؤن میں وزیراعظم کی جانب سے مزید نرمی کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے، اب یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ ہدایات پر کتنا عمل کرتے ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں اس وائرس کے نتیجے میں دو لاکھ کے قریب اموات ہوچکی ہے۔

یہ وائرس ایک بھیانک حقیقت ہے، نہ جانے ہماری قوم اب تک اس مسئلے پر سنجیدہ کیوں نہیں ہوسکی ہے، لاک ڈاؤن میں ذرا سی بھی نرمی کی جائے تو پبلک مقامات اوراشیائے خورونوش کی خریداری کرتے ہوئے عوام تمام احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ یہ خود کو موت کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔

اس حوالے سے حکومت، علمائے کرام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وائرس کے حوالے سے معاشرے میں شعور بیدارکریں اورعوام کو احتیاطی تدابیر اختیارکرنے پر رضا مندکریں۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے بذریعہ وڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کورونا وائرس کے باعث محض برآمدات میں کمی کی وجہ سے چار ارب ڈالرکا دھچکا لگنے کا خدشہ ہے، جس امرکی جانب وزیرخارجہ نے نشاندہی کی ہے، وہ معاشی حوالے سے آنے والے دنوں میں ملکی معیشت کو درپیش مشکلات کا احاطہ کررہا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے ہزارہا اوورسیز وطن واپس لوٹ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ملک کے معاشی معاملات چلانے میں مزید مشکلات پیدا ہوجائیں گی، کیونکہ وہ ایک کثیر ترین رقم اپنے وطن بھیجتے تھے، جس سے ہماری معیشت کو رواں دواں رکھنے میں کافی آسانی رہتی تھی۔ عالمی بینک نے سال 2020 کے دوران جنوبی ایشیاء کے خطے میں ترسیلات زر میں 22 فیصدکمی کی پیش گوئی کی ہے، ان تمام باتوںکو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

عالمی وبا کے حوالے سے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان کی دنیا کے متعدد رہنماؤں سے گفتگو ہوئی جنھیں وینٹی لیٹرز کی اشد ضرورت ہے اور انھیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ واشنگٹن ان کی ضرورت پوری کرنے میں مدد کرے گا، پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جنھیں امریکا وینٹی لیٹرز فراہم کرے گا۔

گزشتہ جمعتہ المبارک مذہبی و سیاسی جماعتوں اور قائدین کی اپیل پر ملک بھر میں یوم توبہ و رحمت منایا گیا، جب کہ رمضان المبارک کے آغاز پر ملک بھرکی مساجد میں نماز تراویح ادا کی گئی، ماہ مبارک کی پہلی رات دوران نماز احتیاطی تدابیر پر عملدرآمدکرکے عوام نے ثابت کیا کہ ہم ایک مثالی ومنظم قوم ہیں۔ لیکن دوسری طرف افسوسناک بات یہ ہے کہ رمضان المبارک شروع ہوتے ہی ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہوگیا، ہفتہ وار بنیاد پرگزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں0.62 فیصد اضافہ ہوا، تاہم سالانہ بنیادوں پر گذشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح پھر بڑھ کر 7.90فیصد ہو گئی، پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرتی رہیں۔


عوام نے سوال کیا ہے کہ حکمران مہنگائی کوکنٹرول نہیں کرسکتے تو آرڈیننس لانے کی کیا ضرورت تھی؟ کورونا کی وجہ سے ہمارے پاس پیسے نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، اگر صورتحال یہی رہی تو نوبت فاقوں تک پہنچ جائے گی۔ عوام نے سرکاری احکامات کو ہوا میں اڑانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دنیا کے دیگر مذاہب کے ماننے والے تو اپنی مذہبی تہوار پر اشیائے خورونوش پر رعایت کرتے ہیں لیکن ہم مسلمان رمضان جیسے بابرکت مہینے کو کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ قابل افسوس بات ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کمیٹیوں کو فعال کرے، اور مجسٹریٹس ضلع کی سطح پر منافع خوروں کے خلاف کارروائی کریں تاکہ روزہ داروں کو اشیائے خورونوش سستی مل سکیں۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب میں دودھ دہی کی دکانیں،کریانہ اسٹور، تندور اور بیکریاں سحری کے اوقات میں کھولنے کی اجازت دے کر مستحسن اقدام کیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے، کورونا کی حفاظتی اشیاء مہنگے داموں فروخت کیے جانے کے خلاف بھی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی ہے، مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ ارکان اسمبلی سماجی فاصلے کا خیال رکھیں گے، ہم بجٹ تجاویز اور کورونا سے متعلق اپنی رائے حکومت تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

کورونا وائرس وبا پر قابو پانے کے لیے سندھ حکومت نے بھی غیر معمولی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے، وبائی مرض کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بننے والے کسی بھی فرد یا ادارے پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، جو دس لاکھ روپے تک ہوگا ، سندھ حکومت کا سندھ وبائی امراض ایکٹ 2014 میں ترمیم کے لیے آرڈیننس لایاجائے گا۔ یہ آرڈیننس سوچ وبچار کے بعد نافذ کیا جانا چاہیے کہیں لوگ اس آرڈیننس کو اپنے مخالفین کو پھنسانے کے لیے استعمال کرنا نہ شروع کردیں۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ اس وقت حکومت دو محاذوں پر لڑ رہی ہے ایک طرف لوگوں کو کورونا کی وباء سے بچانا ہے تو دوسری طرف اْنہیں بھوک اور افلاس سے بھی بچانا ہے۔

اس لیے ہم نہ ہی مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی سب کچھ کھولنے کے۔ اس لیے ایک متوازن لائحہ عمل کے تحت اقدامات کر رہے ہیں۔ اس سے قبل مشیر اطلاعات اجمل خان وزیر نے پشاور میں کرفیو کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاورمیں کرفیو لگانے اور فوج لانے کا کوئی پلان نہیں، پشاور میں حالات مکمل کنٹرول میں ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ تمام صوبے اپنے اپنے طور پر کورونا پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں یہ اقدامات اور کاوشیں اس وقت تک رنگ نہیں لاسکتیں جب تک عوام مکمل تعاون نہ کریں۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ لاک ڈاؤن نے بلوچستان کی غربت اور بے روزگاری میں مزید اضافہ کردیا، لاک ڈاؤن کی وجہ سے کمزورطبقات نان شبینہ کے محتاج ہیں۔ جس جانب سراج الحق اشارہ کررہے ہیں اس کے تدارک کے لیے صوبائی حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہ ہماری قومی بدقسمتی ہے کہ آج بھی مختلف مافیاز نے ملک کو یرغما ل بنا رکھا ہے، اقتدار پر آج بھی وہی لوگ قابض ہیں جو پچھلی حکومتوں میں بھی برسراقتدار تھے۔ یہ بات کڑوی ضروری ہے لیکن سچ ہے کہ لاک ڈاؤن نے ملک کے ہر طبقے کو پریشان کر دیا ہے۔

حکومت وقت کوچھوٹے دکانداروں، تاجروں، نجی اسکولز، نجی ملازمت کرنے والوں اور کسانوں کے لیے خصوصی امدادی پیکیج کا اعلان کرنا چاہیے اور پاکستانی عوام کے گھریلو بجلی، گیس بل کم ازکم چھ ماہ تک معاف کرنے کے لیے پروگرام تشکیل دینا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے جب کہ مخیرحضرات، تاجر برادری کو اپنے ارد گرد ناداروں، مساکین، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرنی چاہیے۔ ماہ مبارک میں مساجد کی صفائی کو یقینی بنایا جائے اور تمام احتیاطی تدابیرکو اختیارکرتے ہوئے مساجدکو آباد رکھنے کی کوششیں کی جائیں۔

جب سے کورونا وائرس کی وباء پھیلی ہے، اس وقت سے طرح طرح کی باتیں سننے میں آرہی ہیں، اور لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر پاکستانیوں کی قوت مدافعت کمزور ہے جس سے مئی کے اختتام تک ملک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا اور بیشتر پاکستانی خطرات کی زد میں ہوں گے، کیونکہ گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت نے اس بارے میں ہولناک انکشاف کرتے ہوئے پاکستان میں مریضوں کی تعداد دولاکھ ہوجانے کا امکان ظاہرکیا ہے۔

پاکستانی عوام کو سوچنا چاہیے کہ ایک وبا جو دنیا بھر میں تقریباً دو لاکھ افرادکی موت کا سبب بنی ہے کیا اس کے وجود سے انکار ممکن ہے۔ ہرگز نہیں ہمیں اپنی بند آنکھیں کھولنی ہوں گی۔ ذرا سی غفلت ہمیں اور ہمارے اہل خانہ کو موت کے حوالے کرسکتی ہے۔
Load Next Story