ڈرون حملےسی آئی اے اسٹیشن چیف کیخلاف درخواست خارج
پٹیشن وزیرستان کے رہائشی نے ڈرون حملوں پر دائر کی، قتل کا مقدمہ درج کرنے کی استدعا
اسٹیشن چیف اور ممبر اس وقت اسلام آباد میں مقیم نہیں جبکہ مقدمہ درج کرنے کا حکم عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ فوٹو: رائٹرز/فائل
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد واجد علی نے ڈرون حملوں میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر امریکی خفیہ ادارے (سی آئی اے) اسلام آباد کے اسٹیشن چیف اور ممبر کے خلاف مقدمہ قتل کے اندراج کیلیے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کر دی ۔
جنوبی وزیرستان کے رہائشی کریم خان نے زیر دفعہ 22اے کے تحت درخواست دائر کی کہ سی آئی اے اسلام آباد کے چیف جانسن اور ممبر سی آئی اے جوہن کے حکم سے ڈرون حملے ہو رہے ہیں، اسی وجہ سے میرا بھائی اور بیٹا ہلاک ہوئے۔
پبلک پراسیکیوٹر چوہدری حسیب نے کہا کہ سی آئی اے کے اسٹیشن چیف اور ممبر اس وقت اسلام آباد میں مقیم نہیں جبکہ مقدمہ درج کرنے کا حکم عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
جنوبی وزیرستان کے رہائشی کریم خان نے زیر دفعہ 22اے کے تحت درخواست دائر کی کہ سی آئی اے اسلام آباد کے چیف جانسن اور ممبر سی آئی اے جوہن کے حکم سے ڈرون حملے ہو رہے ہیں، اسی وجہ سے میرا بھائی اور بیٹا ہلاک ہوئے۔
پبلک پراسیکیوٹر چوہدری حسیب نے کہا کہ سی آئی اے کے اسٹیشن چیف اور ممبر اس وقت اسلام آباد میں مقیم نہیں جبکہ مقدمہ درج کرنے کا حکم عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔