جمہوریت سے کمٹمنٹ عمل مانگتی ہے
توانائی بحران کے حل اور لوڈ شیڈنگ سے نجات کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں
جمہوریت عوام کو درپیش مصائب کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا سفر مکمل کرے گی تبھی خلق خدا کا جمہوری اور انتخابی عمل پر اعتماد اور اعتبار بڑھے گا۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جمہوریت اور صرف جمہوریت سے ملک کو درپیش مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے، موجودہ جمہوری نظام کے تسلسل کا سہرا صدر زرداری کی بصیرت، دانشمندی اور دور اندیشی کو جاتا ہے، پیپلزپارٹی کو زیادہ اکثریت حاصل نہ ہونے اور جمہوریت کو درپیش بے شمار چیلنجوں کے باوجود پارلیمنٹ کا اپنی آئینی مدت پورا کرنا اہم کامیابی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اجلاس میں بلدیاتی انتخابات، نگران سیٹ اپ، اتحادیوں سے مشاورت کے امور پر غور کیا گیا، وزیر قانون نے قانونی و عدالتی امور پر بریفنگ دی، اقلیتوں کو درپیش مسائل اور توہین مذہب و رسالت کے خلاف قانون کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دریں اثناء کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مقامی ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور 8 شوگر ملوں سے ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعے 10ہزار ٹن چینی خریدنے کی بھی منظوری دے دی۔
کمیٹی نے تاجکستان کو چینی کی برآمد کے لیے ٹرانسپورٹ پر آنے والے اخراجات حکومت پاکستان کے ذمے لگانے کی منظوری بھی دی تاہم سی این جی سلنڈروں اور کنورژن کٹوں کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کی سمری موخر کر دی گئی، کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ہوا۔ وزیر اعظم نے جمہوریت سے اپنی کمٹمنٹ کا اظہار جس والہانہ انداز میں کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی باقی ماندہ مدت میں اسی سفر کو جاری و ساری رکھنے پر پختہ عزم رکھتی ہے اور اگر ایسا ہی ہوا تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام کو جلد ملکی سیاست اور قومی اقتصادی منظرنامہ میں تبدیلیوں اور جمہوریت کے ثمرات سے استفادے کا موقع نہ ملے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ جمہوریت کو قومی اور عالمی اقتصادی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اس کا انحصار عالمی اقتصادی قوتوں کے یکطرفہ اشتراک عمل اور مالیاتی نظام سے ہے جو ترقی یافتہ حکومتوں کے تصرف میں ہے۔ حکمران اس زمینی اور مسلمہ اقتصادی حقیقت کو تسلیم کریں کہ جمہوری عمل معاشی استحکام سے مشروط ہو کر ہی سیاسی، سماجی اور فکری استحکام، انتظامی تطہیر و ترقی اور وسعت و نمو کا مظہر بن سکے گا۔ آج عالمی سیاسی نقشہ پر صرف فوجی قوت کے ذریعے قبضہ جمانا ممکن نہیں بلکہ عسکری قوت کے ساتھ ساتھ وہ عالمگیر اقتصادی طاقت اور بے محابہ اثر و نفوذ کی محتاج ہے۔
امریکی عسکری طاقت اس امر کا ایک بہترین حوالہ ہے جو چشم کشا اور عبرت آموز بھی ہے۔ افغانستان کی داخلی صورتحال اور پھر نائن الیون کا واقعہ عالمی صورتحال کے اتھل پتھل کا باعث بن گیا اور پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ کا ایندھن بننا پڑا تاہم جس عزم اور بلند حوصلگی کے ساتھ پاک افواج، سیاسی قیادت اور اہل وطن نے افغان مسائل اور اس سے پیدا شدہ داخلی کربناک مسائل کا سامنا کیا ہے اسے آیندہ اقتصادی اور سیاسی حکمت عملی اور مسائل کے حل میں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
جمہوریت عوام کو درپیش مصائب کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا سفر مکمل کرے گی تبھی خلق خدا کا جمہوری اور انتخابی عمل پر اعتماد اور اعتبار بڑھے گا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے کئی بحران خود ساختہ ہیں۔ غالباً اسی تناظر میں وزیر اعظم نے تمام ارکان پارلیمنٹ کو دعوت دی کہ وہ اسلوب حکمرانی میں بہتری اور ملک کی ترقی کے حوالے سے تجاویز دیں۔ وزیر اعظم نے سرکاری ملازمتوں میں ارکان اسمبلی کا کوٹہ مختص کر نے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ یہ انتخابات کا سال ہے' ارکان اسمبلی اپنے حلقوں پر توجہ دیں اور انتخابات کی تیاری شروع کریں۔
بلاشبہ موجودہ حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جن پر اتحادیوں کی مدد سے قابو پایا جانا چاہیے۔ توانائی بحران کے حل اور لوڈ شیڈنگ سے نجات کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ تمام مسائل اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا گیا۔ انھوں نے کہا' وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے تمام سیاسی قوتیں اپنا کردار ادا کرتی رہیں۔ یہ سب وعدے عملی اقدامات کے محتاج ہیں۔
ای سی سی کے اجلاس کے دوران جہاں وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کی جانب سے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی سمری اس یقین دہانی کے ساتھ منظور کر لی گئی کہ اس کا فائدہ صارفین کو ہو گا وہاں کمیٹی نے ان آٹھ شوگر ملوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعے دس ہزار ٹن چینی خریدنے کی بھی منظوری دے دی جو کوٹہ کم کرنے کے فیصلے سے متاثر ہوئی تھیں۔
ای سی سی نے وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کی طرف سے سی این جی سلنڈرز اور کنورشن کٹوں کی درآمد پر پابندی کو ختم کرنے کی سمری پر وزارت سے اس فیصلے کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں تا کہ اس حوالے سے کوئی بھی مناسب فیصلہ کیا جا سکے۔ اقتصادی کمیٹی کو ملکی معیشت کے ڈھانچے کی تطہیر اور معاشی نظام کے استحکام کے لیے غیر معمولی منصوبہ بندی میں نمایاں پیش رفت کرنی چاہیے۔
یہاں یہ عرض کرنا مناسب ہے کہ پاکستان کو چینی سمیت بنیادی ضرورت کی تمام اجناس، کھاد اور پھل و سبزیوں کی پیداوار اور ان کی قیمتوں پر کنٹرول کا شفاف میکانزم بنانا چاہیے۔ مہنگائی کا سبب اشیائے خورونوش کی من مانی قیمتیں بھی ہیں جب کہ کوئی مستقل تعزیری ادارہ فعال نہیں۔ ادھر آنکھیں کھولنے والی ایک اطلاع سامنے آئی ہے کہ صنعتی شعبے نے کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کی غرض سے شہر کی انتظامیہ ایک ماہ کے لیے مسلح افواج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے جب کہ کراچی میں قیام امن کے لیے آیندہ چند روز میں لاہور اور بعدازاں کراچی میں ملک گیر تاجر کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بات کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سرپرست اعلیٰ اور انڈوپاک چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم منیر نے آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے چیئرمین میاں زاہد حسین کے ہمراہ منگل کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں جاری خون ریزی اور دہشت گردی پر موثر انداز میں قابو پانا وقت کی اہم ضرورت ہے، گزشتہ دو ماہ سے شہر میں بھتہ خوری عروج پر پہنچ چکی ہے جب کہ کراچی میں ملک کے دیگر شہروں کی نسبت لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہونے کے باوجود 150 صنعتیں کراچی سے منتقل ہو چکی ہیں جس کی بنیادی وجہ مستقل بدامنی اور خوف ہے، بدامنی اور خوف کے سبب صنعتکاری رک گئی ہے۔
صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تجارتی لین دین بھارت کے حق میں ہے، پاکستان کا تجارتی خسارہ ہر سال 14 تا 15 فیصد بڑھتا جا رہا ہے جس کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ قومی انداز فکر کی تشکیل نو میں جمہوری رہنمائوں سے فکری اور سیاسی مغالطے بھی ہوئے اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کی تکمیل سے مجرمانہ غفلت کے اندوہناک واقعات بھی حالیہ سماجی اور سیاسی اضمحلال کا بنیادی سبب ہیں' اس لیے اب جمہوریت کی بقا' اداروں کی سلامتی اور قومی خود مختاری کے باب میں ہمہ وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
کوشش ہونی چاہیے کہ سیاسی بازیگری کے بجائے نیت نیتی سے قومی امور کی انجام دہی میں سیاسی اشتراک عمل کی مثال قائم کی جائے۔ اسی تناظر میں بھارت کی خطے میں بالادستی کی خواہش یا کوشش کو بھی جانچا جا سکتا ہے۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کے اکابرین اور صدر و وزیر اعظم کے مشیران باتدبیر ملک کو جمہوریت اور حقیقت پسندی کے ساتھ درست راہ پر ڈالنے اور چلانے کا اہتمام کریں چنانچہ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی نشستوں کو بڑھا کر چار فیصد کرنے اور بجلی کے بقایاجات کی وصولی اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے قانون سازی کرنے کا فیصلہ خوش آیند ہے۔ ایسے مزید خوش آیند فیصلوں کی قوم منتظر ہے۔
وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جمہوریت اور صرف جمہوریت سے ملک کو درپیش مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے، موجودہ جمہوری نظام کے تسلسل کا سہرا صدر زرداری کی بصیرت، دانشمندی اور دور اندیشی کو جاتا ہے، پیپلزپارٹی کو زیادہ اکثریت حاصل نہ ہونے اور جمہوریت کو درپیش بے شمار چیلنجوں کے باوجود پارلیمنٹ کا اپنی آئینی مدت پورا کرنا اہم کامیابی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اجلاس میں بلدیاتی انتخابات، نگران سیٹ اپ، اتحادیوں سے مشاورت کے امور پر غور کیا گیا، وزیر قانون نے قانونی و عدالتی امور پر بریفنگ دی، اقلیتوں کو درپیش مسائل اور توہین مذہب و رسالت کے خلاف قانون کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دریں اثناء کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مقامی ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور 8 شوگر ملوں سے ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعے 10ہزار ٹن چینی خریدنے کی بھی منظوری دے دی۔
کمیٹی نے تاجکستان کو چینی کی برآمد کے لیے ٹرانسپورٹ پر آنے والے اخراجات حکومت پاکستان کے ذمے لگانے کی منظوری بھی دی تاہم سی این جی سلنڈروں اور کنورژن کٹوں کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کی سمری موخر کر دی گئی، کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ہوا۔ وزیر اعظم نے جمہوریت سے اپنی کمٹمنٹ کا اظہار جس والہانہ انداز میں کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی باقی ماندہ مدت میں اسی سفر کو جاری و ساری رکھنے پر پختہ عزم رکھتی ہے اور اگر ایسا ہی ہوا تو کوئی وجہ نہیں کہ عوام کو جلد ملکی سیاست اور قومی اقتصادی منظرنامہ میں تبدیلیوں اور جمہوریت کے ثمرات سے استفادے کا موقع نہ ملے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ جمہوریت کو قومی اور عالمی اقتصادی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اس کا انحصار عالمی اقتصادی قوتوں کے یکطرفہ اشتراک عمل اور مالیاتی نظام سے ہے جو ترقی یافتہ حکومتوں کے تصرف میں ہے۔ حکمران اس زمینی اور مسلمہ اقتصادی حقیقت کو تسلیم کریں کہ جمہوری عمل معاشی استحکام سے مشروط ہو کر ہی سیاسی، سماجی اور فکری استحکام، انتظامی تطہیر و ترقی اور وسعت و نمو کا مظہر بن سکے گا۔ آج عالمی سیاسی نقشہ پر صرف فوجی قوت کے ذریعے قبضہ جمانا ممکن نہیں بلکہ عسکری قوت کے ساتھ ساتھ وہ عالمگیر اقتصادی طاقت اور بے محابہ اثر و نفوذ کی محتاج ہے۔
امریکی عسکری طاقت اس امر کا ایک بہترین حوالہ ہے جو چشم کشا اور عبرت آموز بھی ہے۔ افغانستان کی داخلی صورتحال اور پھر نائن الیون کا واقعہ عالمی صورتحال کے اتھل پتھل کا باعث بن گیا اور پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ کا ایندھن بننا پڑا تاہم جس عزم اور بلند حوصلگی کے ساتھ پاک افواج، سیاسی قیادت اور اہل وطن نے افغان مسائل اور اس سے پیدا شدہ داخلی کربناک مسائل کا سامنا کیا ہے اسے آیندہ اقتصادی اور سیاسی حکمت عملی اور مسائل کے حل میں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
جمہوریت عوام کو درپیش مصائب کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا سفر مکمل کرے گی تبھی خلق خدا کا جمہوری اور انتخابی عمل پر اعتماد اور اعتبار بڑھے گا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے کئی بحران خود ساختہ ہیں۔ غالباً اسی تناظر میں وزیر اعظم نے تمام ارکان پارلیمنٹ کو دعوت دی کہ وہ اسلوب حکمرانی میں بہتری اور ملک کی ترقی کے حوالے سے تجاویز دیں۔ وزیر اعظم نے سرکاری ملازمتوں میں ارکان اسمبلی کا کوٹہ مختص کر نے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ یہ انتخابات کا سال ہے' ارکان اسمبلی اپنے حلقوں پر توجہ دیں اور انتخابات کی تیاری شروع کریں۔
بلاشبہ موجودہ حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جن پر اتحادیوں کی مدد سے قابو پایا جانا چاہیے۔ توانائی بحران کے حل اور لوڈ شیڈنگ سے نجات کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ تمام مسائل اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا گیا۔ انھوں نے کہا' وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے تمام سیاسی قوتیں اپنا کردار ادا کرتی رہیں۔ یہ سب وعدے عملی اقدامات کے محتاج ہیں۔
ای سی سی کے اجلاس کے دوران جہاں وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کی جانب سے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی سمری اس یقین دہانی کے ساتھ منظور کر لی گئی کہ اس کا فائدہ صارفین کو ہو گا وہاں کمیٹی نے ان آٹھ شوگر ملوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعے دس ہزار ٹن چینی خریدنے کی بھی منظوری دے دی جو کوٹہ کم کرنے کے فیصلے سے متاثر ہوئی تھیں۔
ای سی سی نے وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کی طرف سے سی این جی سلنڈرز اور کنورشن کٹوں کی درآمد پر پابندی کو ختم کرنے کی سمری پر وزارت سے اس فیصلے کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں تا کہ اس حوالے سے کوئی بھی مناسب فیصلہ کیا جا سکے۔ اقتصادی کمیٹی کو ملکی معیشت کے ڈھانچے کی تطہیر اور معاشی نظام کے استحکام کے لیے غیر معمولی منصوبہ بندی میں نمایاں پیش رفت کرنی چاہیے۔
یہاں یہ عرض کرنا مناسب ہے کہ پاکستان کو چینی سمیت بنیادی ضرورت کی تمام اجناس، کھاد اور پھل و سبزیوں کی پیداوار اور ان کی قیمتوں پر کنٹرول کا شفاف میکانزم بنانا چاہیے۔ مہنگائی کا سبب اشیائے خورونوش کی من مانی قیمتیں بھی ہیں جب کہ کوئی مستقل تعزیری ادارہ فعال نہیں۔ ادھر آنکھیں کھولنے والی ایک اطلاع سامنے آئی ہے کہ صنعتی شعبے نے کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کی غرض سے شہر کی انتظامیہ ایک ماہ کے لیے مسلح افواج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے جب کہ کراچی میں قیام امن کے لیے آیندہ چند روز میں لاہور اور بعدازاں کراچی میں ملک گیر تاجر کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بات کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سرپرست اعلیٰ اور انڈوپاک چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم منیر نے آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے چیئرمین میاں زاہد حسین کے ہمراہ منگل کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں جاری خون ریزی اور دہشت گردی پر موثر انداز میں قابو پانا وقت کی اہم ضرورت ہے، گزشتہ دو ماہ سے شہر میں بھتہ خوری عروج پر پہنچ چکی ہے جب کہ کراچی میں ملک کے دیگر شہروں کی نسبت لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہونے کے باوجود 150 صنعتیں کراچی سے منتقل ہو چکی ہیں جس کی بنیادی وجہ مستقل بدامنی اور خوف ہے، بدامنی اور خوف کے سبب صنعتکاری رک گئی ہے۔
صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تجارتی لین دین بھارت کے حق میں ہے، پاکستان کا تجارتی خسارہ ہر سال 14 تا 15 فیصد بڑھتا جا رہا ہے جس کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ قومی انداز فکر کی تشکیل نو میں جمہوری رہنمائوں سے فکری اور سیاسی مغالطے بھی ہوئے اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کی تکمیل سے مجرمانہ غفلت کے اندوہناک واقعات بھی حالیہ سماجی اور سیاسی اضمحلال کا بنیادی سبب ہیں' اس لیے اب جمہوریت کی بقا' اداروں کی سلامتی اور قومی خود مختاری کے باب میں ہمہ وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
کوشش ہونی چاہیے کہ سیاسی بازیگری کے بجائے نیت نیتی سے قومی امور کی انجام دہی میں سیاسی اشتراک عمل کی مثال قائم کی جائے۔ اسی تناظر میں بھارت کی خطے میں بالادستی کی خواہش یا کوشش کو بھی جانچا جا سکتا ہے۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کے اکابرین اور صدر و وزیر اعظم کے مشیران باتدبیر ملک کو جمہوریت اور حقیقت پسندی کے ساتھ درست راہ پر ڈالنے اور چلانے کا اہتمام کریں چنانچہ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی نشستوں کو بڑھا کر چار فیصد کرنے اور بجلی کے بقایاجات کی وصولی اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے قانون سازی کرنے کا فیصلہ خوش آیند ہے۔ ایسے مزید خوش آیند فیصلوں کی قوم منتظر ہے۔