بھارت کا انتہا پسند چہرہ بے نقاب

بھارت میں دوسری مدت کے لیے حکومت بنانے کے بعد بی جے پی نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا

بھارت میں دوسری مدت کے لیے حکومت بنانے کے بعد بی جے پی نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا،

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی گئی جس میں سوڈان میں قابل ذکر پیش رفت اور بھارت میں تیزی سے گراوٹ کا ذکر کیا گیا ہے ، بھارت کو پہلی مرتبہ اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دے دیا گیا جب کہ پاکستان کے متعدد مثبت اقدامات کا اعتراف کیا گیا ہے ، یہ رپورٹ مذہبی آزادی پر مبنی ہے، اس رپورٹ میں بھارت کو پہلی مرتبہ اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے ، بھارت ''خطرناک ممالک'' کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔سالانہ رپورٹ میں متنازع بھارتی شہریت بل پر امریکی کمیشن نے شدید تنقید کی اور بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیے جانے پر شدید تنقید کی۔

رپورٹ میں امریکی کانگریس کو بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سماعت جاری رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اسی رپورٹ میں پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ جن میں کرتار پور راہداری کھولنا، پاکستان کی پہلا سکھ یونیورسٹی کھولنا، ہندو مندر کو دوبارہ کھولنا، توہین مذہب الزامات پر سپریم کورٹ اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی مواد کے ساتھ تعلیمی مواد پر نظر ثانی کے پاکستانی حکومتی اقدامات بھی شامل ہیں۔ امریکی کمیشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 2019 کی رپورٹ میں بھارت مذہبی آزادی کے نقشے میں تیزی سے نیچے آیا۔ 2019 میں بھارت میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا۔


رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں دوسری مدت کے لیے حکومت بنانے کے بعد بی جے پی نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا، بی جے پی حکومت نے اقلیتوں پر تشدد اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی کھلی اجازت دی۔ امریکی کمیشن رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بی جے پی کے حکومت میں گاؤ کشی کے نام پرہجومی تشدد معمول بن گئے ہیں، بھارتی حکومت تاحال اقلیت مخالف پالیسیوں پر کاربند ہے۔

امریکی رپورٹ میں بھارت کو خصوصی تشویش والے ممالک کی فہرست میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے، مذہبی آزادی کے خلاف کام کرنے والے بھارتی حکام پر پابندی کی بھی سفارش کی گئی ہے، اقلیتوں کے خلاف تشدد کی مانیٹرنگ کے لیے فنڈ قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں امریکی سفارتخانہ اقلیتی کمیونٹی کے ساتھ روابط بڑھائے اور مذہب مخالف جرائم کی مخالفت کرے۔ سالانہ رپورٹ میں بھی 15 ممالک کو شدید خلاف ورزیوں کے لیے محکمہ خارجہ کی خصوصی نگاہ کی فہرست میں جگہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان میں چار ممالک، کیوبا ، نکاراگوا ، سوڈان اور ازبکستان ہیں جنھیں امریکی محکمہ خارجہ نے دسمبر 2019 میں اس فہرست میں شامل کیا تھا، دیگر 11 ملکوں میں افغانستان ، الجیریا ، آذربائیجان ، بحرین ، وسطی افریقی جمہوریہ ، مصر ، انڈونیشیا ، عراق ، قازقستان ، ملائیشیا ، اور ترکی شامل ہیں۔
Load Next Story