کورونا سے نجات کی بحث

لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک طرف سسکتی انسانیت کو مہلک وبائی مرض کا سامنا ہے

لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک طرف سسکتی انسانیت کو مہلک وبائی مرض کا سامنا ہے

کورونا وائرس سے نمٹنے کی کوششیں ہر سطح پر جاری ہیں۔ عالمی میڈیا خدشات، امکانات، پیشگوئیوں اور خوشخبریوں سے لبریز ہے، پاکستان میں کورونا نے سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی کو منجمد اور بے روح کردیا ہے، مگر بے سروسامانی کے باوجود چین اور عالمی مالیاتی اداروں سے امداد کی رسد کے سلسلہ جاری ہیں، حکومت نے متعدد اعلانات کیے جس کے تحت احساس پروگرام کے ذریعے خطیر رقم کی ضرورت مندوں میں تقسیم جاری ہے۔

پروگرام کے انتظامات اور وائرس کے سدباب میں البتہ ایس او پیز پر عملدرآمد میں بے ضابطگیوں کی ملک گیر شکایات بھی ملی ہیں تاہم ایک مربوط امدادی میکنزم کی باثمر حکمت عملی سے عوام کو جلد مستفید ہونا چاہیے اور دیہاڑی دار مزدوروں کی فوری امداد سے لے کر لاکھوں غربت زدہ عوام بدستور خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن امید کی ڈور ابھی ٹوٹی نہیں، کورونا سے بچاؤ اور اس کے مکمل و مستقل سدباب کے لیے تحقیق کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، ملک بھر میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ٹیمیں عوام میں بیداری کی لہر برپا کرنے میں مصروف ہیں، ان کی جانب سے کورونا کو غیر سنجیدہ نہ لینے کے ہولناک مضمرات پر مہم کا تسلسل بھی جاری ہے۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک طرف سسکتی انسانیت کو مہلک وبائی مرض کا سامنا ہے اور دوسری طرف ترقی یافتہ ملکوں نے اربوں کے امدادی پیکیجز کا شور تو برپا کیا ہے مگر جنوبی ایشیا سمیت تیسری دنیا کے غریب ملکوں تک یہ امداد اس انداز سے نہیں پہنچی کہ عوام جو بدترین لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں اس امدادی ثمرات کے ٹریکل ڈاؤن سے مستفید ہوجائیں۔ مگر پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے مصداق غریب عوام دیگر ترقی پذیر ملکوں کی طرح وطن عزیز میں بھی ایک معاشی بریک تھروکے منتظر ہیں ۔ ہر چیز لاک ڈاؤن اور اس پر عملدرآمد کے ہونے یا نہ ہونے کی بحث کی نذر نہ ہو۔

چنانچہ امید و امداد کے اس افق پر کورونا سے متعلق تحقیق کی خبریں بھی گردش میں ہیں، چین کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کورونا دنیا کی جان اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گا، ان کی تحقیق کے مطابق وائرس موسمی شکل میں ایک بار پھر آئیگا جب کہ سنگاپور کی ایک یونیورسٹی نے پیش گوئی کی ہے کہ کورونا سال رواں ماہ جون میں ختم ہوجائیگاتاہم مختلف ممالک کے حوالہ سے وائرس کے خاتمہ کی مدت میں فرق دیکھا جا سکے گا، تحقیقی نتائج میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ دسمبر تک کورونا کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔حقیقت بھی اتنی پیچیدہ ہوچکی ہے کہ ہر ملک کے سائنسدان اور ماہرین صحت اپنی تھیوری، تحقیق، تصور، عملی امکانات اور زمینی حقائق و معروضی حالات کے مطابق اقدامات اور طبی ایجاد و ویکسین، دوا اور اینٹی باڈیز ادویہ کے دلچسپ تجربات بیان کرتے ہیں، ہوسکتا ہے ان ہی تجربات کی روشنی میں کوئی نسخہ کیمیا کسی طرف سے دکھی انسانیت کے کام آجائے۔


امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس پریس بریفنگ میں چین سے اظہار ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ ہونا چاہیے ، امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ میں کہا تھا کہ ہم چین سے خوش نہیں ہیں، کیونکہ کورونا وائرس جہاں پیدا ہوا تھا اسے وہیں روکا جا سکتا تھا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سیاستدان عوام کے مسائل پر توجہ دیں جھوٹ کا سہارا نہ لیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد سابقہ معمول پر واپسی ممکن نہیں، حکومتیں حرکت میں آئیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کووِڈ 19 کے بعد دنیا سابقہ معمول کی طرف واپس نہیں لوٹ سکے گی لہٰذا حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک نئی اقتصادیات اور زیادہ روزگار کی فراہمی کے لیے حرکت میں آئیں۔ پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر الانگو پیچو موتو نے کہا ہے کہ کورونا وائرس وبا کے طویل المیعاد اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی بینک پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر قریبی کام کررہا ہے، ایک ٹویٹر پیغام میں انھوں نے کہا کہ وبا کے تناظر میں پاکستان میں روزگار کے تحفظ کے لیے اقدامات جب کہ طبی اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی کے لیے پہلے سے جاری منصوبوں کے لیے40 ملین ڈالر کی رقم جاری کرچکا ہے انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں وبا سے فرنٹ لائن میں لڑنے والے طبی عملہ اور امدادی کارکنوں کو ضروری حفاظتی لباس کی فراہمی کے لیے بینک تعاون کر رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اشیائے خورونوش کی برآمد پر 2ہفتوں کے لیے پابندی لگادی جائے، 65 ہزار نوجوانوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کو روزگار فراہم کیا جائے، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں کورونا انفیکشن شرح کم ہونا حوصلہ افزا ہے تاہم کورونا وائرس دیہی علاقوں میں پھیلنا شروع ہوگیا ہے، انھوں نے شکوہ کیا کہ ہماری سنجیدہ کوششوں کے باوجود لوگ سماجی فاصلہ اختیار نہیں کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی اس قلبی کیفیت کا عوام کو اندازہ کرلینا چاہیے، اب جب کہ لاک ڈاؤن میں عالمی سطح پر نرمی لائی جارہی ہے، سعودی عرب، اٹلی،جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک جزوی لاک ڈاؤن پر مائل ہیں، اس لیے ملک میں وائرس کے خاتمہ کی کوششیں مربوط طریقے سے جاری رکھنا اشد ضروری ہے۔

نیوزی لینڈ نے قوم کو نوید دی ہے کہ ملک سے کورونا کا خاتمہ کردیا گیا ہے، نیوزی لینڈ نے پہلے دن سے ہی'' نو لاک ڈاؤن'' کی حکمت عملی اختیار کی اور اس پر ثابت قدم رہا، دبئی اور متحدہ عرب امارات نے کورونا سے بچاؤ کے لیے کئی الیکٹرانک گیٹ بنائے، دھند اور واک تھرو گیٹس پر درجہ حرارت ریکارڈ کرنے کے ساتھ ہیلتھ کوڈ بھی وضع کیا۔ شکر ہے ملک میں رمضان المبارک میں مساجد میں نماز اور تراویح میں تمام جملہ ہدایات پر عمل ہو رہا ہے۔

بی بی سی نے مشہور مورخ یوال نوح حریری کا ایک انٹرویو نشر کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف جنگ میں گلوبل لیڈروں نے انسانیت کی خدمت کے لیے اجتماعی قیادت پیش نہیں کی،رہنما بلیم گیم میں مصروف ہیں جب کہ دنیا کو ایک جدید عالمی طبی سرویلینس سسٹم کی ضرورت ہے جو نوع انسانی کی باطنی، طبی، اعصابی کیفیات کا ڈیٹا تیار کرے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن کے اندر سے عوامی فلاح اور معاشی بحالی کا کوئی اقدام اٹھائے تاکہ عوام کو کورونا، بے روزگاری اور بھوک سے نجات مل جائے۔
Load Next Story