کورونا … احتیاطی تدابیرہی میں بقا ہے
اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے پر انتظامیہ کی خاموشی نے منافع خوروں کے حوصلے مزید بڑھا دیے ہیں۔
شہریوں کو حد درجہ احتیاط اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے
MOSCOW:
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے معیشت پر منفی اثرات پڑے ہیں، معلوم نہیں کورونا کب تک چلے گا،چھ ماہ سے ایک سال تک یہی صورتحال رہے گی،لوگ ڈسپلن کا مظاہرہ کرکے کورونا وائرس سے بچیں۔
جب سے کورونا کی وباء نے پاکستان کا رخ کیا ہے، اسی روز سے وزیراعظم انتہائی دلجمعی کے ساتھ حکومتی سطح پر اقدامات کی بھرپور نگرانی کا فریضہ بحسن وخوبی ادا کررہے ہیں۔ ان کے خیالات عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں وہ ہرصورت میں چاہتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے بتدریج صنعتوں اورکاروبارکی بحالی کو یقینی بنایا جائے، انھیں ملک کے غریب عوام کی بہت زیادہ فکرلاحق ہے۔
ملکی معیشت روز بروز مشکلات کا شکار ہورہی ہے ، مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگاری بڑھ رہی اور بہت سے اداروںکی جانب سے اپنے ملازمین کو فارغ کرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔ اسی تناظر میں وزیراعظم پاکستان نے احساس کیش پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا ہے ۔ اس ویب پورٹل پر ملازمت سے محروم افراد کو کام چھوٹ جانے کا ثبوت دینے پر 12ہزار ملیں گے،بیروزگارافرادصرف اتنابتائیں گے کہ وہ کہاں کام کرتے تھے۔ یہ اقدام بلاشبہ عوام دوست قرار دیا جاسکتا ہے اور بیروزگار افراد کے مسائل کو کم کرنے میں یقیناً معاون ثابت ہوگا۔
یوم مزدور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد عوام کو ایک بڑا ریلیف ملا ہے، پاکستان میں پٹرول کی قیمت علاقے کے دیگر ممالک بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں سب سے کم ہوگئی ہے۔پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں پٹرول چھیانوے فیصد، بنگلہ دیش میں ایک سوچار فیصد تک مہنگا ہے۔ پٹرول پمپس پر معمول سے کہیں زیادہ رش دیکھنے میں آرہا ہے، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں، وزیراعظم خلوص دل سے چاہتے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام کو ملیں اور مہنگائی میں نمایاں کی ہو، اس ضمن میں انھوں نے پنجاب اور خیبرپختون خوا کی حکومتوں کو واضح ہدایات دی ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ مزدورکے مسائل کا ادراک ہے،کاروبار اور صنعتوں کوکھولنے کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کردی ہیں ۔صوبہ بھرکی مارکیٹوں اور بازاروں کو زونز میں تقسیم کرکے مختلف ایام میں کھولنے کا بھی کہا ہے۔ قوی امید ہے کہ وفاقی حکومت ، پنجاب حکومت کی سفارشات کو منظورکرکے مارکیٹیں اور صنعتیں کھولنے کے احکامات جاری کرے گی ۔ حکومت بلوچستان نے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن سے متاثرہ مستحق افرادکی مالی معاونت کے لیے انقلابی اقدام کا آغازکردیا ہے جس کے تحت متاثرہ کم آمدنی والے کو بلاسود 10 سے 20 ہزار روپے قرض حسنہ فراہم کیا جائے گا، یہ بھی حکومتی سطح پر لائق تحسین عمل ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے ٹیسٹس میں اضافے سے گزشتہ چند ہفتوں کے برعکس اب دگنی سے بھی زیادہ اموات اور متاثرہ مریضوں کی تعداد سامنے آنے لگی ہے۔ متاثرہ مریضوں کی تعداد بیس ہزار جب کہ اموات چار سو سے بھی زائد ہوچکی ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے متاثرہ مریضوں کی تعداد برابر ہوگئی ہے۔ دونوں صوبوں میں سات ، سات ہزار سے زائد مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 19 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ کورونا 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ 32 زندگیاں لے گیا اور مجموعی اموات 437 تک پہنچ گئیں۔ پشاور میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سو سے تجاوزکرگئی، ملک بھر میں پشاورکورونا سے ہونے والی اموات کے لحاظ سے ٹاپ پر آگیا۔ پشاور شہر سے اب تک کورونا وائرس کا شکار 105 افراد کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں جن میں 37 کے لگ بھگ خواتین بھی شامل ہیں جو وائرس سے زندگی کی بازی ہارگئیں۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کاروبارکھلے گا تو ملکی معیشت کا پہیہ چلے گا، یہ اہم ترین نکتہ ہے، اس پر جلد ازجلد عمل درآمدکے لیے ضروری ہے کہ دفاتر اورفیکٹریوں کے اوقات کارکے وقت یعنی صبح اور شام میں پبلک ٹرانسپورٹ کو مزدوروں اور ملازمین کو لانے کی اجازت دی جائے۔ صوبوں کے درمیان ٹرانسپورٹ چاہے بند رکھی جائے، لیکن شہروں کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کو نقل وحرکت کی اجازت دینے سے روزگار کے بند دروازے کھل جائیں گے، اس ضمن میں میکنزم بنانا حکومت کا کام ہے۔ لاہور چیمبر میں 100 سے زائد مارکیٹوں اور انجمن تاجران کے عہدیداروں کا مشاورتی اجلاس ہوا،جس میں تاجروں نے مطالبہ کیا کہ حفاظتی اقدامات کے ساتھ 9 مئی کے بعد کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔
کراچی کی تاجر برادری بھی سندھ حکومت سے بارہا مطالبہ کرچکی ہے ، کاروبار کرنے کی انھیں اجازت دی جائے، ماہ رمضان میں احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار کرنے کی اجازت دینے سے ملکی معیشت کو سہارا ملے گا، جب کہ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے پانچ مئی کو پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر لانے کا اعلان کردیا ہے۔صوبائی حکومتوں کو ماہ رمضان میں کاروبار کی اجازت دے دینی چاہیے تاکہ عوام عید کی تیاری کے لیے بآسانی شاپنگ کرسکیں ۔ اس اقدام سے بے روزگاری کو ختم کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی اور ملکی معیشت کا پہیہ بھی چل پڑے گا۔
ایک جانب تو حکومتی سطح پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں ، لیکن دوسری جانب ماہ رمضان میں بھی مہنگائی مافیا نے بے روزگار عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا، سبزی فروٹ کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ ایسا لگا رہا ہے کہ منافع خور مافیا کے دل سے قانون کا خوف جاتا رہا ہے،کیونکہ وہ خود کو آزاد محسوس کرتے ہوئے قیمتوں میں من مانا اضافہ کرکے خوب خوب ناجائز منافع کما رہے ہیں۔ پھل اور سبزیوں کے نرخ بھی پہلے سے سو فیصد تک بڑھا دیے گئے ہیں اور ریٹ لسٹ پر عمل درآمد کروانے والی انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے میں مصروف ہے۔
اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے پر انتظامیہ کی خاموشی نے منافع خوروں کے حوصلے مزید بڑھا دیے ہیں۔عوام نے اعلیٰ حکام سے خود ساختہ مہنگائی کرنے والوں کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان میں کھجور کی 30 فیصد درآمدات سعودی عرب اور عراق سے جب کہ 70 فیصد ایران سے کی جاتی ہیں۔ دیگر مسلمان ممالک کی طرح پاکستان میں بھی رمضان اور کھجور لازم و ملزوم ہیں۔صوبہ سندھ میں کھجور کے باغات موجود ہیں لیکن ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کھجور درآمد کرنا پڑتی ہے۔ رواں سال کورونا وبا کی وجہ سے سرحدوں کی بندش کے باعث پاکستان میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں 30 فیصد تک کم کھجور دستیاب ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سندھ کا ضلع خیرپور پاکستان میں کھجورکی کاشت کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں پر تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار ایکڑ رقبہ پر کھجور کے باغات ہیں۔ کھجورکی بروقت ترسیل کو یقینی بنا کر قیمتوں میں یقیناً کمی لائی جاسکتی ہے، یہ حکومتی اداروں کا کام ہے کہ وہ ایسے مناسب اقدامات کرے کہ کھجور کو برآمد بھی کیا جاسکے تاکہ قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوسکے۔ کورونا وائرس کے باعث ایک جانب قوم حالت جنگ میں ہے جب کہ دوسری جانب اٹھارہویں آئینی ترمیم پر وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان بیان بازی کا عمل زور پکڑ رہا ہے۔ وفاقی وزراء نے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کورونا وائرس پر قومی پالیسی کی تشکیل میں رکاوٹ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت سیاسی تدبر سے کام لیتے ہوئے فیڈریشن و صوبوں کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے تاکہ نئے مسائل جنم نہ لیں۔
ہم ان سطورکے ذریعے پہلے بھی وفاق اور سندھ سے اپیل کرچکے ہیں کہ یہ وقت سیاسی بیان بازی کا ہرگز نہیں ہے، نہ ہی کسی فریق کو پوائنٹ اسکورنگ کرنی چاہیے۔ وفاقی اور صوبائی وزراء کی طویل پریس کانفرنسیں تلخی کا سبب بن رہی ہیں۔اس سے اجتناب برتا جائے تاکہ قومی یکجہتی کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے، ہم کورونا وائرس کے خلاف ایک طویل جنگ لڑ رہے ہیں۔ ملک میں ایمرجنسی جیسے حالات ہیں لیکن ہمارا سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کا کام نہیں لے رہا، یہ بیانات جلتی پر تیل ڈالنے کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت فہم وفراست سے عاری ہے، خدارا ،قوم کو تقسیم ہونے سے بچائیں ، اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افہام وتفہیم کا راستہ اختیارکیا جائے، یہی وقت کی ضرورت ہے کہ قومی سیاسی قیادت ایک پیج پر عملی طور پر نظر آئے ۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کو حد درجہ احتیاط اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے، اب تک 25 سے 45 سال تک کی عمر کے مرد کورونا وائرس سے بڑی تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں۔اس کی وجہ بے احتیاطی، گھروں سے بنا ضرورت باہر نکلنا، ماسک اورگلوزکے استعمال کی پابندی نہ کرنا اور میل ملاپ میں سماجی فاصلے کی پابندی کی خلاف ورزی کرنا بڑی وجوہات ہیں۔ عوام کو خود بھی سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کر کیا رہے ہیں،کیوں اپنی جان کے دشمن بننے پر تلے ہوئے ہیں؟آخر وہ کیوں بے احتیاطی کی راہ پرچل کر اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیاں خطرات سے دوچارکرنا چاہتے ہیں۔کورونا وائرس کوئی مذاق نہیں، بلکہ بھیانک حقیقت ہے اگر پاکستان میں اس کی شدت کم ہے تو اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا جائے۔ ہمیں حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل پیرا ہونا چاہیے اسی میں ہماری بقا کا راز مضمر ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے معیشت پر منفی اثرات پڑے ہیں، معلوم نہیں کورونا کب تک چلے گا،چھ ماہ سے ایک سال تک یہی صورتحال رہے گی،لوگ ڈسپلن کا مظاہرہ کرکے کورونا وائرس سے بچیں۔
جب سے کورونا کی وباء نے پاکستان کا رخ کیا ہے، اسی روز سے وزیراعظم انتہائی دلجمعی کے ساتھ حکومتی سطح پر اقدامات کی بھرپور نگرانی کا فریضہ بحسن وخوبی ادا کررہے ہیں۔ ان کے خیالات عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں وہ ہرصورت میں چاہتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے بتدریج صنعتوں اورکاروبارکی بحالی کو یقینی بنایا جائے، انھیں ملک کے غریب عوام کی بہت زیادہ فکرلاحق ہے۔
ملکی معیشت روز بروز مشکلات کا شکار ہورہی ہے ، مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگاری بڑھ رہی اور بہت سے اداروںکی جانب سے اپنے ملازمین کو فارغ کرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔ اسی تناظر میں وزیراعظم پاکستان نے احساس کیش پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا ہے ۔ اس ویب پورٹل پر ملازمت سے محروم افراد کو کام چھوٹ جانے کا ثبوت دینے پر 12ہزار ملیں گے،بیروزگارافرادصرف اتنابتائیں گے کہ وہ کہاں کام کرتے تھے۔ یہ اقدام بلاشبہ عوام دوست قرار دیا جاسکتا ہے اور بیروزگار افراد کے مسائل کو کم کرنے میں یقیناً معاون ثابت ہوگا۔
یوم مزدور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد عوام کو ایک بڑا ریلیف ملا ہے، پاکستان میں پٹرول کی قیمت علاقے کے دیگر ممالک بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں سب سے کم ہوگئی ہے۔پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں پٹرول چھیانوے فیصد، بنگلہ دیش میں ایک سوچار فیصد تک مہنگا ہے۔ پٹرول پمپس پر معمول سے کہیں زیادہ رش دیکھنے میں آرہا ہے، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں، وزیراعظم خلوص دل سے چاہتے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام کو ملیں اور مہنگائی میں نمایاں کی ہو، اس ضمن میں انھوں نے پنجاب اور خیبرپختون خوا کی حکومتوں کو واضح ہدایات دی ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ مزدورکے مسائل کا ادراک ہے،کاروبار اور صنعتوں کوکھولنے کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کردی ہیں ۔صوبہ بھرکی مارکیٹوں اور بازاروں کو زونز میں تقسیم کرکے مختلف ایام میں کھولنے کا بھی کہا ہے۔ قوی امید ہے کہ وفاقی حکومت ، پنجاب حکومت کی سفارشات کو منظورکرکے مارکیٹیں اور صنعتیں کھولنے کے احکامات جاری کرے گی ۔ حکومت بلوچستان نے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن سے متاثرہ مستحق افرادکی مالی معاونت کے لیے انقلابی اقدام کا آغازکردیا ہے جس کے تحت متاثرہ کم آمدنی والے کو بلاسود 10 سے 20 ہزار روپے قرض حسنہ فراہم کیا جائے گا، یہ بھی حکومتی سطح پر لائق تحسین عمل ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے ٹیسٹس میں اضافے سے گزشتہ چند ہفتوں کے برعکس اب دگنی سے بھی زیادہ اموات اور متاثرہ مریضوں کی تعداد سامنے آنے لگی ہے۔ متاثرہ مریضوں کی تعداد بیس ہزار جب کہ اموات چار سو سے بھی زائد ہوچکی ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے متاثرہ مریضوں کی تعداد برابر ہوگئی ہے۔ دونوں صوبوں میں سات ، سات ہزار سے زائد مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 19 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ کورونا 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ 32 زندگیاں لے گیا اور مجموعی اموات 437 تک پہنچ گئیں۔ پشاور میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سو سے تجاوزکرگئی، ملک بھر میں پشاورکورونا سے ہونے والی اموات کے لحاظ سے ٹاپ پر آگیا۔ پشاور شہر سے اب تک کورونا وائرس کا شکار 105 افراد کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں جن میں 37 کے لگ بھگ خواتین بھی شامل ہیں جو وائرس سے زندگی کی بازی ہارگئیں۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کاروبارکھلے گا تو ملکی معیشت کا پہیہ چلے گا، یہ اہم ترین نکتہ ہے، اس پر جلد ازجلد عمل درآمدکے لیے ضروری ہے کہ دفاتر اورفیکٹریوں کے اوقات کارکے وقت یعنی صبح اور شام میں پبلک ٹرانسپورٹ کو مزدوروں اور ملازمین کو لانے کی اجازت دی جائے۔ صوبوں کے درمیان ٹرانسپورٹ چاہے بند رکھی جائے، لیکن شہروں کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کو نقل وحرکت کی اجازت دینے سے روزگار کے بند دروازے کھل جائیں گے، اس ضمن میں میکنزم بنانا حکومت کا کام ہے۔ لاہور چیمبر میں 100 سے زائد مارکیٹوں اور انجمن تاجران کے عہدیداروں کا مشاورتی اجلاس ہوا،جس میں تاجروں نے مطالبہ کیا کہ حفاظتی اقدامات کے ساتھ 9 مئی کے بعد کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔
کراچی کی تاجر برادری بھی سندھ حکومت سے بارہا مطالبہ کرچکی ہے ، کاروبار کرنے کی انھیں اجازت دی جائے، ماہ رمضان میں احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار کرنے کی اجازت دینے سے ملکی معیشت کو سہارا ملے گا، جب کہ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے پانچ مئی کو پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر لانے کا اعلان کردیا ہے۔صوبائی حکومتوں کو ماہ رمضان میں کاروبار کی اجازت دے دینی چاہیے تاکہ عوام عید کی تیاری کے لیے بآسانی شاپنگ کرسکیں ۔ اس اقدام سے بے روزگاری کو ختم کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی اور ملکی معیشت کا پہیہ بھی چل پڑے گا۔
ایک جانب تو حکومتی سطح پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں ، لیکن دوسری جانب ماہ رمضان میں بھی مہنگائی مافیا نے بے روزگار عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا، سبزی فروٹ کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ ایسا لگا رہا ہے کہ منافع خور مافیا کے دل سے قانون کا خوف جاتا رہا ہے،کیونکہ وہ خود کو آزاد محسوس کرتے ہوئے قیمتوں میں من مانا اضافہ کرکے خوب خوب ناجائز منافع کما رہے ہیں۔ پھل اور سبزیوں کے نرخ بھی پہلے سے سو فیصد تک بڑھا دیے گئے ہیں اور ریٹ لسٹ پر عمل درآمد کروانے والی انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے میں مصروف ہے۔
اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے پر انتظامیہ کی خاموشی نے منافع خوروں کے حوصلے مزید بڑھا دیے ہیں۔عوام نے اعلیٰ حکام سے خود ساختہ مہنگائی کرنے والوں کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان میں کھجور کی 30 فیصد درآمدات سعودی عرب اور عراق سے جب کہ 70 فیصد ایران سے کی جاتی ہیں۔ دیگر مسلمان ممالک کی طرح پاکستان میں بھی رمضان اور کھجور لازم و ملزوم ہیں۔صوبہ سندھ میں کھجور کے باغات موجود ہیں لیکن ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کھجور درآمد کرنا پڑتی ہے۔ رواں سال کورونا وبا کی وجہ سے سرحدوں کی بندش کے باعث پاکستان میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں 30 فیصد تک کم کھجور دستیاب ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سندھ کا ضلع خیرپور پاکستان میں کھجورکی کاشت کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں پر تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار ایکڑ رقبہ پر کھجور کے باغات ہیں۔ کھجورکی بروقت ترسیل کو یقینی بنا کر قیمتوں میں یقیناً کمی لائی جاسکتی ہے، یہ حکومتی اداروں کا کام ہے کہ وہ ایسے مناسب اقدامات کرے کہ کھجور کو برآمد بھی کیا جاسکے تاکہ قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوسکے۔ کورونا وائرس کے باعث ایک جانب قوم حالت جنگ میں ہے جب کہ دوسری جانب اٹھارہویں آئینی ترمیم پر وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان بیان بازی کا عمل زور پکڑ رہا ہے۔ وفاقی وزراء نے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کورونا وائرس پر قومی پالیسی کی تشکیل میں رکاوٹ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت سیاسی تدبر سے کام لیتے ہوئے فیڈریشن و صوبوں کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے تاکہ نئے مسائل جنم نہ لیں۔
ہم ان سطورکے ذریعے پہلے بھی وفاق اور سندھ سے اپیل کرچکے ہیں کہ یہ وقت سیاسی بیان بازی کا ہرگز نہیں ہے، نہ ہی کسی فریق کو پوائنٹ اسکورنگ کرنی چاہیے۔ وفاقی اور صوبائی وزراء کی طویل پریس کانفرنسیں تلخی کا سبب بن رہی ہیں۔اس سے اجتناب برتا جائے تاکہ قومی یکجہتی کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے، ہم کورونا وائرس کے خلاف ایک طویل جنگ لڑ رہے ہیں۔ ملک میں ایمرجنسی جیسے حالات ہیں لیکن ہمارا سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کا کام نہیں لے رہا، یہ بیانات جلتی پر تیل ڈالنے کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت فہم وفراست سے عاری ہے، خدارا ،قوم کو تقسیم ہونے سے بچائیں ، اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افہام وتفہیم کا راستہ اختیارکیا جائے، یہی وقت کی ضرورت ہے کہ قومی سیاسی قیادت ایک پیج پر عملی طور پر نظر آئے ۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کو حد درجہ احتیاط اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے، اب تک 25 سے 45 سال تک کی عمر کے مرد کورونا وائرس سے بڑی تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں۔اس کی وجہ بے احتیاطی، گھروں سے بنا ضرورت باہر نکلنا، ماسک اورگلوزکے استعمال کی پابندی نہ کرنا اور میل ملاپ میں سماجی فاصلے کی پابندی کی خلاف ورزی کرنا بڑی وجوہات ہیں۔ عوام کو خود بھی سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کر کیا رہے ہیں،کیوں اپنی جان کے دشمن بننے پر تلے ہوئے ہیں؟آخر وہ کیوں بے احتیاطی کی راہ پرچل کر اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیاں خطرات سے دوچارکرنا چاہتے ہیں۔کورونا وائرس کوئی مذاق نہیں، بلکہ بھیانک حقیقت ہے اگر پاکستان میں اس کی شدت کم ہے تو اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا جائے۔ ہمیں حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل پیرا ہونا چاہیے اسی میں ہماری بقا کا راز مضمر ہے۔