کورونا وائرس اہم فیصلے

کورونا کے قومی اور مقامی پہلو فکر انگیز ہیں

کورونا کے قومی اور مقامی پہلو فکر انگیز ہیں

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت جمعرات کو ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ہفتہ سے مرحلہ وار لاک ڈاؤن کھولنے کا اعلان کر دیا گیا، اسکولز 14 جولائی تک بند رہیں گے۔ لاک ڈاؤن کی برف پگھلنے لگی ہے، اہم فیصلے یقیناً ملکی سیاسی، اقتصادی اور سماجی صورتحال کی قلب ماہیت میں مدد و معاون ثابت ہوسکتے ہیں تاہم اس میں حکومت کو استقامت، تدبر اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے تاریخ ساز اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا، بہت دیر ہوچکی، اب جب کہ حکومت نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی فعالیت سے کورونا کے بحران سے نمٹنے کا درست فیصلہ کرلیا ہے تو مزید فیصلے بھی قومی اتفاق رائے سے جلد ہوسکتے ہیں۔ سندھ حکومت کو مفاہمانہ راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہی وقت کی ضرورت ہے۔

عوام کو یقین ہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر جاری لاک ڈاؤن میں نرمی پر اہم ادارہ جاتی فیصلے بڑے دوررس ثابت ہوسکتے ہیں، حکومت کے لیے اس اہم ترین اقدام سے ملک کی معاشی اور سماجی صورتحال کی بہتری میں مدد بھی مل سکتی ہے جمود ٹوٹ سکتا ہے، پژمردگی، مایوسی اور بے سکونی کی فضا میں زندگی کی رمق روزگار کی نئی تڑپ بھی پیدا کرسکتی ہے۔

حقیقت میں این سی او سی کے فیصلوں کا دارومدار ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد سے ہے، جو اقدامات تجویز کیے گئے اور انھیں منظور کیا گیا ہے ان پر صدق دل سے عمل کیا جائے تو کورونا سے نجات مشکل نہیں، کئی ملکوں نے کورونا کو شکست دے کر ثابت کیا ہے کہ حکومت تدبر اور درست حکمت عملی سے پانسہ پلٹ سکتی ہے، اگر عوامی سطح پر کورونا سے نجات کے لیے پابندیوں پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک اس مہلک وبا کی تباہ کاریوں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ نہ رہ سکے، اور پاکستانی معیشت پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو، بلاشبہ عاقبت اندیشی اور کشادہ نظری، سیاسی بصیرت اور عملیت پسندانہ طرز عمل سے ان ہی فیصلوں کی روشنی میں عوام کی مشکلات حل ہوسکتی ہیں، ملک کا معاشی پہیہ گھومنا شروع ہوگا، معمولات زندگی میں باقاعدگی آئیگی، ارباب اختیار ایک ہولناک انتظامی تذبذب سے نکل سکتے ہیں جس نے پورے ملک کے اعصاب کو جکڑ رکھا ہے، بادی النظر میں عوامی، کاروباری، صنعتی اور تاجر حلقے بھی یکسوئی سے ملکی معیشت اور سماجی سرگرمیوں میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کی افادیت مسلمہ ہے، یہ اہم پیش رفت ہے جس میں ملک بھر میں تجارتی مراکز کھولنے کی تجاویز منظور کر لی گئیں۔ تجاویز کی منظوری کے بعد ملک بھر میں تجارتی مراکز 11مئی سے کھولے جانے کا امکان ہے۔ اسکولز کو 14 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کی زیر صدارت بدھ کو نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور آئندہ کی حکمت عملی بالخصوص 9 مئی کے بعد لاک ڈاؤن ختم کرنے یا اس میں توسیع کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔ باہمی مشاورت کے بعد این سی او سی نے سفارشات تیار کرلیں جس کے مطابق ملک بھر میں 11 مئی سے لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی جائے، چھوٹی دکانیں، پبلک ٹرانسپورٹ اور ڈومیسٹک پروازیں کھول دی جائیں۔ اسکولز، شادی ہالز، ہوٹل اور بڑے شاپنگ مالز بند رکھے جائیں اور ریلوے سروس بھی فی الحال بحال نہ کی جائے۔

اجلاس میں سفارشات سامنے آئیں کہ مقامی سطح پر ٹرانسپورٹ کھول دی جائے، اڈہ مالکان اور ٹرانسپورٹر کورونا سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ بڑے شاپنگ مالز بند رکھے جائیں، چھوٹی دکانیں اور عید کی خرید و فروخت سے متعلق دکانیں کھول دی جائیں۔ وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں اہم سفارشات تیار کی گئیں، ذرائع کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں ٹرین سروس بحال کرنے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا، چار میں سے تین صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے ریل سروس کی بحالی کی مخالفت کی، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے سینیٹری، پینٹس، ہارڈویئر اسٹورز کھولنے کی سفارش بھی کی ہے، اتوارکو مکمل لاک ڈاؤن کی بات بھی ہوئی، اس پر بھی تبادلہ خیال ہوا کہ جلسے جلوسوں کی اجازت نہ دی جائے۔


یہ سفارشات در اصل 31 مئی تک کے لیے تھیں اور ان کی حتمی منظوری وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت جمعرات کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں دی جانی تھی۔ اس کے علاوہ تعمیراتی صنعت کی سہولیات میں اضافے کی تجویز اور اسلام آباد کے اسپتالوں میں مخصوص او پی ڈیز کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام آباد انتظامیہ کو کورونا وائرس کے حوالے سے فلاحی سرگرمیوں میں رورل سپورٹ پروگرام میں رضاکاروں کو شامل کرنے اور وزیر اعظم ٹاسک فورس کی مدد سے تمام یونین کونسلوں تک رسائی ممکن بنانے کی ہدایت کی گئی۔

کورونا کے قومی اور مقامی پہلو فکر انگیز ہیں۔تاہم ان کا ایک وسیع تر عالمی سیاق وسباق بھی ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہناہے کہ کورونا کے خاتمہ کے لیے قومی سطح پر ایک پلان بنانے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ دنیا ایک عالمی معاشی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے، ترقی پذیر معیشتوں کی صورتحال تشویشناک ہوتی جارہی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس سے ہلاکتوں کا تقابل پرل ہاربر پر جاپانی فضائی حملہ اور نائن الیون واقعہ سے کیا ہے، کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر امریکا اور چین کے دو طرفہ تعلقات بھی کشیدہ ہوچکے ہیں، دو ایٹمی طاقتوں کی تجارتی جنگ بھی عروج پر ہے، وائرس سے ہلاکتوں پر تحقیق پر عالمی ادارہ صحت کی وضاحتیں سامنے آچکی ہیں، ارباب اختیار کو ادراک ہے کہ کورونا عالمی وبا ہے اور اس کے خلاف تدابیر اور اس سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز کی نتیجہ خیزی بھی ہمہ جہت ہونی چاہیے، عوام کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کورونا سے دور رہنے کے لیے جاری ہدایات و حفاظتی تدابیر سے کوئی کھلواڑ نہیں ہونا چاہیے۔

ادھر امریکی ریاست واشنگٹن حکام کا کہنا ہے کہ اس عالمی وبا کے دوران گروہوں کی شکل میں جمع ہونا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور لوگوں کے اسپتال میں داخل ہونے سے لے کر موت تک کا خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ 100 کے قریب کیسز شعوری طور پر کووڈ- 19پازیٹو کے ذریعے پھیلائے گئے معلوم ہوتے ہیں۔ حکام نے یہ دلچسپ انکشاف کیا کہ امریکی قوت مدافعت کے حصول کے لیے خود کو کورونا لگوا سکتے ہیں۔

سیاسی طور پر کورونا کی دوسری خطرناک لہر کا ذکر بھی کیا جانے لگا ہے، اس ممکنہ لہر کا تعلق سماجی فاصلہ، ماسک کے مستقل استعمال، گھر سے باہر نکلنے، مٹر گشت کرنے اور مجمع میں شامل ہونے سے ہے، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے لاک ڈاؤن اسٹریٹجی کا ایک سبب ان کی یہ تشویش بتائی جاتی ہے کہ اندرون سندھ اور دیگر اربن علاقوں میں لوگوں کا سماجی فاصلہ کی ہدایت کو نظر انداز کرنا سنگین خلاف ورزی ہے، وزیر اعلیٰ نے آج 14اموات پر دکھ کا اظہار کیا۔

سندھ حکومت اور وفاق کے مابین ہم آہنگی لازم ہے، لاک ڈاؤن کی پالیسی پر خلفشار اب ختم ہونا چاہیے، سندھ ہائی کورٹ کا یہ انتباہ قابل غور ہے جو اس نے ڈبل سواری پر پابندی کیس کے ضمن میں دیا ہے کہ قانون انسانوں کے لیے بنائے جاتے ہیں انسان قانون کے لیے نہیں، عدلیہ نے سوال کیا کہ ڈبل سواری سے کتنے لوگوں کو کورونا ہوا؟ عدلیہ نے ڈبل سواری پابندی کیس میں حکومت سے 11مئی کو رپورٹ طلب کرلی، عدلیہ نے کہا کہ جب ایمرجنسی ہو تو کوئی اسپتال کیسے پہنچے، کیا حکومت نے ہر گھر کے سامنے ایمبولینس کھڑی کردی ہے؟ عدلیہ کے ریمارکس ملک بھر میں ڈبل سواری کی سہولت سے متعلق چشم کشا ہیں، مشاہدہ میں آیا ہے کہ صوبائی حکومتیں دہشتگردی سمیت دیگر ایمرجنسی حالات میں اول قدم کے طور پر ڈبل سواری پر پابندی لگاتی ہیں، کسی کو عوام کی مشکلات کا ادراک نہیں ہوتا کہ جس ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کی باوقار سہولت دستیاب نہیں وہاں ڈبل سواری ایک عیاشی نہیں ضرورت اور مجبوری ہے۔

کورونا نے ملکی معیشت کے لیے بھی سوالات پیدا کیے ہیں، گیلپ سروے آف پاکستان کے مطابق عوام کی مشکلات بڑھی ہیں، بیروزگاری اور پیداواری شعبوں میں تعطل اور جمود کی وجہ سے حکومت کے لیے امور مملکت چلانا چیلنج بنا ہوا ہے، اقتصادی ذرائع کے مطابق جولائی تا مارچ حکومتی قرضوں پر سود کی ادائیگی(ڈیبٹ سروسنگ)19 کھرب تک پہنچ گئی ہے، اطلاعات کے مطابق 420 ارب زیادہ دینے پڑے جب کہ حکومت کی آمدنی بڑھانے کی کوششیں بھی اس اضافی ادائیگی سے ماند پڑچکی ہیں۔ آنے والے دن بڑے صبر آزما ہونگے۔
Load Next Story