پروٹیز پیس آندھی ہیوی ویٹ بیٹنگ سے ٹکرانے کو تیار
ہوم گراؤنڈز پر رنز کے انبار لگانے والے نوجوان بھارتی بیٹسمینوں کی آج آزمائش
جوہانسبرگ: ون ڈے سیریز سے قبل بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی اور جنوبی افریقی قائد اے بی ڈی ویلیئرز ٹرافی تھامے پوز دے رہے ہیں ۔ فوٹو: اے ایف پی
جنوبی افریقہ اور بھارت کے درمیان ون ڈے سیریز کا آغاز جمعرات سے جوہانسبرگ میں ہورہا ہے، پروٹیز پیس آندھی ہیوی ویٹ بھارتی بیٹنگ سے ٹکرانے کو تیار ہے۔
جیک کیلس اور ڈیل اسٹین کی واپسی متوقع ہے، ہوم گرائونڈز پر رنز کے انبار لگانے والے نوجوان بھارتی بیٹسمینوں کی آزمائش ہوگی، کپتان دھونی فتوحات کا سلسلہ برقراررکھنے کیلیے پُراعتماد ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی ٹیم رواں برس مسلسل 6 ون ڈے سیریز جیت چکی جس سے حوصلے کافی بلند ہیں، عالمی ایک روزہ رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن پر فائز دھونی الیون نے حال ہی میں ہوم گرائونڈز پر آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز جیتی ہیں، جہاں بیٹسمینوں نے رنز کی دریا بہائے، اب ان نوجوانوں کو پروٹیز فاسٹ بولرز کا سامنا ہے۔ ڈیل اسٹین پہلے ہی واضح کرچکے کہ وہ بھارتی بیٹنگ لائن میں دراڑ ڈالنے کیلیے پوری کوشش کریں گے،کپتان ڈی ویلیئرز ابتدائی چند اوورز سے ہی مہمان سائیڈ کو دبائو میں لانے کی منصوبہ بندی کیے بیٹھے ہیں۔
پاکستان کے خلاف تیسرے ون ڈے میں نہ کھیلنے والے ڈیل اسٹین اور جیک کیلس کی واپسی ہوگی، ان کے بارے میں پروٹیز کوچ رسل ڈومنگونے کہاکہ کیلس اور اسٹین کو احتیاطا تیسرے میچ میں نہیں کھلایا گیا تھا، وہ ایک بار پھر میدان میں اترنے کیلیے تیار ہیں، کیلس ہماری ٹیم کا اثاثہ اور دراصل تھری ان ون پلیئر ہیں، ان کی موجودگی سے ہمیں کئی آپشن میسر رہتے ہیں۔ دوسری جانب ہوم گرائونڈز پر بڑی اننگز سے اعتماد حاصل کرنے والے شیکھر دھون، ویرت کوہلی اور روہت شرما پروٹیز دیس میں بھی دھوم مچانے کے لیے تیار ہیں، تینوں نے رواں کیلنڈر ایئر ایک ایک ہزار سے زائد رنز اسکور کیے جبکہ ان کی ایوریجز بھی ففٹی سے زائد ہیں۔ جہاں ایک طرف بھارت اپنے ٹاپ آرڈر سے پوری طرح مطمئن ہیں وہیں پر سریش رائنا کی رواں برس 36 اور یوراج سنگھ کی 21.23 کی اوسط تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ فاسٹ بولرز بھونیشور کمار اور محمد شامی فاسٹ وکٹوں پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کیلیے بے چین ہیں۔
جیک کیلس اور ڈیل اسٹین کی واپسی متوقع ہے، ہوم گرائونڈز پر رنز کے انبار لگانے والے نوجوان بھارتی بیٹسمینوں کی آزمائش ہوگی، کپتان دھونی فتوحات کا سلسلہ برقراررکھنے کیلیے پُراعتماد ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی ٹیم رواں برس مسلسل 6 ون ڈے سیریز جیت چکی جس سے حوصلے کافی بلند ہیں، عالمی ایک روزہ رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن پر فائز دھونی الیون نے حال ہی میں ہوم گرائونڈز پر آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز جیتی ہیں، جہاں بیٹسمینوں نے رنز کی دریا بہائے، اب ان نوجوانوں کو پروٹیز فاسٹ بولرز کا سامنا ہے۔ ڈیل اسٹین پہلے ہی واضح کرچکے کہ وہ بھارتی بیٹنگ لائن میں دراڑ ڈالنے کیلیے پوری کوشش کریں گے،کپتان ڈی ویلیئرز ابتدائی چند اوورز سے ہی مہمان سائیڈ کو دبائو میں لانے کی منصوبہ بندی کیے بیٹھے ہیں۔
پاکستان کے خلاف تیسرے ون ڈے میں نہ کھیلنے والے ڈیل اسٹین اور جیک کیلس کی واپسی ہوگی، ان کے بارے میں پروٹیز کوچ رسل ڈومنگونے کہاکہ کیلس اور اسٹین کو احتیاطا تیسرے میچ میں نہیں کھلایا گیا تھا، وہ ایک بار پھر میدان میں اترنے کیلیے تیار ہیں، کیلس ہماری ٹیم کا اثاثہ اور دراصل تھری ان ون پلیئر ہیں، ان کی موجودگی سے ہمیں کئی آپشن میسر رہتے ہیں۔ دوسری جانب ہوم گرائونڈز پر بڑی اننگز سے اعتماد حاصل کرنے والے شیکھر دھون، ویرت کوہلی اور روہت شرما پروٹیز دیس میں بھی دھوم مچانے کے لیے تیار ہیں، تینوں نے رواں کیلنڈر ایئر ایک ایک ہزار سے زائد رنز اسکور کیے جبکہ ان کی ایوریجز بھی ففٹی سے زائد ہیں۔ جہاں ایک طرف بھارت اپنے ٹاپ آرڈر سے پوری طرح مطمئن ہیں وہیں پر سریش رائنا کی رواں برس 36 اور یوراج سنگھ کی 21.23 کی اوسط تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ فاسٹ بولرز بھونیشور کمار اور محمد شامی فاسٹ وکٹوں پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کیلیے بے چین ہیں۔