لیاری میں 4 افراد کے ماورائے عدالت قتل پر مکینوں کا احتجاج
آپریشن میں بے گناہ افراد کو گرفتار اور قتل کیا جارہا ہے،اراکین اسمبلی پیپلز پارٹی
ماڑی پور روڈ پر لیار ی کے مکینوں کے احتجاج کے باعث ٹریفک جام ہوگیا ،ایک پھنسی ہوئی ایمبولینس کو دوسری سڑک پر اتارا جارہا ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس
لیاری کے علاقے بغدادی میں گزشتہ شب رینجرز اور پولیس سے مبینہ مقابلے کے دوران ہلاک ہونے والے 4 افراد کے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں کی بڑٰی تعداد نے بدھ کو ماڑی پور روڈ پر میتوں کے ہمراہ دھرنا دیا۔
دھرنے کے باعث ماڑی پور،نیٹی جیٹی پل اور اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا،ٹریفک جام کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بیمار افراد کو اسپتال لے جانے والی کئی ایمبولینسیں ٹریفک جام میں پھنسی رہی علاج کے لیے مریض تڑپتے رہے، دھرنے میں موجود افراد نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے،مظاہرین نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی کی، مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ بغدادی میں گزشتہ شب مبینہ مقابلے میں مشتاق علی ،واجد بلوچ ،صدام بلوچ اور خالد بلوچ ہلاک ہوئے ہیں ۔
ان افراد کا تعلق غریب گھرانے سے ہے یہ بے گناہ تھے اور ان افراد کو 2 ہفتے قبل پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لیاری سے گرفتار کیا تھا اور انھیں جعلی مقابلے میں مارا گیا ہے، مظاہرین نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کے قتل میں ملوث پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کو گرفتار کیا جائے اس موقع پر خطاب میں سندھ کے وزیر کچی آبادی جاوید ناگوری اور رکن سندھ اسمبلی ثانیہ ناز نے کہا کہ لیاری میںآپریشن کے دوران بے گناہ افراد کو گرفتار کیا جارہا ہے اور کئی نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے،بعدازاں ہلاک افراد کی نماز جنازہ ماڑی پور روڈ پر ادا کی گئی اور میراں ماں اور میوہ شاہ قبرستانوں میں سپردخاک کردیا گیا،مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ اگر ماورائے عدالت قتل میں ملوث قانون نافذ کرنے والے اداروں کیخلاف کارروائی نہ کی گئی تو کل جمعہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیا جائے گا۔
دھرنے کے باعث ماڑی پور،نیٹی جیٹی پل اور اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا،ٹریفک جام کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بیمار افراد کو اسپتال لے جانے والی کئی ایمبولینسیں ٹریفک جام میں پھنسی رہی علاج کے لیے مریض تڑپتے رہے، دھرنے میں موجود افراد نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے،مظاہرین نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی کی، مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ بغدادی میں گزشتہ شب مبینہ مقابلے میں مشتاق علی ،واجد بلوچ ،صدام بلوچ اور خالد بلوچ ہلاک ہوئے ہیں ۔
ان افراد کا تعلق غریب گھرانے سے ہے یہ بے گناہ تھے اور ان افراد کو 2 ہفتے قبل پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لیاری سے گرفتار کیا تھا اور انھیں جعلی مقابلے میں مارا گیا ہے، مظاہرین نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کے قتل میں ملوث پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کو گرفتار کیا جائے اس موقع پر خطاب میں سندھ کے وزیر کچی آبادی جاوید ناگوری اور رکن سندھ اسمبلی ثانیہ ناز نے کہا کہ لیاری میںآپریشن کے دوران بے گناہ افراد کو گرفتار کیا جارہا ہے اور کئی نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے،بعدازاں ہلاک افراد کی نماز جنازہ ماڑی پور روڈ پر ادا کی گئی اور میراں ماں اور میوہ شاہ قبرستانوں میں سپردخاک کردیا گیا،مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ اگر ماورائے عدالت قتل میں ملوث قانون نافذ کرنے والے اداروں کیخلاف کارروائی نہ کی گئی تو کل جمعہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیا جائے گا۔