سیاسی منظرنامہ اورکورونا

ملک بھر میں کورونا کی ڈیتھ کاؤنٹنگ جاری ہے

ملک بھر میں کورونا کی ڈیتھ کاؤنٹنگ جاری ہے: فوٹو: فائل

ملک بھر میں کورونا کی ڈیتھ کاؤنٹنگ جاری ہے، اگلے روز تک مزید 42 افراد چل بسے، اموات734ہوگئیں، متاثرین32 ہزار839 جب کہ8548 صحتیاب ہوگئے۔ 167مریضوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے، وزیراعظم ٹائیگر فورس فعال کرنے کے لیے خود میدان میں آگئے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ جلد ٹرانسپورٹ اور ٹرینیں بھی چلنا شروع ہوں گی، وہ مکمل لاک ڈاؤن سے گریزکے اپنے استدلال پر بدستور قائم ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو دوبارہ سختی کرنا پڑے گی۔

تاہم مشاہدے میں آیا ہے کہ بادی النظر میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے کورونا کا خوف نسبتاً کم ہوگیا ہے ، عید کی خریداری کا رش غیرمعمولی طور پر بڑھ گیا ہے، البتہ عوام کے جم غفیر پر عالمی اور ملکی ماہرین صحت لاک ڈاؤن کھلنے کی حکمت عملی پر بوجوہ تقسیم کا شکار ہیں۔ میڈیا کے مطابق بعض سینئر سرکاری افسران نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ کورونا لاک ڈاؤن نرم کرنے کے مضمرات سے ارباب اختیارکو غافل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ اقدام ''مرگ انبوہ جشنے دارد''کی کہانی دہرا سکتا ہے۔

ماہرین صحت کا موقف ہے کہ سیاسی و معاشی دباؤ پرکاروبار اور مقامی مارکیٹیں کھولی گئیں اور آیندہ ماہ جون کوکورونا کی دوسری لہر کے لیے ماہرین نے تباہ کن قراردیا ہے، بعض تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ آبادی کے تناسب ، مستند ڈیٹا، ٹیسٹنگ اضافی قرنطینہ سینٹرز کے قیام اور اسپتالوںپر دباؤ بڑھ جانے کے بعد بھی صورت حال اگر قابو سے باہر ہوجائے تو حکومت مخالف اسٹریٹجی کے حامیوں کا اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہونا بے معنی نہیں ہوسکتا، لہذا حکومت کسی بھی صورت حال کے لیے ہمہ وقت الرٹ رہے۔

صدر مملکت عارف علوی نے مرکز اور صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے کا تعین کرنے کے لیے منگل کو دسواں نیشنل فنانس کمیشن تشکیل دے دیا، قانونی ماہرین کے مطابق صدر مملکت نے وفاقی نااہلی کا خمیازہ صوبوں پر ڈالنے کا ایجنڈا مرتب کر دیا، ماہرین کا کہنا ہے کہ مشیر خزانہ کی تقرری بھی غیر آئینی ہوگی، سیکریٹری خزانہ وفاق کی نمائندگی کریں گے۔ دریں اثنا ماہرین نے کہا ہے کہ این ایف سی کی تشکیل کے حوالے سے وفاقی حکومت کو بڑا چیلنج درپیش ہوگا، ان کی رائے میں این ایف سی کے تحت صوبوں کا حصہ کم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم درکا ہوگی۔

اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت اس اہم مالیاتی ایوارڈ کی تشکیل نو سے پیدا ہونے والے چیلنج سے کیسے نمٹے گی۔ بہرکیف سیاسی کھیل پھر سے شروع ہوگیا ہے، ملکی سیاست میں تناؤ اورکشیدگی کا تسلسل ایک بار پھر شدت پذیر ہے، جو پیدا شدہ حالات میں سیاسی عاقبت نا اندیشی اورکم نصیبی ہی ہوگی، عوام مسائل کے دو پاٹوں کے بیچ پس رہے ہیں ،مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کو بے بس کر دیا ہے، ایسے نازک وقت میں جب قوم ایک وباسے پریشان اور ریاستی مشینری مہلک مرض سے برسر پیکار ہے۔


سیاستدانوں کے درمیان جوتیوںمیں دال بٹ رہی ہے، کورونا سے نمٹنے کی جستجو میں سیاسی رہنما ایک پیج پر رہنے کی بجائے ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں، پارلیمنٹ میں تند وتیز تقاریرکے بعد اب میڈیا میں دوبدو مکالمہ آرائی کا منظر نامہ سج گیا ہے، بلاشبہ سیاستدانوں کی برہمی زمینی حقائق سے چشم پوشی اور بلا جواز ہے، جمہوریت اسپورٹس مین شپ کا نام ہے مگر محسوس ہوتا ہے کہ سیاستدانوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیا، سیاست ایک بار پھر 92کی سیاسی کشمکش اور تصادم کے راستے پر چل پڑی ہے، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سندھ کے الفاط واپس لیں اور استعفیٰ دیں، انھوں نے کہا کہ عوام کوکورونا وائرس کے رحم وکرم پر چھوڑدیا گیا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی نے جواب میں کہا کہ پنجاب کے بعد سندھ میں بھی اپنا لوہا منوانے آرہے ہیں۔

ضرورت ملکی اندوہناک صورت حال کے گہرے ادراک اور اصلاح کی ہے، سنجیدہ فکری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کتنا بڑا مذاق اور ستم ظریفی ہے کہ ایٹمی جنگوں سے ہلاکتوں پر بات کرتے نہ تھکنے والی زبانیں آج ایک ان دیکھے کورونا وائرس سے ہونے والی ناگہانی موت کے خوف میں مبتلا ہیں، جب کہ دنیا میں کورونا سے اموات 2 لاکھ90 ہزار تک جاپہنچی ہیں۔سیاسی صورتحال چشم کشا ہے۔ایسے حالات میں سیاسی قیادت پر عوام کی نظر بھی ہوتی ہے اور انھیں توقع بھی ہوتی ہے کہ مشکل ترین حالات میں سیاسی قیادت انھیں رہنمائی فراہم کرے گی لیکن مشاہدے میں یہی آرہا ہے کہ عوام کی توقعات پوری نہیں ہورہیں۔

قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس اور پھر سینیٹ میں جو باتیں ہوئیں 'وہ قوم کے لیے مایوسی کا باعث بنی ہیں۔ کورونا جیسی وبا پر بات کرنے کے بجائے ان اہم اجلاسوں میں بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور الزامات کی سیاست سامنے آئی ۔حکومتی بینچوں سے پارلیمنٹ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس کیا صلاحیت ہے اور اسے مزید کس کس چیز کی ضرورت ہے ' عالمی مالیاتی اداروں سے امدادی رقوم کتنی ملیں ہیں اور انھیں کس میکنزم کے تحت کہاں کہاں خرچ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ٹڈی دل کی وبا بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہے 'افسوس کا مقام ہے کہ کسی پارلیمنٹیرین نے اس معاملے پر بات کرنابھی گوارا نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے پارلیمنٹیرینز کو کورونا وائرس کی وبا کے بارے میں کوئی جانکاری ہے اور نہ ہی انھیں ٹڈی دل کے نقصانات کا اندازہ ہے۔

پارلیمنٹیرینز کو شاید یہ بھی معلوم نہیں یا انھیں حکومت کی طرف سے بتایا ہی نہیں گیا کہ کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے حکومت کو عطیات یا امداد کی شکل میں کتنا سامان اور کتنی مالی امداد ملی۔ پارلیمنٹیرینز کو شاید یہ بھی علم نہیں تھا کہ کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے وفاقی سطح پر جو طبی سامان خریدا گیا 'اس کی مالیت کتنی ہے 'سامان کے نرخ کا تعین کس طرح کیا گیا ہے ' اس کی ٹرانسپورٹیشن پر کتنا خرچہ ہوا ہے اور اس سامان کی ادائیگی کا میکنزم کیا ہے۔

حکومت نے بھی پارلیمنٹیرینز کو آگاہ کرنے کے لیے اس قسم کا کوئی بندوبست نہیں کیا تھا ۔ ادھر اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹیرینز کی بھی لاعلمی کی سطح یہی ہے ' ہمارے ہاں شاید ایک دوسرے پر طعنہ زنی اور الزام تراشی کو ہی سیاست سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ یہ سیاست ہر گز نہیں ہے۔ پارلیمنٹیرینز خواہ ان کا تعلق حزب اقتدار سے ہو یا حزب اختلاف سے 'ان کا اولین فرض اپنے ووٹرز کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے قانون سازی کرنا اور حکومتی اداروں سے ان کی کارکردگی کے حوالے سے باز پرس کرنا ہوتی ہے۔

افسوس ہمارے پارلیمنٹیرینز اس معیار پر پورا نہیں اترے۔ ہمارے پارلیمنٹیرینز کو یہ سبق پڑھانے کی ضرورت ہے کہ انھیں عوام نے ووٹ دے کر منتخب کیا ہے ' وہ اپنی سیاسی جماعت کی لیڈر شپ کے غلام یا خادم نہیں ہیں کہ ان کی غلطیوں کی بھی حمایت کرنی ضروری ہے۔ پارلیمنٹیرینز اگر ایوان میں تیاری کر کے آئیں تو صورت حال مختلف ہو سکتی ہے ۔کورونا جیسے وبائی بحران میں ہماری سیاسی قیادت اس اعلیٰ پائے کی ذہانت 'معاملہ فہمی 'دور اندیشی اور زیرکی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے اور شاید پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کی ناکامی کی وجہ بھی یہی ہے۔
Load Next Story