اطہرشاہ خان مسکراہٹیں بکھیرنے والارخصت

انھوں نے مقبول ترین ڈرامے جیدی کے سنگ سمیت 700 سے زائد ڈرامے لکھے

انھوں نے مقبول ترین ڈرامے جیدی کے سنگ سمیت 700 سے زائد ڈرامے لکھے۔

ہم سب کے پسندیدہ اطہرشاہ خان جیدی ہم سے بچھڑگئے، ہرلب پر مسکراہٹیں بکھیرنے والا اہل وطن کو رنجیدہ کرگیا،مزاح کا ایک عہد رخصت ہوا، ادیب، شاعر، ڈرامہ نویس، ہدایت کار اوراداکار۔ان کی ذات کا ہر روپ منفرد یکتا وکامل۔ اول وآخر قلم کا مزدور جس نے فنون لطیفہ کی دنیا میں نہ صرف نام پیدا کیا، بلکہ اسے اعتبار بھی بخشا، ریڈیو پاکستان سے اپنے کیریئرکا آغازکیا، جس کے بعد سے وہ مزاح کی دنیا پر کئی دہائیوں تک راج کرتے رہے۔

کسی بھی تخلیق کارکے فن کی معراج یہ ہوتی ہے کہ اس کا تخلیق کردہ کردار امر ہوجائے، جیدی جیسا شاہکار انھوں نے تخلیق کیا، خودکو اس میں ڈھالا، اور پھر یوں ہوا کہ جیدی ان کی شناخت ، پہچان اور نام کا جزو بن کر امر ہوگیا۔ اطہرشاہ خان برطانوی مزاحیہ اداکار سرنومن وزڈم اور امریکا میں کنگ آف کامیڈی کے نام سے مشہورجیری لوئس سے متاثر تھے، یہ دونوں اداکاری کے ساتھ ساتھ رائٹرز بھی تھے۔


انھوں نے مقبول ترین ڈرامے جیدی کے سنگ سمیت 700 سے زائد ڈرامے لکھے۔ پاکستان ٹیلی وژن کے پیش کردہ مزاحیہ مشاعروں کے سلسلہ ''کشت زعفران'' سے مزاحیہ شاعری میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی، اس کے علاوہ انتظار فرمائیے میں ان کی عمدہ کارکردگی کو بہت سے لوگ بھلا نہیں سکتے۔

ان کے مقبول ترین ڈراموں میں کیسے کیسے خواب، ہیلو ہیلو، جیدی اِن ٹربل، جانے دو، برگر فیملی، آشیانہ، آپ جناب، پرابلم ہاؤس، ہائے جیدی،بااَدب با ملاحظہ ہوشیار اور دیگر ڈرامے شامل ہیں۔حکومت پاکستان نے انھیں2001 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا، جب کہ پاکستان ٹیلی ویژن(پی ٹی وی) نے اپنی سلور جوبلی پر اطہر شاہ خان جیدی کوگولڈ میڈل سے بھی نوازا۔ پاکستان میں اردو مزاح نگاری کے حوالے سے جو کارہاں نمایاں انھوں نے سرانجام دیے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیںگے۔
Load Next Story