لبرل سوچ والے اسلام کیخلاف انتہا پسند ہیں فضل الرحمن
خفیہ سیاسی فیکٹریوں میں تیار سیاستدانوں کو مہرے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، گفتگو
تحفظ پاکستان آرڈیننس دہشتگردی کے خاتمے کے بجائے عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کیلیے ہے، فوٹو: فائل
جے یوآئی کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی میںحالیہ ناخوشگوار واقعے نے ثابت کردیاکہ امن کے دشمن کتنے طاقتور ہیں۔
ایک بیان کے مطابق انھوں نے کراچی واقعے پراظہارافسوس کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اوراداروں کوکر اچی میں امن کے حوالے سے مربوط پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔علاوہ ازیں این این آئی کے مطابق جے یو آئی سکھر اور جیکب آباد کے وفدسے گفتگو کرتے ہوئے مولانافضل الرحمن نے کہا کہ خفیہ اداروں کی سیاست کی وجہ سے ملک سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو سکا۔
آج بھی عوام کواپنے نمائندگان منتخب کرنے کی آزادی نہیں، پاکستان میں الیکشن نہیں سلیکشن ہوتی ہے۔ملک میںخفیہ سیاسی فیکٹریوں کا وجود عمل میں آچکا ہے جہاں سیاستدان پیدا کیے جارہے ہیں اور بعد میں ان کو مہرے کے طورپراستعمال کیا جاتا ہے ۔انھوںنے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ لبرل سوچ والے اسلام کے خلاف انتہا پسند ہیں،جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس دہشتگردی کے خاتمے کے بجائے عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کیلیے ہے،آرڈیننس آئین اور اسلام کیخلاف ہے یہ قانون غلط استعمال ہوگا ۔
ایک بیان کے مطابق انھوں نے کراچی واقعے پراظہارافسوس کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اوراداروں کوکر اچی میں امن کے حوالے سے مربوط پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔علاوہ ازیں این این آئی کے مطابق جے یو آئی سکھر اور جیکب آباد کے وفدسے گفتگو کرتے ہوئے مولانافضل الرحمن نے کہا کہ خفیہ اداروں کی سیاست کی وجہ سے ملک سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو سکا۔
آج بھی عوام کواپنے نمائندگان منتخب کرنے کی آزادی نہیں، پاکستان میں الیکشن نہیں سلیکشن ہوتی ہے۔ملک میںخفیہ سیاسی فیکٹریوں کا وجود عمل میں آچکا ہے جہاں سیاستدان پیدا کیے جارہے ہیں اور بعد میں ان کو مہرے کے طورپراستعمال کیا جاتا ہے ۔انھوںنے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ لبرل سوچ والے اسلام کے خلاف انتہا پسند ہیں،جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس دہشتگردی کے خاتمے کے بجائے عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کیلیے ہے،آرڈیننس آئین اور اسلام کیخلاف ہے یہ قانون غلط استعمال ہوگا ۔