عذیر بلوچ اور اس کے بھائی سمیت6ملزمان کو اشتہاری قرار دیدیا گیا

منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد ضبط کرنیکی ہدایت، ملزمان پر میٹھا درمیں پولیس پر فائرنگ کرنیکا الزام ہے

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کیلیے متعدد مقامات پر چھاپہ مارا تاہم ملزمان نامعلوم مقام پر روپوش ہوگئے ہیں۔ فوٹو : فائل

WASHINGTON:
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ممتاز علی سولنگی نے پولیس مقابلہ اقدام قتل کے الزامات میں مفرور لیاری گینگ وار کے عذیر بلوچ اور اس کے بھائی زبیر بلوچ سمیت 6 ملزمان کو عدالت نے اشتہاری قرار دیدیا ہے۔

انکی منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد کو ضبط کرنے کیلیے ایس ایچ او تھانہ میٹھادر کو ہدایت جاری کردی ہے عدالت نے استغاثہ کے تمام گواہوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے، عدالت نے ایس ایچ او کو مذکورہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرانیکا حکم دیا ہے۔


بدھ کوپولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کیلیے متعدد مقامات پر چھاپہ مارا تاہم ملزمان نامعلوم مقام پر روپوش ہوگئے ہیں ملزمان کی تلاش جاری ہے، استغاثہ کے مطابق فروری 2012کو ملزمان نے میٹھادر کے علاقے میں پولیس پر فائرنگ کردی تھی پولیس کی جوابی فائرنگ پر ملزمان فرار ہوگئے تھے ملزمان کے خلاف تھانہ میٹھا در میں مقدمہ درج ہے۔

علاوہ ازیںسٹی کورٹ میں مقتول محمد عارف پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں مفرور ملزم صابر حسین ولد خادم حسین کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا ہے، ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو پیش کیا گیا تھا اور فاضل عدالت نے صابر کو جیل بھیج دیا،استغاثہ کے مطابق دو ماہ قبل ملزم عارف نے سٹی کورٹ میں اپنے ساتھی صابر حسین کے ہمراہ مقتول شہباز پر تیزاب پھینک کر اسے شدید زخمی کردیا تھا، پولیس نے ملزمان کے۔
Load Next Story