’’فکسنگ بم‘‘ نے کیوی کرکٹ کے درو دیوار ہلا دیے

انٹرنیشنل کونسل سے تعاون کر رہا ہوں، مناسب وقت پر سب کچھ عوام کے سامنے لے آئوں گا (ونسنٹ)

فکسنگ کیس: تحقیقات کی زد میں آنے والے کیوی کرکٹرز ڈیرل ٹفی، لوونسنٹ اور کینز کے فائل فوٹوز۔ فوٹو: فائل

''فکسنگ بم'' نے کیوی کرکٹ کے درودیوار ہلادیے، سابق کرکٹرز لوونسنٹ، کرس کینز اور ڈیرل ٹفی کا نام سامنے آنے پر لوگ ششدر رہ گئے۔

بیٹسمین ونسنٹ نے اپنے خلاف آئی سی سی تحقیقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت پر سب کچھ عوام کے سامنے لے آئوں گا، آل رائونڈر کرس کینز کا کہنا ہے کہ ہمیں کونسل کی چھان بین کا انتظار کرنا چاہیے، نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے سابق کھلاڑیوں پر الزامات حیران کن ہیں، ان کے نام پہلے سے ہی جانتے تھے، آئی سی سی سے قریبی رابطے میں ہیں،کونسل نے بھی فکسنگ انکوائری چند ماہ سے جاری ہونے کی تصدیق کردی۔ تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے نیوزی لینڈ کے کچھ سابق کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات چار ماہ سے جاری ہونے کا گذشتہ روز انکشاف ہوا تھا، اب ان کھلاڑیوں کے نام بھی سامنے آگئے،ان میں بیٹسمین لو ونسنٹ، آل رائونڈر کرس کینز اور فاسٹ بولر ڈیرل ٹفی شامل ہیں، ان ناموں کو دیکھ شائقین کرکٹ حیران رہ گئے جبکہ الزامات نے کیوی کرکٹ کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا۔

لوونسنٹ نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ آئی سی سی جن تین پلیئرز کے خلاف تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے ان میں وہ بھی شامل اور کونسل کے ساتھ اس معاملے پر مکمل تعاون کررہے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں ہر کسی کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے جاری حالیہ تحقیقات میں مکمل تعاون کررہا ہوں، اس حوالے سے کئی قوانین موجود ہیں اس لیے میں کوئی بھی تبصرہ نہیں کرسکتا، جب میں کچھ کہنے کے قابل ہوا تو شائقین سے خود ہی بات کروں گا، فی الحال میں اس معاملے پر اور کوئی ردعمل پیش نہیں کرسکتا۔ مقامی اور انٹرنیشنل میڈیا میں کرس کینز اور ڈیرل ٹفی کا بھی نام آیا مگر نیوزی لینڈ کرکٹ نے تصدیق نہیں کی ، اس معاملے میں جب بورڈ ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے تمام سوالات آئی سی سی کو بھجوا دیے اور وہاں سے بھی کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔




دوسری جانب کرس کینز نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ مجھے اپنا نام اس معاملے میں سامنے آنے پر کافی حیرت ہوئی، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، انھوں نے اس بات کی تصدیق کردی کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ اس بارے میں تحقیقات میں مصروف ہے، ان کا کہنا تھا کہ کونسل کو اپنا کام کرنے دیا جائے تاہم واضح کیا کہ ان کا اینٹی کرپشن یونٹ کے ساتھ براہ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔ ڈیرل ٹفی نے آخری مرتبہ نیوزی لینڈ کی نمائندگی 2010 میں کی تھی جبکہ لوونسنٹ نے 2007 اور کینز نے 2006 میں اپنا آخری انٹرنیشنل میچ کھیلا تھا۔

دن کے آغاز میں ہی نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ نے ہنگامی طور پر بلائی گئی پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ آئی سی سی چند سابق کھلاڑیوں کے خلاف انکوائری میں مصروف ہے، ہمیں اس بارے میں پہلے ہی آگاہ کردیا تھا ، ہمیں ان الزامات پر کافی حیرت ہوئی، ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان تحقیقات میں کوئی موجودہ کھلاڑی شامل نہیں، یہ تحقیقات نیوزی لینڈ کے ڈومیسٹک مقابلے کے بارے میں نہیں بیرون ملک کھیلے جانے والے میچز کے بارے میں ہورہی ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے ایک مقامی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کی ہم تصدیق کرتے ہیں، اینٹی کرپشن و سیکیورٹی یونٹ گذشتہ کچھ ماہ سے انکوائری میں مصروف ہے تاہم اس بارے میں مزید کوئی تبصرہ نہیںکریں گے۔
Load Next Story