واٹر بورڈ کے میٹر ڈویژن میں سنگین بد عنوانیوں کا انکشاف
کرپٹ افسران کنکشن دینے کے بعد میٹر لگانے سے گریزکرتے ہیں ،میٹرلگانے کے بعد ایوریج بل بھیج کر رشوت وصول کی جاتی ہے
صارفین کی تعداد ریکارڈ پر6ہزار ہے،ادارے کوماہانہ 75کروڑکانقصان پہنچایا جارہا ہے،میٹرمافیا کیخلاف کارروائی نہیں ہوسکتی،ذرائع فوٹو: فائل
کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے میٹر ڈویژن میں سنگین نوعیت کی بدعنوانیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
جس کے باعث ادارے کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے، باخبر ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ واٹربورڈ کے میٹر ڈویژن کے ٹرم آف ریفرنس کے تحت جو بلک یا کمرشل کا صارف پانی کے کنکشن کیلیے درخواست دیتا ہے تو واٹر بورڈ ایک ماہ میںکنکشن دینے اور میٹر لگانے کا پابند ہے، ذرائع نے بتا یا کہ واٹر بورڈ میٹر ڈویژن کے کرپٹ افسران کنکشن دینے کے بعد میٹر لگانے سے گریزکرتے ہیں،کئی ماہ تک خطیر رقم کا بل بنواتے رہتے ہیں پھر اس کے بعد صارف کو ڈرا کر اپنی مرضی کا میٹر لگواتے ہیں جوکہ کچھ دنوں بعد خراب ہوجاتا ہے جس کے بعد ایوریج بلنگ شروع کردی جاتی ہے ۔
ایوریج بلنگ صارف کی مرضی سے کی جاتی ہے جوکہ میٹر کی حساب سے 20 فیصد بھی نہیں ہوتی،اس مد میں خطیر رقم بطور رشوت وصول کرلی جاتی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت کراچی میں میٹر صارفین کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہونی چاہیے ، افسوس اورحیرت کی بات یہ ہے کہ ان صارفین کی تعداد ریکارڈ پر صرف 6 ہزار ہے،ان 6 ہزار میں بھی صرف 600 مقامات پر میٹر لگے ہوئے ہیں ، ان600میٹرز میں بھی300 میٹر ناکارہ ہیں۔
واٹربورڈ صرف300 صارفین کو میٹر کے مطابق بل بنا کر دیتا ہے ، یہ صارف وہ ہیں جو کہ عام طور پر سرکاری ادارے ہیں یا پھر ایسے لوگ ہیں جو کہ واٹر بورڈ کے کرپٹ افسران کو رشوت دینے کو تیار نہیں ہیں، ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ اپنی اس صورتحال کو درست کرلے تو ہوسکتا ہے کہ واٹربورڈ کے بعض افسران کی آمدنی میں چند لاکھ روپے کی کمی آجائے، واٹربورڈ کی آمدنی میں کم سے کم 75 کروڑ روپے ماہانہ اضافہ ہوسکتا ہے جس سے نہ صرف واٹربورڈ اپنے مالی بحران سے مکمل طور پر باہر نکل آئے گا بلکہ شہر میں بڑے پیمانے پر فراہمی آب اور نکاسی آب کے منصوبے بھی شروع ہوجائیں گے، ذرائع نے بتایا کہ میٹر مافیا اتنی طاقتور ہوچکی ہے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی اور اس صورتحال کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔
جس کے باعث ادارے کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے، باخبر ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ واٹربورڈ کے میٹر ڈویژن کے ٹرم آف ریفرنس کے تحت جو بلک یا کمرشل کا صارف پانی کے کنکشن کیلیے درخواست دیتا ہے تو واٹر بورڈ ایک ماہ میںکنکشن دینے اور میٹر لگانے کا پابند ہے، ذرائع نے بتا یا کہ واٹر بورڈ میٹر ڈویژن کے کرپٹ افسران کنکشن دینے کے بعد میٹر لگانے سے گریزکرتے ہیں،کئی ماہ تک خطیر رقم کا بل بنواتے رہتے ہیں پھر اس کے بعد صارف کو ڈرا کر اپنی مرضی کا میٹر لگواتے ہیں جوکہ کچھ دنوں بعد خراب ہوجاتا ہے جس کے بعد ایوریج بلنگ شروع کردی جاتی ہے ۔
ایوریج بلنگ صارف کی مرضی سے کی جاتی ہے جوکہ میٹر کی حساب سے 20 فیصد بھی نہیں ہوتی،اس مد میں خطیر رقم بطور رشوت وصول کرلی جاتی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت کراچی میں میٹر صارفین کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہونی چاہیے ، افسوس اورحیرت کی بات یہ ہے کہ ان صارفین کی تعداد ریکارڈ پر صرف 6 ہزار ہے،ان 6 ہزار میں بھی صرف 600 مقامات پر میٹر لگے ہوئے ہیں ، ان600میٹرز میں بھی300 میٹر ناکارہ ہیں۔
واٹربورڈ صرف300 صارفین کو میٹر کے مطابق بل بنا کر دیتا ہے ، یہ صارف وہ ہیں جو کہ عام طور پر سرکاری ادارے ہیں یا پھر ایسے لوگ ہیں جو کہ واٹر بورڈ کے کرپٹ افسران کو رشوت دینے کو تیار نہیں ہیں، ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ اپنی اس صورتحال کو درست کرلے تو ہوسکتا ہے کہ واٹربورڈ کے بعض افسران کی آمدنی میں چند لاکھ روپے کی کمی آجائے، واٹربورڈ کی آمدنی میں کم سے کم 75 کروڑ روپے ماہانہ اضافہ ہوسکتا ہے جس سے نہ صرف واٹربورڈ اپنے مالی بحران سے مکمل طور پر باہر نکل آئے گا بلکہ شہر میں بڑے پیمانے پر فراہمی آب اور نکاسی آب کے منصوبے بھی شروع ہوجائیں گے، ذرائع نے بتایا کہ میٹر مافیا اتنی طاقتور ہوچکی ہے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی اور اس صورتحال کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔