سپریم کورٹ کا راجا پرویز کیخلاف فوجداری کارروائی کا حکم وزیر اعظم وزرائے اعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز پر بھی ?

وزیر اعظم یا وزیراعلیٰ کو عوامی نمائندے یا کسی کو بھی گرانٹ جاری کرنے کا آئینی اختیار نہیں، چیف جسٹس افتخار چوہدری

آئین وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کو کسی رکن قومی و صوبائی اسمبلی یا اشرافیہ میں سے کسی کو گرانٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔فوٹو:فائل

عدالت عظمیٰ نے سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کی طرف سے صوابدیدی اختیار کے تحت ارکان پارلمینٹ، صوبائی اسمبلی کے ارکان اور بااثر لوگوں کو ترقیاتی کاموں کے لیے 47 ارب روپے جاری کرنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری،جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل بینچ نے اس بارے میں کیس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو جمعرات کو سنایا گیا۔ فیصلہ چیف جسٹس نے خود لکھا اورخود پڑھ کر سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کو کسی رکن قومی و صوبائی اسمبلی یا اشرافیہ میں سے کسی کو گرانٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں دیتا،گرانٹ کا اجرا اسمبلی کی منظوری سے مشروط ہے۔ اس کا استعمال انتظامی اختیار ہے تاہم یہ اختیار آئین کے آرٹیکل 80،84اور پیپرا رولز2007کی پیروی کاپابند ہے۔ انتظامیہ کے پاس لامحدود صوابدیدی اختیار نہیں، وزیر اعظم پرویز اشرف نے پیپلز ورکس پروگرام برائے مالی سال 2012اور 13کے تحت جو ترقیاتی فنڈز جاری کیے، متعقلہ اداروں کی ذمے داری تھی کہ فنڈ دیتے وقت قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے لیکن انتہائی غیر شفاف طریقے سے یہ فنڈز جاری کیے گئے اور تمام 6963منصوبوں میں سے ایک میں بھی قواعد کا خیال نہیں رکھا گیا۔

عدالت نے صوابدیدی اختیار کے تحت ارکان اسمبلی اور اشرافیہ کو فنڈز جاری کرنا غیر آئینی قرار دیتے ہوئے آئندہ صوابدیدی اختیار کے استعمال میں قواعد کو نظر انداز نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ بجٹ میں جس مقصد کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں وہ اسی مقصد پر خرچ ہونے چاہئیں۔اگر کسی منصوبے کے لیے اضافی فنڈ کی ضرورت ہو تو اس کے لیے آئین کے تحت اسمبلی سے منظوری لینا ضروری ہے ۔




دریں اثناء عدالت نے بلوچستان میں ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال کے بارے میں آئینی پٹیشن کا فیصلہ بھی صادر کر دیا اورصوبائی حکومت کو ہدیت کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کریں اور فنڈز میں خورد برد کرنے والوں اور بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف سول و فوجداری کاروائی کی جائے ۔

آئی این پی کے مطابق سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف کی ترقیاتی اسکیموں کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اربوں روپے کے غیر قانونی فنڈز تقسیم کرنے اور سابق وزیراعظم کی جانب سے جاری ترقیاتی اسکیموں کیلیے فنڈز کی تقسیم کو غیر قانونی قرار دے کرسابق وزیر اعظم اور جن لوگو ں نے ان فنڈز سے ناجائز فوائد حاصل کیے ،ان کیخلاف سول اور فوجداری مقدمات کے اندراج کا حکم دیدیا۔سپریم کورٹ نے 22 جولائی کو اپنے محفوظ کیے گئے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ترقیاتی اسکیموں کے اجرا میں بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں' فنڈز غیرقانونی طورپرمن پسند افراد اور ارکان پارلیمنٹ کوجاری کیے گئے۔سابق وزیراعظم پرویز اشرف نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ارکان اسمبلی اور دیگر لوگوں کو ترقیاتی فنڈز کے نام پر نوازا۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اس حوالے سے وفاقی حکومت سے بھی جواب طلب کیا تھا جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ پیپلز ورکس پروگرام کے لیے مختص رقم غیر قانونی طور پر من پسند ارکان پارلیمنٹ میں تقسیم کی گئی تھی۔
Load Next Story