حلقہ بندیوں سے متعلق متحدہ کی آئینی درخواست پر جواب طلب
سندھ ہائیکورٹ سے ملیروشرقی کی یونین کمیٹیوں میں ردوبدل کوغیرقانونی قراردینے کی استدعا
1998کی مردم شماری کے مطابق نئی حلقہ بندیاں کی جائیں، بیرسٹرفروغ نسیم کاموقف۔ فوٹو: فائل
LONDON:
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمدعلی مظہر کی سربراہی میں2رکنی بینچ نے بلدیاتی انتخابات کیلیے نئی حلقہ بندیوں کیخلاف متحدہ قومی موومنٹ کی آئینی درخواست پرایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان کو 19 دسمبر کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے مدعاعلیہان کو کمنٹس پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستارکی جانب سے دائردرخواست میں سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) ایکٹ 2013 کے تحت ضلع ملیراورشرقی کی یونین کمیٹیوں میں ردوبدل کوغیرقانونی قراردینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں چیف سیکریٹری،الیکشن کمیشن، کمشنر کراچی، ملیر، غربی، شرقی، وسطی اور جنوبی کے ڈپٹی کمشنرزاوردیگرکوفریق بناتے ہوئے 12 نومبر اور 21 نومبر کو جاری کردہ2نوٹیفکیشنزکوغیرقانونی اور کالعدم قراردینے کی بھی استدعاکی گئی ہے۔متحدہ قومی موومنٹ کے وکیل بیرسٹرفروغ نسیم نے مؤقف اختیار کیاکہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت حلقہ بندیاں آخری مردم شماری کے مطابق کی جائیںگی،کراچی میں 1998میں آخری مردم شماری ہوئی جس کے مطابق کراچی کی آبادی 93 لاکھ 93 ہزار تصورکی جاتی ہے ، پرانے بلدیاتی نظام کے تحت ایک یونین کونسل 10سے 15ہزار نفوس کی بنیاد پرتشکیل دی گئی تھی جبکہ نئے نظام کے تحت40سے 50ہزار نفوس پرمشتمل یونین کمیٹیاں قائم کردی گئی ہیں،اس نظام میں کراچی میں ڈسٹرکٹ کونسل بھی ختم کردی گئی ہے اوراس طرح کراچی میں صرف یونین کمیٹیاں ہی کام کریں گی۔
اس ضمن میں12نومبر کو سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) ایکٹ2013کانوٹیفکیشن جاری کیاگیاہے،مذکورہ نوٹیفکیشن کے ذریعے ضلع ملیرمیں 38یونین کمیٹیاں قائم کردی گئی ہیں،شاہ مریداورمائی گاڑھی کوغربی سے نکال کرملیرمیں شامل کردیاگیا ہے جبکہ گابوپٹ کوغربی سے نکال کرضلع جنوبی میں شامل کیاگیاہے،5یونین کمیٹیوں جان محمدبروہی گوٹھ،ایوب گوٹھ،عباس ٹائون،گلزارہجری اورصفورہ گوٹھ کوضلع ملیر سے نکال کر ضلع شرقی میں شامل کردیا گیا ہے، اس طرح ملیر کیلیے 41یونین کمیٹیاں اور جنوبی کیلئے 17یونین کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور یونین کمیٹیوں میں آبادی کا تناسب بھی یکساں نہیں۔درخواست میں استدعاکی گئی ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن کوغیرقانونی اور کاالعدم قراردیا جائے، 1998 کی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں کی جائیں اوراسی لحاظ سے یونین کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں،درخواست پہلے جسٹس ندیم اخترکی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو پیش کی گئی تھی تاہم بعدمیں اسے جسٹس محمدعلی مظہرکی سربراہی میں بینچ کے روبروپیش کیاگیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمدعلی مظہر کی سربراہی میں2رکنی بینچ نے بلدیاتی انتخابات کیلیے نئی حلقہ بندیوں کیخلاف متحدہ قومی موومنٹ کی آئینی درخواست پرایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان کو 19 دسمبر کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے مدعاعلیہان کو کمنٹس پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستارکی جانب سے دائردرخواست میں سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) ایکٹ 2013 کے تحت ضلع ملیراورشرقی کی یونین کمیٹیوں میں ردوبدل کوغیرقانونی قراردینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں چیف سیکریٹری،الیکشن کمیشن، کمشنر کراچی، ملیر، غربی، شرقی، وسطی اور جنوبی کے ڈپٹی کمشنرزاوردیگرکوفریق بناتے ہوئے 12 نومبر اور 21 نومبر کو جاری کردہ2نوٹیفکیشنزکوغیرقانونی اور کالعدم قراردینے کی بھی استدعاکی گئی ہے۔متحدہ قومی موومنٹ کے وکیل بیرسٹرفروغ نسیم نے مؤقف اختیار کیاکہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت حلقہ بندیاں آخری مردم شماری کے مطابق کی جائیںگی،کراچی میں 1998میں آخری مردم شماری ہوئی جس کے مطابق کراچی کی آبادی 93 لاکھ 93 ہزار تصورکی جاتی ہے ، پرانے بلدیاتی نظام کے تحت ایک یونین کونسل 10سے 15ہزار نفوس کی بنیاد پرتشکیل دی گئی تھی جبکہ نئے نظام کے تحت40سے 50ہزار نفوس پرمشتمل یونین کمیٹیاں قائم کردی گئی ہیں،اس نظام میں کراچی میں ڈسٹرکٹ کونسل بھی ختم کردی گئی ہے اوراس طرح کراچی میں صرف یونین کمیٹیاں ہی کام کریں گی۔
اس ضمن میں12نومبر کو سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) ایکٹ2013کانوٹیفکیشن جاری کیاگیاہے،مذکورہ نوٹیفکیشن کے ذریعے ضلع ملیرمیں 38یونین کمیٹیاں قائم کردی گئی ہیں،شاہ مریداورمائی گاڑھی کوغربی سے نکال کرملیرمیں شامل کردیاگیا ہے جبکہ گابوپٹ کوغربی سے نکال کرضلع جنوبی میں شامل کیاگیاہے،5یونین کمیٹیوں جان محمدبروہی گوٹھ،ایوب گوٹھ،عباس ٹائون،گلزارہجری اورصفورہ گوٹھ کوضلع ملیر سے نکال کر ضلع شرقی میں شامل کردیا گیا ہے، اس طرح ملیر کیلیے 41یونین کمیٹیاں اور جنوبی کیلئے 17یونین کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور یونین کمیٹیوں میں آبادی کا تناسب بھی یکساں نہیں۔درخواست میں استدعاکی گئی ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن کوغیرقانونی اور کاالعدم قراردیا جائے، 1998 کی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں کی جائیں اوراسی لحاظ سے یونین کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں،درخواست پہلے جسٹس ندیم اخترکی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو پیش کی گئی تھی تاہم بعدمیں اسے جسٹس محمدعلی مظہرکی سربراہی میں بینچ کے روبروپیش کیاگیا۔