مشرف کی مخالفت پر 3 سینیٹروں کو دھمکی آمیز خط موصول معاملہ وزیراعظم سے اٹھائیں گے چیئرمین سینیٹ

اسحق ڈار کو بھی دھمکی ملی،اعتزاز،گالیاں،دھمکیاں دی گئیں،ربانی،ڈرنے والے نہیں، زاہدخان،تحقیقات کرائیںگے،ظفرالحق

رضاربانی اور زاہد خان کو دھمکی آمیز خطوط ملے ہیں ، ہاتھ سے لکھے ان خطوط میں گالیاں بھی دی گئی ہیں۔فوٹو:فائل

سینیٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے سینیٹررضا ربانی، اے این پی کے سینیٹر زاہد خان اور وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کو نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکی آمیزخطوط موصول ہوئے ہیں جن میں انھیں پرویزمشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرنے کے بیانات دینے پرجان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں جبکہ قائد ایوان راجا ظفرالحق نے یقین دہانی کرائی ہے کہ خطوط کی کاپیاں انھیں دی جائیں، وزیراعظم سے بات کرکے مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی۔

اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ رضاربانی اور زاہد خان کو دھمکی آمیز خطوط ملے ہیں ، ہاتھ سے لکھے ان خطوط میں گالیاں بھی دی گئی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ پرویز مشرف کے کسی ہمدرد، ساتھی یا چاہنے والے کارکن نے خط لکھے ہیں ، یہ بہت سنگین معاملہ ہے، خصوصی کمیٹی بناکر تحقیقات کی جائیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ مجھے ایک خط دس دن پہلے ملا تھا جس میں گندی گالیاں توجو ہیں سو ہیں لیکن اغوا ، قتل اور گلہ کاٹنے کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں ،آج بھی مجھے ایک خط ملا ہے جس میں ایک بار پھر گالیاں اور دھمکیاں دی گئی ہیں ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی اس طرح کا ایک خط ارسال کیا گیا جس کا ذکر میرے نام خط میں کیا گیا ہے ۔

زاہدخان نے کہا کہ ہم ڈرنے والے نہیں ، مشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔چیئرمین سینیٹ نیئربخاری نے قائد ایوان کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزیراعظم کیساتھ معاملے کو اٹھائیں اور آئندہ بدھ کو ایوان میں رپورٹ پیش کریں۔ راجا ظفرالحق نے کہا کہ خطوط کی کاپیاں مجھے دی جائیں، مکمل تحقیقات کرائی جائیں گی۔ جہانگیر بدر نے وضاحت کی کہ ایل پی جی کے کوٹے سے میرا کوئی تعلق نہیں، میں پرویز مشرف کے دور میں جیل میں تھا ، میری ایل پی جی کمپنی نہیں ۔




دریں اثنا ایوان میں جمعرات کو بھی مہنگائی پر بحث جاری رہی۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ مہنگائی کے اصل ذمے دار ذخیرہ اندوز ہیں ، قیمتوں پرکنٹرول حاصل نہ کرنا حکومت کی نااہلی ہے۔ لالہ عبدالرئوف نے کہا کہ لوگ گزشتہ حکومت کواچھا قرار دینے لگے ہیں، عوام کو ریلیف دینے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے ۔ الیاس بلور نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں وزرا کو نالائق کہا گیا ، اب ان لائق وزیروں کی قابلیت کہاں چلی گئی ، بڑے بڑے بجلی چور پنجاب اور سندھ میں ہیں مگر الزام خیبر پختونخوا پر لگادیا جاتا ہے۔ سعید الحسن مندوخیل نے کہا کہ وزیر خزانہ مہنگائی رکوانے کے لیے اقدامات کریں۔

محسن لغاری ، عبدالحسیب خان ،کریم احمد خواجہ نے بھی بحث میں حصہ لیااور کہا کہ مہنگائی پر کنٹرول کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی دستاویزات اور دفاتر سے بینظیر بھٹو کی تصاویر غائب کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مختاراحمد دھامرہ اور رضا ربانی نے کہا کہ قومی پروگرام تھا ، ن لیگ بھی بینظیر بھٹو کا احترام کرتی تھی لیکن دفاتر اور فائلوں سے ان کی تصاویر ہٹائی جارہی ہیں، حکومت نوٹس لے جس پر قائد ایوان راجا ظفر الحق نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جائیگا۔ بعدازاں اجلاس آج جمعے کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا، وزیرپیٹرولیم شاہد خاقان عباسی مہنگائی میں اضافے سے متعلق تحریک پر بحث سمیٹیں گے۔
Load Next Story