چیئرمین نادرا کی برطرفی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے سینیٹ کمیٹی
آپریشن مڈنائٹ جیکال طرز پر ہٹایا گیا، وزیراعظم،وزیرداخلہ کہتے رضاکارانہ مستعفی ہوجاتا، دھمکیاں ملیں
حکومت نے انتخابی دھاندلیوں کے نتائج سامنے آنے پرایک ایماندار افسرکورات کی تاریکی میں عہدے سے ہٹاکراپنی جگ ہنسائی کرائی ۔فوٹو: فائل
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے چیئرمین نادراطارق ملک کی برطرفی پر شدید برہمی کااظہارکیاہے، کمیٹی نے وزارت داخلہ کوہدایات جاری کی ہیںکہ چیئرمین نادراکی برطرفی کانوٹیفکیشن منسوخ اور چیئرمین نادرا اور ان کے خاندان کومکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے۔
کمیٹی نے متفقہ طورپرکہاکہ حکومت نے انتخابی دھاندلیوں کے نتائج سامنے آنے پرایک ایماندار افسرکورات کی تاریکی میں عہدے سے ہٹاکراپنی جگ ہنسائی کرائی، کمیٹی نے طارق ملک کی برطرفی کے معاملے پر 11 دسمبر کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کرتے ہوئے چیئرمین نادراکوموصول ہونیوالی دھمکیوں کی تحقیقات پربریفنگ کیلیے انٹیلی جنس حکام کو بھی طلب کرلیا۔ اس موقع پرچیئرمین نادراطارق ملک نے کہا ہے کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق چیف الیکشن کمشنر کوبریفنگ دیناچاہتے تھے مگرآپریشن مڈنائٹ جیکال کی طرزپراقدام کرتے ہوئے عہدے سے ہٹایاگیا، اپنامقدمہ عدالت میں لڑوں گا۔ جمعرات کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کااجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرطلحہ محمودکی زیرصدارت ہواجس میںکمیٹی کے اراکین، چیئرمین نادراطارق ملک اوروزارت داخلہ کے حکام نے شرکت کی۔
اس موقع پروزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹری اطہرسیال نے کمیٹی کوبتایاکہ وہ اس معاملے پر بریفنگ نہیںدے سکتے کیونکہ مقدمہ عدالت میںزیرسماعت ہے اورعدالت میںہی اس کاجواب دیاجائے گا۔ اس پرچیئرمین کمیٹی طلحہ محمودنے کہاکہ ہم عدالتی فیصلے کاتذکرہ نہیںکررہے بلکہ چیئرمین نادراکوعہدے سے ہٹانے کی وجوہات پوچھ رہے ہیں۔ رکن کمیٹی شاہی سیدکاکہناتھاکہ حکومت چاہتی تھی کہ طارق ملک حکومت کے غیرقانونی احکام مانیں تاہم طارق ملک نے ایساکرنے سے انکارکردیاجس پرانھیں عہدے سے ہٹادیاگیا۔ چیئرمین نادرانے کمیٹی کو بتایا کہ مجھے ہٹانے کیلیے آپریشن مڈنائٹ جیکال کیاگیا، میری برطرفی کاخط رات ڈیڑھ بجے میرے گھر پہنچایا گیا، جب سے موجودہ حکومت برسراقتدارآئی وزیرداخلہ نے نادرا کا ایک بھی دورہ نہیں کیا۔
مجھے وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے غریبوں کیلیے ایک پروگرام پر بریفنگ کے حوالے سے لاہور بلایاجب میں لاہور پہنچا تو بتایا گیا کہ وزیراعلی کی بجائے وزیر قانون رانا ثنااللہ کوبریفنگ دی جائے میں نے راناثنا اللہ کوبریفنگ دی اسی دوران دوسری طرف میری برطرفی کی سمری تیارکی جارہی تھی جب لاہورسے واپس آرہا تھا توسمری پردستخط کرکے مجھے عہدے سے ہٹادیاگیا، برطرفی سے قبل مجھے 3 دھمکی آمیزخطوط اورٹیلیفون کالزکی گئی جن سے وزارت داخلہ کوآگاہ کرتارہامگرکسی نے جواب نہیں دیا۔طارق ملک نے کہاکہ وہ وزیراعظم ،وزیرداخلہ اورسیکرٹری داخلہ کی انتہائی قدرکرتے ہیںاگروہ مجھے بلاکرعہدہ چھوڑنے کاکہتے تو رضا کارانہ طورپرمستعفی ہوجاتا۔ان کاکہناتھاکہ وہ سپریم کورٹ میںبھی اپناکیس لڑیں گے کیونکہ ان کی تقرری میرٹ پرکی گئی۔ آن لائن کے مطابق چیئرمین نے کہاکہ وزارت داخلہ پارلیمنٹ کی کمیٹی سے چیزوںکوچھپارہی ہے ، چیئرمین نادراکاکہناتھاکہ اپنی تعیناتی کے بعدآج تک چیئرمین کی تنخواہ حکومت سے نہیںلی۔
کمیٹی نے متفقہ طورپرکہاکہ حکومت نے انتخابی دھاندلیوں کے نتائج سامنے آنے پرایک ایماندار افسرکورات کی تاریکی میں عہدے سے ہٹاکراپنی جگ ہنسائی کرائی، کمیٹی نے طارق ملک کی برطرفی کے معاملے پر 11 دسمبر کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کرتے ہوئے چیئرمین نادراکوموصول ہونیوالی دھمکیوں کی تحقیقات پربریفنگ کیلیے انٹیلی جنس حکام کو بھی طلب کرلیا۔ اس موقع پرچیئرمین نادراطارق ملک نے کہا ہے کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق چیف الیکشن کمشنر کوبریفنگ دیناچاہتے تھے مگرآپریشن مڈنائٹ جیکال کی طرزپراقدام کرتے ہوئے عہدے سے ہٹایاگیا، اپنامقدمہ عدالت میں لڑوں گا۔ جمعرات کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کااجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرطلحہ محمودکی زیرصدارت ہواجس میںکمیٹی کے اراکین، چیئرمین نادراطارق ملک اوروزارت داخلہ کے حکام نے شرکت کی۔
اس موقع پروزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹری اطہرسیال نے کمیٹی کوبتایاکہ وہ اس معاملے پر بریفنگ نہیںدے سکتے کیونکہ مقدمہ عدالت میںزیرسماعت ہے اورعدالت میںہی اس کاجواب دیاجائے گا۔ اس پرچیئرمین کمیٹی طلحہ محمودنے کہاکہ ہم عدالتی فیصلے کاتذکرہ نہیںکررہے بلکہ چیئرمین نادراکوعہدے سے ہٹانے کی وجوہات پوچھ رہے ہیں۔ رکن کمیٹی شاہی سیدکاکہناتھاکہ حکومت چاہتی تھی کہ طارق ملک حکومت کے غیرقانونی احکام مانیں تاہم طارق ملک نے ایساکرنے سے انکارکردیاجس پرانھیں عہدے سے ہٹادیاگیا۔ چیئرمین نادرانے کمیٹی کو بتایا کہ مجھے ہٹانے کیلیے آپریشن مڈنائٹ جیکال کیاگیا، میری برطرفی کاخط رات ڈیڑھ بجے میرے گھر پہنچایا گیا، جب سے موجودہ حکومت برسراقتدارآئی وزیرداخلہ نے نادرا کا ایک بھی دورہ نہیں کیا۔
مجھے وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے غریبوں کیلیے ایک پروگرام پر بریفنگ کے حوالے سے لاہور بلایاجب میں لاہور پہنچا تو بتایا گیا کہ وزیراعلی کی بجائے وزیر قانون رانا ثنااللہ کوبریفنگ دی جائے میں نے راناثنا اللہ کوبریفنگ دی اسی دوران دوسری طرف میری برطرفی کی سمری تیارکی جارہی تھی جب لاہورسے واپس آرہا تھا توسمری پردستخط کرکے مجھے عہدے سے ہٹادیاگیا، برطرفی سے قبل مجھے 3 دھمکی آمیزخطوط اورٹیلیفون کالزکی گئی جن سے وزارت داخلہ کوآگاہ کرتارہامگرکسی نے جواب نہیں دیا۔طارق ملک نے کہاکہ وہ وزیراعظم ،وزیرداخلہ اورسیکرٹری داخلہ کی انتہائی قدرکرتے ہیںاگروہ مجھے بلاکرعہدہ چھوڑنے کاکہتے تو رضا کارانہ طورپرمستعفی ہوجاتا۔ان کاکہناتھاکہ وہ سپریم کورٹ میںبھی اپناکیس لڑیں گے کیونکہ ان کی تقرری میرٹ پرکی گئی۔ آن لائن کے مطابق چیئرمین نے کہاکہ وزارت داخلہ پارلیمنٹ کی کمیٹی سے چیزوںکوچھپارہی ہے ، چیئرمین نادراکاکہناتھاکہ اپنی تعیناتی کے بعدآج تک چیئرمین کی تنخواہ حکومت سے نہیںلی۔