بینظیر بھٹو کے قتل کو روکا جا سکتا تھا نئی کتاب
سابق وزیر اعظم القاعدہ اورطالبان کا ہدف تھیں، اسٹیبلشمنٹ بھی انھیں منظر سے ہٹانا چاہتی تھی
بلیک واٹر کی خدمات حاصل کرنیکی امریکی تجویز مشرف نے مسترد کردی تھی، ہیرالڈو مونوز۔ فوٹو: فائل
سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کی موت کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک نئی کتاب میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کو قتل ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔
بے نظیر بھٹو 2007کے آخری ایام میں راولپنڈی میں قتل کر دی گئی تھیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق پاکستان کی2 مرتبہ وزیراعظم رہنے والی سیاستدان بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے جو کتاب شائع ہوئی ہے وہ چلی کے سفارت کار ہیرالڈو مونوزMunoz Heraldoکی اس انکوائری پر مبنی ہے جو انھوں نے2010میں اقوام متحدہ کی ایک تفتیشی ٹیم کے ساتھ مکمل کی تھی۔ اے ایف پی کے مطابق نیویارک میںاپنی کتاب بے نظیر بھٹو کا قتل اورپاکستان کی سیاست کی تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصنف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کا قتل روکا جاسکتا تھا اور حکومت پاکستان کیس کی درست طریقے سے تفتیش میں ناکام رہی، پاکستان میں بے نظیر بھٹو قتل کی تفتیش کے دوران ان کے کام میں کئی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ جنوری2010میں دوران تفتیش ان پر سیکیورٹی بڑھانے کیلیے دبائو ڈالا گیا، انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کا قتل 17ویں صدی کے اسپینش ڈرامے سے مماثلت رکھتا ہے جس میں پورا گائوں ایک قابل نفرت کمانڈر کے قتل پر متحد ہوگیا تھا ۔انھوں نے کہا کہ القاعدہ بے نظیر کو قتل کرنا چاہتی تھی،طالبان نے منصوبے کے تحت حملہ کیا ممکن ہے کہ انھیں پولیس اورخفیہ اداروں کی کالی بھیڑوں کی معاونت حاصل ہو، بے نظیر کی اپنی ذاتی سیکیورٹی بھی ناکام ہوئی جن لوگوں نے انھیں وطن واپس بلایا وہ بھی انھیں تحفظ نہیں دے سکے۔ایک موقع پر امریکا نے تجویز دی کہ بے نظیر کی سیکیورٹی کیلیے بلیک واٹر کی خدمات حاصل کی جائیں لیکن پرویز مشرف نے یہ تجویزمسترد کردی تھی۔ ان کے قریبی رفقا نے بھی تحقیقات میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
یہ بات تو طے ہے کہ بے نظیر بھٹو القاعدہ اور طالبان کا واضح ہدف تھیں، اسٹیبلشمنٹ بھی ان کو منظر سے ہٹانا چاہتی تھی، قتل کی سازش کے پولیس حکام براہ راست ذمے دار ہیں، وفاقی تفتیشی حکام جائے وقوع پر بہت تاخیر سے اندھیرا ہونے کے بعد پہنچے اور جائے وقوع کو دھونے سے قبل صرف 23شواہد جمع کیے جبکہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جائے وقوع سے ہزاروں شواہد مل سکتے تھے۔ تفتیش میں سابق صدر نے تو تعاون کیا لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان کی حکومت نے بھی تعاون کیا، تحقیقات کے دوران ہمیں ہرقسم کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، بے نظیر بھٹوکے پرائیویٹ سیکیورٹی چیف سابق وزیر داخلہ رحمن ملک ایک بلٹ پروف مرسڈیز گاڑی میں ان کے ہمراہ تھے لیکن حملے کے بعد وہ کہیں نظر نہیں آئے اور تحقیقات کے دوران انھوں نے کسی سوال کا سیدھا جواب نہیں دیا۔ ہیرالڈو مونوزنے کہا کہ اس کیس میں مجرم کون ہے اس کا فیصلہ تو عدالت کرے گی لیکن سابق وزیر اعظم کو مناسب سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کے سیاسی الزام کا بوجھ تو پرویز مشرف کو ہی برداشت کرنا ہے۔
بے نظیر بھٹو 2007کے آخری ایام میں راولپنڈی میں قتل کر دی گئی تھیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق پاکستان کی2 مرتبہ وزیراعظم رہنے والی سیاستدان بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے جو کتاب شائع ہوئی ہے وہ چلی کے سفارت کار ہیرالڈو مونوزMunoz Heraldoکی اس انکوائری پر مبنی ہے جو انھوں نے2010میں اقوام متحدہ کی ایک تفتیشی ٹیم کے ساتھ مکمل کی تھی۔ اے ایف پی کے مطابق نیویارک میںاپنی کتاب بے نظیر بھٹو کا قتل اورپاکستان کی سیاست کی تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصنف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کا قتل روکا جاسکتا تھا اور حکومت پاکستان کیس کی درست طریقے سے تفتیش میں ناکام رہی، پاکستان میں بے نظیر بھٹو قتل کی تفتیش کے دوران ان کے کام میں کئی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ جنوری2010میں دوران تفتیش ان پر سیکیورٹی بڑھانے کیلیے دبائو ڈالا گیا، انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کا قتل 17ویں صدی کے اسپینش ڈرامے سے مماثلت رکھتا ہے جس میں پورا گائوں ایک قابل نفرت کمانڈر کے قتل پر متحد ہوگیا تھا ۔انھوں نے کہا کہ القاعدہ بے نظیر کو قتل کرنا چاہتی تھی،طالبان نے منصوبے کے تحت حملہ کیا ممکن ہے کہ انھیں پولیس اورخفیہ اداروں کی کالی بھیڑوں کی معاونت حاصل ہو، بے نظیر کی اپنی ذاتی سیکیورٹی بھی ناکام ہوئی جن لوگوں نے انھیں وطن واپس بلایا وہ بھی انھیں تحفظ نہیں دے سکے۔ایک موقع پر امریکا نے تجویز دی کہ بے نظیر کی سیکیورٹی کیلیے بلیک واٹر کی خدمات حاصل کی جائیں لیکن پرویز مشرف نے یہ تجویزمسترد کردی تھی۔ ان کے قریبی رفقا نے بھی تحقیقات میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
یہ بات تو طے ہے کہ بے نظیر بھٹو القاعدہ اور طالبان کا واضح ہدف تھیں، اسٹیبلشمنٹ بھی ان کو منظر سے ہٹانا چاہتی تھی، قتل کی سازش کے پولیس حکام براہ راست ذمے دار ہیں، وفاقی تفتیشی حکام جائے وقوع پر بہت تاخیر سے اندھیرا ہونے کے بعد پہنچے اور جائے وقوع کو دھونے سے قبل صرف 23شواہد جمع کیے جبکہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جائے وقوع سے ہزاروں شواہد مل سکتے تھے۔ تفتیش میں سابق صدر نے تو تعاون کیا لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان کی حکومت نے بھی تعاون کیا، تحقیقات کے دوران ہمیں ہرقسم کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، بے نظیر بھٹوکے پرائیویٹ سیکیورٹی چیف سابق وزیر داخلہ رحمن ملک ایک بلٹ پروف مرسڈیز گاڑی میں ان کے ہمراہ تھے لیکن حملے کے بعد وہ کہیں نظر نہیں آئے اور تحقیقات کے دوران انھوں نے کسی سوال کا سیدھا جواب نہیں دیا۔ ہیرالڈو مونوزنے کہا کہ اس کیس میں مجرم کون ہے اس کا فیصلہ تو عدالت کرے گی لیکن سابق وزیر اعظم کو مناسب سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کے سیاسی الزام کا بوجھ تو پرویز مشرف کو ہی برداشت کرنا ہے۔