معیشت اور کورونا اہم فیصلے ناگزیر

کووڈ 19کی وجہ سے ملکی معیشت کا بیرونی توازن کئی طرح سے متاثر ہوگا۔

کووڈ 19کی وجہ سے ملکی معیشت کا بیرونی توازن کئی طرح سے متاثر ہوگا۔ فوٹو: فائل

حکومت بادی النظر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے، اسمارٹ لاک ڈاؤن کے موثر نفاذ، پٹرولیم قیمتوں میں کمی کے عوامی ریلیف پر اہم فیصلے کرچکی ہے، بتایا جاتا ہے کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان سخت لاک ڈاؤن کے حامی اور موجودہ صورتحال اور فیصلوں سے دور رہنے کی حکمت عملی پر قائم ہیں۔

ماہرین کے مطابق گڈ گورننس کا بحران سیاسی اشتراک عمل اور فکری و انتظامی ہم آہنگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کورونا سے جنگ کے لیے جس عمومی اتفاق رائے اور قومی جوش وجذبے کی ضورت ہوتی ہے، بدقسمتی سے تاریخ کے اس نازک دورانیے میں بھی ملکی سیاست کشیدگی کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، وائرس نے حدیں پھلانگ لی ہیں اور اموات اور کیسز کی شرح بڑھ رہی ہے عوام دل شکستہ ہیں کہ سیاسی اسٹیک ہولڈرز میں کوئی سیز فائر پر اتفاق رائے ہوتا نہیں دیکھ رہے۔

ایک طرف وفاقی حکومت کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی اپیلوں کی دل سوزی بڑھ رہی ہے اور وہ ایس او پیز پر عمل کرنے کے لیے عوام الناس سے سنجیدہ طرز عمل کی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں جب کہ دوسری طرف کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے میں ارباب اختیار کا جارحانہ طرز عمل اس صائب حکمت عملی کے فقدان کا آئینہ دار ہے جو اس وبا کے خاتمہ کے لیے بے حد ضروری ہے۔

ملک کے فہمیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بات کا اب فیصلہ کرلینا چاہیے کہ اسے کورونا سے جنگ جاری رکھنا ہے یا اس کا ٹارگٹ اپوزیشن کے خلاف محاذ آرائی اور احتسابی کارروائیوں کا تسلسل جاری رکھنا ہے، ماہرین اور سماجی مفکرین اس امر پر متفق ہیں کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے عوام پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں تساہل اور تجاہل عارفانہ برتنے کا الزام سراسر زیادتی ہے کیونکہ کورونا کے خلاف طبی جنگ اس وقت تک جیتی ہی نہیں جاسکتی جب تک کہ حکومت، اپوزیشن، عوام اور سول سوسائٹی کی متحرک اکثریت ہر قسم کے اختلافات، الزام تراشیوں، کشیدگی اور تناؤ سے بالاتر ہوکر وائرس کو اپنا اولین ٹارگٹ نہیں بنالیتی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن، ریلیف اور ملکی سماجی و معاشی صورتحال پر یکسوئی سے فیصلے کرے اور عوام کو ذہنی سکون اور مکمل سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ حکمرانوں کو ٹارگیٹڈ حکمت عملی کے تحت اپنے اہداف کی تکمیل کرنی چاہیے اور انھیں کورونا سمیت ملکی اقتصادی معاملات کا کوئی صائب حل ڈھونڈھنا ہوگا۔

عملی طور پر حکومت نے پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف دینے کی پیش رفت ضرورت کی ہے، اگرچہ اس ریلیف کا حجم عوامی توقعات کے مطابق نہیں، معاشی مبصرین اور سیاسی حلقوںکے مطابق حکومت نے اوپن ریلیف سے گریز کرتے ہوئے پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف دیتے ہوئے بھی اپنی روایت کے مطابق ''بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے'' کا محاصلاتی تقابل برقرار رکھا ہے، کیونکہ عوام کی توقع اس ریلیف سے بڑھ کر دیگر سہولتوں کی تمنا تھی۔ بہر حال بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی۔

ریلیف نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے ماہ جون کے لیے پٹرول کی قیمت میں نئی قیمتوں کے شیڈول کا علان کردیا ہے، تاہم ابھی بہت سی مراعات، سہولتوں اور امداد و ریلیف کے مزید مواقع حکومت کو پیدا کرنے ہیں، سب سے بنیادی پیش قدمی کورونا اور معیشت کے حوالہ سے اقدامات کا نتیجہ خیز ہونا ہے۔

گڈ گوررننس کی ساری جنگ ان دو اہم نکات کے گرد لڑنا حکومت کے لیے چیلینج اور عوام کی مجبوری ہے، عوام کو اس بات سے سروکار نہیں کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی منطق کیا ہے، وہ ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو کورونا سے پاک ہو، ان کی اذیتیں کم ہوں، روزگار کے دروازے کھلیں، کاروبار اور زندگی کا تحفظ ساتھ ساتھ چلیں۔ حکومت گائیڈ لائنز دے، عوام حفاظتی تدابیر پر عمل کریں، اس بات میں دو رائے نہیں کہ کورونا ایک بے چہرہ دشمن ہے، ماسک پہننے کی ضرورت ناگزیر ہے، اسے مغرب ایک آئکونک کلچرل چیز قراردے چکا ہے۔


سائنس کہتی ہے کہ ماسک سے کم از کم وائرس دوسرے تک منتقل نہیں ہوتا، اس لیے سیناٹائزیشن اور ہجوم سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے، لیکن کورونا کا سارا دارومدا صرف صابن سے ہاتھ دھونے میں نہیں، انسان کو صابن سے زیادہ روزگار کی بھی ضرورت ہے۔

بہر حال سندھ اور بلوچستان حکومتیں اپنے انداز نظر میں قابل تعریف ہیں کہ انھیں عوام کی زندگی کی زیادہ فکر ہے لیکن زمینی حقائق زندگی کے تحفظ کے دیگر پہلوؤں پر بھی شواہد کے ڈھیر لگاتے ہیں، جہاں وفاق و صوبائی حکومتوں کے اقدامات ناکافی نظر آتے ہیں وہاں زندگی کے تحفظ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، اس لیے نعرہ بازی کے بجائے حکومت عملیت پسندی اور حقیقت پسندی سے کام لے، معیشت کی بحالی کورونا کے خاتمہ سے مشروط ہے، دونوں چیلنجز حکومت کے تدبر، لیاقت، اہلیت اور دور اندیشی کا بہترین امتحان ہیں، اس آزمائش سے وزیراعظم کی پوری ٹیم کو جلد یا بدیر سرخرو ہوکر نکلنا ہوگا، یہ بہت بڑا ٹاسک ہے۔

گور نر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ دنیا میں کسی بھی معاملے پر عملدرآمد کے لیے عوام پر سختی لازمی ہوتی ہے اگر پاکستانی عوام نے بھی کورونا کے بچاؤ کے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو حکومت کو بھی یقینی طور پر کوئی سخت حکمت عملی بنانا پڑیگی۔ پاکستان کورونا کے حوالے سے امریکا اور اٹلی جیسے حالات کا کسی صورتحال متحمل نہیں ہوسکتا اس لیے ہمارے پاس کورونا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کے سوا کوئی آپشن نہیں۔

پنجاب آب پاک اتھارٹی نے600 کروڑ کا پی سی ون منظور کر لیا ہے، پنجاب بھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا وعدہ پورا کر یں گے۔ وہ اتوار کو وائس چیئر پرسن سرور فاؤنڈیشن بیگم پروین سرور کے ہمراہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ضلع میں رجانہ اور پیر محل سمیت مختلف علاقوں میں الخیر فاؤنڈیشن اور سرور فاؤنڈیشن کے اشتراک سے 5 فلٹریشن پلانٹس لگانے کی تقریبات سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

گورنر پنجاب کاکہنا تھا ملک کو معاشی مسائل سے بچانے کے لیے حکومت نے لاک ڈاؤن میں نر می کی ہے مگر بدقسمتی سے عوام سمجھ رہے ہیں کہ کورونا ختم ہو چکا، جس سے نہ صرف کورونا کے مر یض بلکہ کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور آنیوالے دنوں میں اس میں مزید شدت اور اضافے کا خطرہ ہے اس لیے ہمیں حفاظتی اقدامات کر نا ہوں گے۔

ادھر دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے اموات کی تعداد 3 لاکھ 7 ہزار763، مریضوں کی تعداد62 لاکھ722اور صحتیاب ہونے والوں کی تعداد27 لاکھ 63 ہزار928 ہے، برازیل میں ہلاکتیں فرانس سے بڑھ گئیں، سعودی عرب میں مسجد نبوی اور فلسطین میں مسجد اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے کھول دیا گیا، امریکا کے شہر لاس اینجلس میں سیاہ فام شخص کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد پھوٹ پڑنے والے ہنگامے لندن تک پہنچ گئے، اٹلی کا مشہور پیسا ٹاور سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا، اسپین میں ہلاکتیں 27 ہزار 125 سے تجاوز کرچکی ہیں۔

خوش آیند اطلاع ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے نام اپنے دو خطوط میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے استدعا کی ہے کہ سندھ میں ٹڈی دل زیر کاشت رقبہ کو تباہ کر رہی ہیں، جس سے سندھ میں فوڈ سیکیورٹی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، انھوں نے کہا کہ ٹڈی دل کے خلاف اقدامات نہ ہوئے تو فصلیں تباہ ہوجائیں گی، لہٰذا ٹڈی دل کے معاملہ پر فوری ایکشن کی درخواست ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت ڈبل کیبن گاڑیاں، ایک لاکھ لیٹر زرعی ادویات اور 12 ٹریکٹرز فراہم کرے، انھوں نے وزیراعظم سے ٹڈی دل کے خاتمہ کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ حکومت ٹڈی دل کے خاتمہ کے لیے6 ایئر کرافٹ بھی فراہم کرے۔

یہ حقیقت ہے کہ ٹڈی دل نے پاکستان کے کئی اضلاع میں ڈیرے ڈال دیے ہیں، ان کی افزائش نسل ہورہی ہے، سنا ہے حکومت اس انتظار میں ہے کہ ٹڈ یوں کا یہ لشکر از خود ہجرت کرجائے گا اور بھارت یا عرب ملکوں کی طرف نکل جائیگا، اس حقیقت کو کسی فکشن سے جوڑنے کی ضرورت نہیں کہ حکومت نے ٹڈیوں کی یلغار اور اس کی ہولناکیوں کا ادراک نہیں کیا اور اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا، ارباب بست وکشاد ٹڈی دل کے خلاف سائنسی بنیاد وں پر کارروائی کریں، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں ٹڈیوں نے فصلیں تباہ اور باغات کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ کاشتکار اور زمیندار سخت پریشان ہیں، ملک کو قحط کا سامنا بھی ہوسکتا ہے، یہ کورونا سے کم تر چیلنج نہیں۔

معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ کووڈ 19کی وجہ سے ملکی معیشت کا بیرونی توازن کئی طرح سے متاثر ہوگا، برآمدات ، بیرونی سرمایہ کاری اور ترسیلات زر محدود ہونگی، درآمدی بل بھی کم ہوگا، غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھ جائیگا، ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے اثرات کی وجہ اقتصادی زوال ہے، ملکی برآمدی مارکیٹوں کے سکڑ جانے کی پیش گوئی کی جا چکی ہے، پاکستان میں تارکین وطن کارکنان کی ترسیلات زر حالیہ برسوں میں زوال کا شکار رہی ہیں۔ یہ ''ٹپ آف این آئس برگ'' ہے معاشی مبصرین پورے ملکی اقتصادی نظام کی اوورہالنگ کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت کورونا اور معیشت کے معاملہ میں بحالی کا توازن برقرا رکھتے ہوئے بریک تھرو کی طرف توجہ دے۔
Load Next Story