صوابدیدی فنڈز پر پابندی کا فیصلہ
کسی بھی علاقے کے معمولی مسئلے کے لیے عوام کو کئی کئی ماہ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔
کسی بھی علاقے کے معمولی مسئلے کے لیے عوام کو کئی کئی ماہ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ فوٹو: فائل
NEW DELHI:
سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی طرف سے صوابدیدی فنڈز سے پارلیمنٹرینز، صوبائی اسمبلی کے ارکان اور بااثر لوگوں کو ترقیاتی کاموں کے لیے 47 ارب روپے جاری کرنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سابق وزیراعظم اور دیگر ذمے داران کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جب کہ وزیراعظم اور وزرا اعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز پر پابندی لگا دی ہے۔
سرکاری خزانہ قومی امانت ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں احتساب کا عمل نہ ہونے کے باعث ہر جمہوری و غیر جمہوری حکومت نے اپنی حکومت کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے مضبوط بنانے کے لیے قومی خزانے کا بے دریغ استعمال کیا۔ ماضی کی حکومتوں نے اپنی پارٹی کے ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کو نوازنے کے لیے بڑے پیمانے پر ترقیاتی فنڈز کا اجرا کیا۔ یہ فنڈز کہاں استعمال ہوئے، ترقیاتی کام ہوئے بھی یا نہیں، جو ترقیاتی کام ہوئے ان میں شفافیت کو کہاں تک مدنظر رکھا گیا، اس بارے میں کبھی پوچھ گچھ نہ کی گئی۔ اپوزیشن ارکان کی جانب سے ہمیشہ یہ واویلا کیا جاتا رہا کہ حکومت مخالفت کی بنا پر اپوزیشن ارکان کو ترقیاتی فنڈز نہیں دے رہی اور صرف اپنے حامیوں کو نواز رہی ہے۔ حکومت اپوزیشن ارکان کے اس شور و غوغا پر کوئی کان نہ دھرتی۔ ترقیاتی کام کے لیے سرکاری ادارے موجود ہیں، قانونی طور پر اپنے شہر میں تمام تر ترقیاتی کاموں کے یہ ادارے ہی ذمے دار ہیں مگر ہر حکومت نے ترقیاتی کاموں کے لیے ان اداروں کو فنڈز دینے کے بجائے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی کاموں کی ذمے داری سونپی اور انھیں فنڈز جاری کیے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور کرپشن کے باعث عوام کی شنوائی نہیں ہوتی۔
کسی بھی علاقے کے معمولی مسئلے کے لیے عوام کو کئی کئی ماہ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ اپنے علاقے کے رکن اسمبلی سے عوام کا رابطہ مضبوط ہوتا ہے، اس لیے آیندہ الیکشن جیتنے کے لیے رکن اسمبلی علاقے کے ترقیاتی کام کرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہ باتیں بھی گردش کرتی ہیں کہ ارکان اسمبلی ان ترقیاتی فنڈز میں خرد برد کرتے ہیں اور حکومت کی جانب سے انھیں ترقیاتی فنڈز کا اجرا ہی اس مقصد کے لیے کیا جاتا ہے کہ اس میں سے ارکان اسمبلی اپنا ''حصہ'' بھی وصول کر لیں۔ صدر مشرف نے ضلعی نظام حکومت قائم کیا اور ارکان اسمبلی کے بجائے ضلعی حکومتوں کو ترقیاتی فنڈز دیے جس سے ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز ہوئی۔ جب ترقیاتی اداروں کے لیے سرکاری ادارے موجود ہیں تو پھر ارکان اسمبلی کو فنڈز کا اجرا چہ معنی دارد؟ اگر سرکاری اداروں میں کرپشن اور بدعنوانی کا راج ہے اور عوام کے مسائل سے احتراز برتا جاتا ہے تو ان اداروں میں کرپشن ختم اور احتساب کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔ ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کا کام قانون سازی اور نظام حکومت کو بہتر انداز میں چلانا ہے نہ کہ گلی محلے کے مسائل حل کرنا مگر ہمارے ہاں الٹی ہی گنگا بہتی ہے۔
اب چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بھی سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی طرف سے صوابدیدی فنڈز کے غلط استعمال کے کیس میں بالکل صائب کہا ہے کہ آئین وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کو ممبر قومی اسمبلی' صوبائی اسمبلی یا اشرافیہ میں سے کسی شخص کو گرانٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں دیتا، گرانٹ کا اجرا اسمبلی کی منظوری سے مشروط ہے۔ بہر حال سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز پر پابندی عائد کر کے درست فیصلہ کیا ہے، اصولی طور پر صوابدیدی فنڈز میں موجود رقوم کو متعلقہ اداروں کو منتقل کر دیا جانا چاہیے۔ ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز اور ملازمتوں کے کوٹے مہیا کرنا بھی درست طریقہ کار نہیں ہے، موجودہ حکومت کو اس معاملے میں قانون سازی کرنی چاہیے اور صوابدیدی فنڈز کی رقوم کو سرکاری اداروں کو منتقل کر دیا جانا چاہیے۔ ملک بھر میں شہروں، قصبوں اور دیہات میں ترقیاتی کام کرانے کے ذمے دار اداروں کی کارکردگی میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔
عوام کے منتخب نمایندے ان اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور جو افسر اور اہلکار نااہلی، غیر ذمے داری، سستی اور بدعنوانی کا مرتکب ہو، اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ملک میں سرکاری مشینری صحیح معنوں میں فعال ہو۔ ان اداروں پر جتنا زیادہ چیک ہو گا، یہ اتنے ہی بہتر انداز میں کام کریں گے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو جائیں گے۔ احتساب کا عمل نہ ہونے کے باعث حکمرانوں کو کبھی یہ خوف نہیں رہا کہ ان کے غلط اقدام پر انھیں سزا بھی ہو سکتی ہے لہذا انھوں نے قومی خزانہ استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ اپنی حدود سے تجاوز کیا۔ صرف عوام کے منتخب نمایندوں ہی کی جانب سے نہیں بلکہ سرکاری اداروں میں بھی کرپشن بہت زیادہ ہے۔ جب حکمران خود خلاف ضابطہ اقدامات کریں گے تو وہ سرکاری اہلکاروں کو کسی بدعنوانی پر کیسے روکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں سرکاری اہلکاروں کو بھی کھل کھیلنے کا موقع فراہم کیا جاتا رہا ہے۔
اب پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ عدالت نے سابق وزیراعظم کی جانب سے صوابدیدی فنڈز کے خلاف ضابطہ استعمال پر سول اور فوجداری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ سیاستدان انتخابات کے دوران عوام سے بڑے بڑے وعدے کرتے اور انھیں سبز باغ دکھاتے ہیں مگر حکومت میں آکر وہ سب وعدے بھول جاتے کیونکہ قانون اور ضابطے ان کے وعدوں سے متصادم ہوتے ہیں۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے اور اسمبلی کے فلور کو عوامی طاقت قرار دینے والے سیاستدان ہی جمہوریت کا سب سے زیادہ مذاق اڑاتے ہیں۔ آئین کے تحت ضمنی گرانٹ کی قومی اسمبلی سے منظوری لینا ہوتی ہے اور اسمبلی کی منظور کردہ گرانٹ انتظامیہ صوابدید کے تحت استعمال نہیں کر سکتی مگر جمہوری حکومتوں نے ضمنی گرانٹ کے لیے کبھی اسمبلی سے منظوری لینا گوارہ نہیں کیا اور آئین سے ہٹ کر رقوم کا استعمال کیا۔ موجودہ جمہوری حکومت پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سرکاری خزانے کو قومی امانت سمجھتے ہوئے ترقیاتی کاموں کا پیسہ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کرے اور اسے غلط ہاتھوں میں جانے سے روکے۔
سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی طرف سے صوابدیدی فنڈز سے پارلیمنٹرینز، صوبائی اسمبلی کے ارکان اور بااثر لوگوں کو ترقیاتی کاموں کے لیے 47 ارب روپے جاری کرنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سابق وزیراعظم اور دیگر ذمے داران کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جب کہ وزیراعظم اور وزرا اعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز پر پابندی لگا دی ہے۔
سرکاری خزانہ قومی امانت ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں احتساب کا عمل نہ ہونے کے باعث ہر جمہوری و غیر جمہوری حکومت نے اپنی حکومت کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے مضبوط بنانے کے لیے قومی خزانے کا بے دریغ استعمال کیا۔ ماضی کی حکومتوں نے اپنی پارٹی کے ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کو نوازنے کے لیے بڑے پیمانے پر ترقیاتی فنڈز کا اجرا کیا۔ یہ فنڈز کہاں استعمال ہوئے، ترقیاتی کام ہوئے بھی یا نہیں، جو ترقیاتی کام ہوئے ان میں شفافیت کو کہاں تک مدنظر رکھا گیا، اس بارے میں کبھی پوچھ گچھ نہ کی گئی۔ اپوزیشن ارکان کی جانب سے ہمیشہ یہ واویلا کیا جاتا رہا کہ حکومت مخالفت کی بنا پر اپوزیشن ارکان کو ترقیاتی فنڈز نہیں دے رہی اور صرف اپنے حامیوں کو نواز رہی ہے۔ حکومت اپوزیشن ارکان کے اس شور و غوغا پر کوئی کان نہ دھرتی۔ ترقیاتی کام کے لیے سرکاری ادارے موجود ہیں، قانونی طور پر اپنے شہر میں تمام تر ترقیاتی کاموں کے یہ ادارے ہی ذمے دار ہیں مگر ہر حکومت نے ترقیاتی کاموں کے لیے ان اداروں کو فنڈز دینے کے بجائے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی کاموں کی ذمے داری سونپی اور انھیں فنڈز جاری کیے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور کرپشن کے باعث عوام کی شنوائی نہیں ہوتی۔
کسی بھی علاقے کے معمولی مسئلے کے لیے عوام کو کئی کئی ماہ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ اپنے علاقے کے رکن اسمبلی سے عوام کا رابطہ مضبوط ہوتا ہے، اس لیے آیندہ الیکشن جیتنے کے لیے رکن اسمبلی علاقے کے ترقیاتی کام کرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہ باتیں بھی گردش کرتی ہیں کہ ارکان اسمبلی ان ترقیاتی فنڈز میں خرد برد کرتے ہیں اور حکومت کی جانب سے انھیں ترقیاتی فنڈز کا اجرا ہی اس مقصد کے لیے کیا جاتا ہے کہ اس میں سے ارکان اسمبلی اپنا ''حصہ'' بھی وصول کر لیں۔ صدر مشرف نے ضلعی نظام حکومت قائم کیا اور ارکان اسمبلی کے بجائے ضلعی حکومتوں کو ترقیاتی فنڈز دیے جس سے ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز ہوئی۔ جب ترقیاتی اداروں کے لیے سرکاری ادارے موجود ہیں تو پھر ارکان اسمبلی کو فنڈز کا اجرا چہ معنی دارد؟ اگر سرکاری اداروں میں کرپشن اور بدعنوانی کا راج ہے اور عوام کے مسائل سے احتراز برتا جاتا ہے تو ان اداروں میں کرپشن ختم اور احتساب کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔ ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کا کام قانون سازی اور نظام حکومت کو بہتر انداز میں چلانا ہے نہ کہ گلی محلے کے مسائل حل کرنا مگر ہمارے ہاں الٹی ہی گنگا بہتی ہے۔
اب چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بھی سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی طرف سے صوابدیدی فنڈز کے غلط استعمال کے کیس میں بالکل صائب کہا ہے کہ آئین وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کو ممبر قومی اسمبلی' صوبائی اسمبلی یا اشرافیہ میں سے کسی شخص کو گرانٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں دیتا، گرانٹ کا اجرا اسمبلی کی منظوری سے مشروط ہے۔ بہر حال سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے صوابدیدی فنڈز پر پابندی عائد کر کے درست فیصلہ کیا ہے، اصولی طور پر صوابدیدی فنڈز میں موجود رقوم کو متعلقہ اداروں کو منتقل کر دیا جانا چاہیے۔ ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز اور ملازمتوں کے کوٹے مہیا کرنا بھی درست طریقہ کار نہیں ہے، موجودہ حکومت کو اس معاملے میں قانون سازی کرنی چاہیے اور صوابدیدی فنڈز کی رقوم کو سرکاری اداروں کو منتقل کر دیا جانا چاہیے۔ ملک بھر میں شہروں، قصبوں اور دیہات میں ترقیاتی کام کرانے کے ذمے دار اداروں کی کارکردگی میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔
عوام کے منتخب نمایندے ان اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور جو افسر اور اہلکار نااہلی، غیر ذمے داری، سستی اور بدعنوانی کا مرتکب ہو، اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ملک میں سرکاری مشینری صحیح معنوں میں فعال ہو۔ ان اداروں پر جتنا زیادہ چیک ہو گا، یہ اتنے ہی بہتر انداز میں کام کریں گے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو جائیں گے۔ احتساب کا عمل نہ ہونے کے باعث حکمرانوں کو کبھی یہ خوف نہیں رہا کہ ان کے غلط اقدام پر انھیں سزا بھی ہو سکتی ہے لہذا انھوں نے قومی خزانہ استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ اپنی حدود سے تجاوز کیا۔ صرف عوام کے منتخب نمایندوں ہی کی جانب سے نہیں بلکہ سرکاری اداروں میں بھی کرپشن بہت زیادہ ہے۔ جب حکمران خود خلاف ضابطہ اقدامات کریں گے تو وہ سرکاری اہلکاروں کو کسی بدعنوانی پر کیسے روکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں سرکاری اہلکاروں کو بھی کھل کھیلنے کا موقع فراہم کیا جاتا رہا ہے۔
اب پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ عدالت نے سابق وزیراعظم کی جانب سے صوابدیدی فنڈز کے خلاف ضابطہ استعمال پر سول اور فوجداری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ سیاستدان انتخابات کے دوران عوام سے بڑے بڑے وعدے کرتے اور انھیں سبز باغ دکھاتے ہیں مگر حکومت میں آکر وہ سب وعدے بھول جاتے کیونکہ قانون اور ضابطے ان کے وعدوں سے متصادم ہوتے ہیں۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے اور اسمبلی کے فلور کو عوامی طاقت قرار دینے والے سیاستدان ہی جمہوریت کا سب سے زیادہ مذاق اڑاتے ہیں۔ آئین کے تحت ضمنی گرانٹ کی قومی اسمبلی سے منظوری لینا ہوتی ہے اور اسمبلی کی منظور کردہ گرانٹ انتظامیہ صوابدید کے تحت استعمال نہیں کر سکتی مگر جمہوری حکومتوں نے ضمنی گرانٹ کے لیے کبھی اسمبلی سے منظوری لینا گوارہ نہیں کیا اور آئین سے ہٹ کر رقوم کا استعمال کیا۔ موجودہ جمہوری حکومت پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سرکاری خزانے کو قومی امانت سمجھتے ہوئے ترقیاتی کاموں کا پیسہ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کرے اور اسے غلط ہاتھوں میں جانے سے روکے۔