کراچی اسٹاک مارکیٹ انڈیکس25000کی تاریخ ساز حد عبور کر کے برقرار رکھنے میں ناکام

بینکنگ،سیمنٹ وآئل سیکٹرمیں سرمایہ کاری سے 70پوائنٹس کااضافہ، انڈیکس 24870کی نئی بلندترین سطح پربند

ماہرین معیشت کی خراب حالت کے باوجودمارکیٹ میں تیزی کو شکوک کی نگاہ سے دیکھنے لگے فوٹو: آن لائن/ فائل

ملکی معیشت کے ناگفتہ بہ صورتحال کے باوجود کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو بھی تیزی کے نئے ریکارڈ قائم ہوگئے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار انڈیکس نے25000 پوائنٹس کی نفسیاتی حدبھی ایک موقع پر عبور کرلی تھی لیکن فوری منافع کے حصول پر دباؤ بڑھنے سے یہ حد زیادہ دیر تو برقراررہ سکی لیکن 24870 پوائنٹس کی بلندترین حد کا ایک نیا ریکارڈ ضرور بن گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی حالات کے تناظر میں چند ماہ قبل تک یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ حصص کی تجارت کا حجم اور انڈیکس نت نئے ریکارڈ قائم کرتاچلا جائے گا، اس غیرمتوقع ریکارڈز سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا یہ بڑوں کا کھیل ہے یا پھرچھوٹے سرمایہ کارخوش ہوکر سرمایہ کاری کر رہے ہیں کیونکہ معیشت تو دگرگوں ہے مگر اس کے بیرومیٹرکی سمت کچھ اور نظرآرہی ہے تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور کمپنیز کی کارکردگی تیزی کی بنیادی وجہ ہے۔

جس کا فائدہ کیا صرف بڑے لوگوں کو ہو رہا ہے یا چھوٹے سرمایہ کار بھی مارکیٹ میں موجود ہیں۔ کراچی اسٹاک ایکس چینج کے ایک سابق ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ چھوٹے سرمایہ کار تو مارکیٹ میں موجود نہیں ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری مارکیٹ کے لیے بڑا سہارا ہے کیونکہ کمپنیز کے مالیاتی نتائج بہت اچھے ہیں، 2005 اور2008 کے بحران کے بعد سے اب تک چھوٹے سرمایہ کاروں کو متحرک کرنے میں کامیابی نہیں ملی، اب یہ شکوک وشبہات بڑھتے جارہے ہیں کہ اسٹاک مارکیٹ کی تیزی زمینی حقائق کے مطابق ہے یا برخلاف لیکن تیزی سے فائدہ اٹھانے کا موقع تو چھوٹے سرمایہ کاروں کو بھی ملنا چاہیے۔ ادھراسٹاک مارکیٹ میں جمعہ کو ٹریڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکزبینکنگ، سیمنٹ اور آئل سیکٹر رہے۔




جبکہ کاروباری لحاظ سے بینک الفلاح، نیشنل بینک، ایم سی بی بینک، پی ٹی سی ایل، فوجی سیمنٹ، نشاط ملز اور میپل لیف سیمنٹ سرفہرست رہے، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر66 لاکھ42 ہزار147 ڈالر کا انخلا بھی کیا گیا لیکن اس کے باوجود تیزی برقرار رہی کیونکہ اس دوران بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے28 لاکھ63 ہزار60 ڈالر، این بی ایف سیز7 لاکھ37 ہزار887 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں28 لاکھ39 ہزار686 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے2 لاکھ 1ہزار515 ڈالر سرمایہ کاری کی گئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 69.86 پوائنٹس کے اضافے سے 24870.55 اورکے ایس ای30 انڈیکس10.48 پوائنٹس کے اضافے سے 18624.99ہوگیا جبکہ کے ایم آئی30 انڈیکس89.71 پوائنٹس کی کمی سے41535.13 ہوگیا، کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 28 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر24 کروڑ11 لاکھ71 ہزار130 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار359 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں180 کے بھاؤ میں اضافہ، 153 کے داموں میں کمی اور26 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
Load Next Story