آسٹریلین فٹبال میچ فکسنگ 3 افراد کا اعتراف جرم

ملائیشین شہری کے علاوہ دو انگلش پلیئرز نے بھی اپنی غلطی تسلیم کرلی، رپورٹ

اسے آسٹریلین اسپورٹس تاریخ کا سب سے بڑا میچ فسکنگ اسکینڈل خیال کیا جارہا ہے۔ فوٹو: فائل

آسٹریلیا کی تاریخ کے بڑے فٹبال میچ فکسنگ اسکینڈل میں تین افراد نے اعتراف جرم کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق اپنی غلطی تسلیم کرنے والوں میں ایک ملائیشین شہری اور دو انگلش فٹبالرز شامل ہیں، جنھوں نے انٹرنیشنل میچ فکسنگ سنڈیکیٹ کا حصہ بنے رہنے کا جرم قبول کرلیا، جمعے کو ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ سیگارین جی سبرامنیم نے اسکینڈل کی تحقیقات کی روشنی میں اپنا جرم قبول کرلیا، تفتیشی حکام نے انھیں سائودرن اسٹار کلب کے پانچ میچز کے نتائج میں گڑبڑ کرنے کا مرکزی ملزم گردانا ہے، یہ میچز رواں برس وکٹورین پریمیئر لیگ میں جولائی اور ستمبر کے درمیان کھلیے گئے تھے، اس کے علاوہ انگلش دفاعی پلیئر ریسی نوئل اور گول کیپر جوئے وولی نے پانچ میچز میں اس کی معاونت کرنے کا اعتراف کرلیا۔




اسے آسٹریلین اسپورٹس تاریخ کا سب سے بڑا میچ فسکنگ اسکینڈل خیال کیا جارہا ہے، تفتیش کاروں کے مطابق اس معاملے پر آسٹریلیا اور بیرون ملک 2 ملین ڈالر سے زائد کی شرطیں جیتی گئی تھیں، پولیس نے اس کیس پر ابتدائی طور پر 10 افراد کو حراست میں لیا تھا، پولیس کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونیو الے بہت سے پلیئرز کا تعلق انگلینڈ سے ہے اور وہ اپنے ملکی آف سیزن میں آسٹریلیا میں کھیلنے کیلیے آتے ہیں، پولیس نے اس آپریشن کا آغاز اگست میں فٹبال فیڈریشن آسٹریلیا (ایف ایف اے ) سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر کیا تھا۔
Load Next Story