ملکی معیشت کی دگرگوں حالت
زمینی حقائق کے مطابق چند دن بعد پیش ہونے والا بجٹ ملکی تاریخ کا مشکل ترین بجٹ ہے۔
زمینی حقائق کے مطابق چند دن بعد پیش ہونے والا بجٹ ملکی تاریخ کا مشکل ترین بجٹ ہے۔۔ فوٹو:فائل
بجٹ کی آمد آمد ہے، اور اس سلسلے میں حکمت عملی کو ٹھوس بنیادوں پر آخری شکل دینے کی غرض سے وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم عمران خان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگلے بجٹ میں عوام پرکم سے کم بوجھ ڈالا جائے گا۔ انتہائی صائب بات یہ ہے کہ وزیراعظم اپنے دل میں محروم اور پسماندہ طبقات کا درد رکھتے ہیں اور وہ ہر قیمت پر عام آدمی کو ریلیف پہنچانا چاہتے ہیں۔
زمینی حقائق کے مطابق چند دن بعد پیش ہونے والا بجٹ ملکی تاریخ کا مشکل ترین بجٹ ہے کیونکہ کورونا وبا نے معیشت کی بنیادیں ہلاکر رکھ دی ہیں۔ عملی طور پر ملکی معیشت کا پہیہ رکا ہوا تھا، جسے دوبارہ رواں کرنے میں وقت لگے گا، بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے ریلیف دیا گیا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرض ہم نے ادا کرنا ہے۔آج نہ سہی،چند ماہ بعد سہی۔
وزیراعظم کی مثبت اور عوام دوست خواہشات اپنی جگہ، لیکن اعدادوشمارکے آئینے میں دیکھنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آرہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوسرے سال بیروزگاری کی شرح بڑھ کر8.53 فیصد ہوگئی ہے،10 لاکھ افراد اسی سال بیروزگار ہوئے ہیں، ن لیگ کی حکومت کے خاتمے پربیروزگاری کی شرح 5.8 فیصد تھی۔ موجودہ حکومت کی وزارت منصوبہ بندی نے اگلے مالی سال کے دوران بیروزگاری کی شرح 9.6 فیصد تک جانے کی پیش گوئی کی ہے جس کا مطلب ہے کہ ساڑھے8 لاکھ مزید افراد بیروزگار ہونگے۔
موجودہ حکومت کی سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی نے اگلے مالی سال کے لیے جی ڈی پی کا ہدف2.3 فیصد ، افراط زرکا 6.5 فیصد، اقتصادی شرح نموکا 2.3 فیصد تجویزکیا ہے۔ فائلوں میں تجاویز مرتب کرنا تو آسان ہے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی داستان بیان کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہم حکومت کے حوالے سے خوش گمان ہیں کہ وہ آیندہ بجٹ میں غیرترقیاتی اخراجات میں کمی کے ساتھ کورونا سے متاثرہ صنعتی شعبے کی بحالی وفروغ اور عوام پر پڑنے والے غیرضروری حکومتی اخراجات کا بوجھ کم کرنے پر خصوصی توجہ مرکوزکررہی ہے۔
بلاشبہ ہم کورونا وائرس کی موجودگی میں بہت سے منصوبوں اورتجاویز پرعمل درآمد نہیں کرسکتے بلکہ آنیوالے دن ملکی معیشت کے لیے انتہائی مشکل ہونگے۔ساری ذمے داری معاشی ماہرین کی ٹیم پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسی حکمت عملی مرتب کریں جس سے ملکی معیشت کی بحالی ممکن ہوسکے۔ حکومت کے معاشی ماہرین کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کن سیکٹرز میں ٹیکس کا نفاذ کرکے حکومتی آمدنی بڑھائی جاسکتی ہے اورکہاں حکومتی اخراجات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔
اس نیک عمل کا آغاز اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کی بے تحاشا سرکاری مراعات میں کمی سے کیا جانا چاہیے، لاکھوں،کروڑوں کی مراعات اگرختم کر دی جائیں اور عوامی نمایندے اپنے اخراجات کا بوجھ خود اٹھائیں تو یہ ایک قومی خدمت شمار ہوگی۔ حکومتی ترجمانوں کی فوج ظفرموج کو بھی اپنا اخراجات خود اٹھانے چاہیئیں ۔ مہنگائی بڑھنے کی ایک وجہ سترہ فی صد جنرل سیلزٹیکس بھی ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں گوناگوں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،اسے کم یا مکمل طور پر ختم کردیا جائے تو بہتر رہے گا۔
بجٹ کے حوالے سے دیکھا جائے تو سرکاری ملازمین سب سے زیادہ پرامید ہیں کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا،اس ضمن میں عرض ہے کہ گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافہ کیا جائے جب کہ گریڈ انیس سے اوپرکے افسران بالاکی تنخواہیں نہ بڑھائی جائیں،کیونکہ وہ پہلے ہی لاکھوں کی مراعات قومی خزانے سے حاصل کر رہے ہیں۔
ملک میں پرائیوٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں،کروڑوں ملازمین بھی معاشی بدحالی کا شکار ہوچکے ہیں کیونکہ ان کی تنخواہیں برسوں سے نہیں بڑھی ہیں، ان کے لیے حکومت کو ایک واضح پالیسی تشکیل دینی چاہیے، اگر سامان تعیش اور لگژری آئٹمزپر ٹیکس نافذکردیا جائے توحکومتی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے ۔آنے والے بجٹ میں شعبہ زراعت کے حوالے سے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جانا چاہیے، اس وقت ملک میں جعلی زرعی ادویات وبیج کی فروخت کا عمل جاری وساری ہے، قرضوں پر شرح سود بھی بہت زیادہ ہے۔
ملکی صنعتی ڈھانچہ بھی دراصل زراعت پرکھڑا ہوا ہے لیکن حکومتی عدم توجہی نے شوگر اور دیگر مافیازکوجنم دیا ہے، مافیاز کے خاتمے سے کسان خوشحال ہوگا۔ اگرچہ حکومت کی مالی مشکلات میں کافی اضافہ ہو چکا ہے مگر بجٹ میں عوامی مشکلات کومدنظر رکھتے ہوئے مزید نئے ٹیکس نہ لگائے جائیں تو یہی سب سے بڑا عوامی ریلیف کہلائے گا۔
زمینی حقائق کے مطابق چند دن بعد پیش ہونے والا بجٹ ملکی تاریخ کا مشکل ترین بجٹ ہے کیونکہ کورونا وبا نے معیشت کی بنیادیں ہلاکر رکھ دی ہیں۔ عملی طور پر ملکی معیشت کا پہیہ رکا ہوا تھا، جسے دوبارہ رواں کرنے میں وقت لگے گا، بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے ریلیف دیا گیا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرض ہم نے ادا کرنا ہے۔آج نہ سہی،چند ماہ بعد سہی۔
وزیراعظم کی مثبت اور عوام دوست خواہشات اپنی جگہ، لیکن اعدادوشمارکے آئینے میں دیکھنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آرہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوسرے سال بیروزگاری کی شرح بڑھ کر8.53 فیصد ہوگئی ہے،10 لاکھ افراد اسی سال بیروزگار ہوئے ہیں، ن لیگ کی حکومت کے خاتمے پربیروزگاری کی شرح 5.8 فیصد تھی۔ موجودہ حکومت کی وزارت منصوبہ بندی نے اگلے مالی سال کے دوران بیروزگاری کی شرح 9.6 فیصد تک جانے کی پیش گوئی کی ہے جس کا مطلب ہے کہ ساڑھے8 لاکھ مزید افراد بیروزگار ہونگے۔
موجودہ حکومت کی سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی نے اگلے مالی سال کے لیے جی ڈی پی کا ہدف2.3 فیصد ، افراط زرکا 6.5 فیصد، اقتصادی شرح نموکا 2.3 فیصد تجویزکیا ہے۔ فائلوں میں تجاویز مرتب کرنا تو آسان ہے لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی داستان بیان کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہم حکومت کے حوالے سے خوش گمان ہیں کہ وہ آیندہ بجٹ میں غیرترقیاتی اخراجات میں کمی کے ساتھ کورونا سے متاثرہ صنعتی شعبے کی بحالی وفروغ اور عوام پر پڑنے والے غیرضروری حکومتی اخراجات کا بوجھ کم کرنے پر خصوصی توجہ مرکوزکررہی ہے۔
بلاشبہ ہم کورونا وائرس کی موجودگی میں بہت سے منصوبوں اورتجاویز پرعمل درآمد نہیں کرسکتے بلکہ آنیوالے دن ملکی معیشت کے لیے انتہائی مشکل ہونگے۔ساری ذمے داری معاشی ماہرین کی ٹیم پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسی حکمت عملی مرتب کریں جس سے ملکی معیشت کی بحالی ممکن ہوسکے۔ حکومت کے معاشی ماہرین کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کن سیکٹرز میں ٹیکس کا نفاذ کرکے حکومتی آمدنی بڑھائی جاسکتی ہے اورکہاں حکومتی اخراجات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔
اس نیک عمل کا آغاز اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کی بے تحاشا سرکاری مراعات میں کمی سے کیا جانا چاہیے، لاکھوں،کروڑوں کی مراعات اگرختم کر دی جائیں اور عوامی نمایندے اپنے اخراجات کا بوجھ خود اٹھائیں تو یہ ایک قومی خدمت شمار ہوگی۔ حکومتی ترجمانوں کی فوج ظفرموج کو بھی اپنا اخراجات خود اٹھانے چاہیئیں ۔ مہنگائی بڑھنے کی ایک وجہ سترہ فی صد جنرل سیلزٹیکس بھی ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں گوناگوں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،اسے کم یا مکمل طور پر ختم کردیا جائے تو بہتر رہے گا۔
بجٹ کے حوالے سے دیکھا جائے تو سرکاری ملازمین سب سے زیادہ پرامید ہیں کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا،اس ضمن میں عرض ہے کہ گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافہ کیا جائے جب کہ گریڈ انیس سے اوپرکے افسران بالاکی تنخواہیں نہ بڑھائی جائیں،کیونکہ وہ پہلے ہی لاکھوں کی مراعات قومی خزانے سے حاصل کر رہے ہیں۔
ملک میں پرائیوٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں،کروڑوں ملازمین بھی معاشی بدحالی کا شکار ہوچکے ہیں کیونکہ ان کی تنخواہیں برسوں سے نہیں بڑھی ہیں، ان کے لیے حکومت کو ایک واضح پالیسی تشکیل دینی چاہیے، اگر سامان تعیش اور لگژری آئٹمزپر ٹیکس نافذکردیا جائے توحکومتی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے ۔آنے والے بجٹ میں شعبہ زراعت کے حوالے سے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جانا چاہیے، اس وقت ملک میں جعلی زرعی ادویات وبیج کی فروخت کا عمل جاری وساری ہے، قرضوں پر شرح سود بھی بہت زیادہ ہے۔
ملکی صنعتی ڈھانچہ بھی دراصل زراعت پرکھڑا ہوا ہے لیکن حکومتی عدم توجہی نے شوگر اور دیگر مافیازکوجنم دیا ہے، مافیاز کے خاتمے سے کسان خوشحال ہوگا۔ اگرچہ حکومت کی مالی مشکلات میں کافی اضافہ ہو چکا ہے مگر بجٹ میں عوامی مشکلات کومدنظر رکھتے ہوئے مزید نئے ٹیکس نہ لگائے جائیں تو یہی سب سے بڑا عوامی ریلیف کہلائے گا۔