بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر سندھ کابینہ 2 حصوں میں تقسیم 3 رکنی کمیٹی بنا دی گئی

بعض ارکان نےبلدیاتی انتخابات جنوری کےبجائے مارچ میںکرانے اورشیڈول تبدیل کرنے کیلیے عدالت سے رجوع کرنے کی رائے دی،ذرائع

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سی ایم ہاؤس میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔فوٹو:این این آئی

سندھ کابینہ کے اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پرارکان دوحصوں میں تقسیم ہوگئے۔

انتہائی باخبر ذرائع سے معلوم ہواہے کہ سندھ کابینہ کے بعض وزرانے اس رائے کااظہار کیا ہے کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات18 جنوری کے بجائے مارچ میں ہونے چاہئیں،انتخابات کاشیڈول تبدیل کرانے کیلیے عدالت سے رجوع کیاجائے۔سندھ کابینہ کااجلاس جمعے کووزیراعلیٰ ہائوس میں وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علیشاہ کی صدارت میں ہوا جس میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کے حوالے سے ایک نکاتی ایجنڈے پرتفصیلی غور کیا گیا، اس معاملے پرپیرکودوبارہ سندھ کابینہ کااجلاس ہوگا۔ذرائع نے بتایاہے کہ سندھ کابینہ نے 3رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جوسیکریٹری بلدیات،سیکریٹری قانون اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ پرمشتمل ہوگی ۔




کمیٹی آئینی اور قانونی نکات کاجائزہ لے گی اوراپنی سفارشات پیرکو سندھ کابینہ کو پیش کرے گی جس میں بتایا جائے گاکہ حکومت سندھ بلدیاتی انتخابات کاشیڈول تبدیل کرانے کے لیے کس عدالت یعنی سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ سے رجوع کرے اورکن قانونی پہلوئوں کواپنے مؤقف کی بنیادبنائے۔ذرائع کے مطابق منظورحسین وسان،سید مراد علی شاہ ، شرجیل میمن سمیت بعض ارکان کی رائے یہ تھی کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات مارچ میں ہونے چاہئیں جبکہ ڈاکٹرسکندر میندھرو اور دیگر وزراکی رائے یہ تھی کہ بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق کرادیے جائیں بصورت دیگر معاملات خراب ہوسکتے ہیں۔کابینہ کوبتایاگیاکہ الیکشن شیڈول کااب تک اعلان نہیں ہواہے لیکن حکومت سندھ کے پاس یہ قانونی گنجائش موجود ہے کہ وہ اس اعلان سے پہلے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔
Load Next Story