سینیٹ قومی اسمبلی میں نیلسن منڈیلا کے انتقال پر تعزیتی قراردادیں منظور
قراردادیں وزیراعظم کے مشیرسرتاج عزیزنے پیش کیں،ایوان بالامیں ایک منٹ کی خاموشی
منڈیلا کے انتقال پر پاکستان کے عوام جنوبی افریقہ کے عوام کیساتھ دلی دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ فوٹو:فائل
سینیٹ اور قومی اسمبلی نے جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کے انتقال پراظہار تعزیت کی قراردادیں متفقہ طور پر منظورکرتے ہوئے انھیں زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جبکہ دونوں اجلاس بغیر کسی کارروائی کے پیر تک ملتوی کردیے گئے۔
جمعے کو دونوں ایوانوں میں نیلسن منڈیلا کے انتقال پراظہار تعزیت کی قراردادیں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے پیش کیں جن کی متفقہ منظوری دی گئی۔ قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ نیلسن منڈیلا نے جمہوریت کے فروغ، نسلی امتیاز کے خاتمے اور دنیا کی مظلوم انسانیت کے وقارکے لیے بے مثال جدوجہد کی ہے، ان کے انتقال پر پاکستان کے عوام جنوبی افریقہ کے عوام کیساتھ دلی دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ایوان بالا میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی، تمام ارکان نے کھڑے ہوکر نیلسن منڈیلا کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ نیلسن منڈیلا نے 2 مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا،اپنے دوسرے دورے میں انھوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا،ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔ چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ نیلسن منڈیلا کی وفات سے دنیا ایک عظیم لیڈرسے محروم ہوگئی ۔ راجا ظفر الحق نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کی جدوجہد پوری دنیا پر محیط ہے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ نیلسن منڈیلا تیسری دنیا کی اقوام کے لیے روشن مینار تھے۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد جنوبی افریقہ بھجوایا جائے۔ افراسیاب خٹک نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کی زندگی اور جدوجہد ساری دنیا کی میراث ہے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہمیں منڈیلا ماڈل سے سیکھنا چاہیے۔ مولا بخش چانڈیو ، بابر اعوان ، طاہر مشہدی ،کلثوم پروین ، محسن لغاری، میر حاصل بزنجو،بابرغوری اور دیگر ارکان نے بھی نیلسن منڈیلا کو خراج عقیدت پیش کیا۔بعدازاں اجلاس پیر کی سہ پہرساڑھے3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ قومی اسمبلی میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کے انتقال پردنیا کو یکجہتی کا پیغام دینے کے لیے اجلاس ملتوی کیا جائے۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے بھی محمود اچکزئی کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے لیے نیلسن منڈیلا کی بہت قربانیاں ہیں ۔ اس کے بعد وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ حکومت کو اجلاس ملتوی کرنے پر اعتراض نہیں۔ سرتاج عزیز کی جانب سے پیش کردہ تعزیتی قرارداد کی منظوری کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کردیا۔ قبل ازیں اجلاس میں سابق وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی امیر حیدر کاظمی کے لیے بھی فاتحہ خوانی کرائی گئی۔
جمعے کو دونوں ایوانوں میں نیلسن منڈیلا کے انتقال پراظہار تعزیت کی قراردادیں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے پیش کیں جن کی متفقہ منظوری دی گئی۔ قراردادوں میں کہا گیا ہے کہ نیلسن منڈیلا نے جمہوریت کے فروغ، نسلی امتیاز کے خاتمے اور دنیا کی مظلوم انسانیت کے وقارکے لیے بے مثال جدوجہد کی ہے، ان کے انتقال پر پاکستان کے عوام جنوبی افریقہ کے عوام کیساتھ دلی دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ایوان بالا میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی، تمام ارکان نے کھڑے ہوکر نیلسن منڈیلا کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ نیلسن منڈیلا نے 2 مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا،اپنے دوسرے دورے میں انھوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا،ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔ چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ نیلسن منڈیلا کی وفات سے دنیا ایک عظیم لیڈرسے محروم ہوگئی ۔ راجا ظفر الحق نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کی جدوجہد پوری دنیا پر محیط ہے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ نیلسن منڈیلا تیسری دنیا کی اقوام کے لیے روشن مینار تھے۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد جنوبی افریقہ بھجوایا جائے۔ افراسیاب خٹک نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کی زندگی اور جدوجہد ساری دنیا کی میراث ہے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہمیں منڈیلا ماڈل سے سیکھنا چاہیے۔ مولا بخش چانڈیو ، بابر اعوان ، طاہر مشہدی ،کلثوم پروین ، محسن لغاری، میر حاصل بزنجو،بابرغوری اور دیگر ارکان نے بھی نیلسن منڈیلا کو خراج عقیدت پیش کیا۔بعدازاں اجلاس پیر کی سہ پہرساڑھے3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ قومی اسمبلی میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کے انتقال پردنیا کو یکجہتی کا پیغام دینے کے لیے اجلاس ملتوی کیا جائے۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے بھی محمود اچکزئی کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے لیے نیلسن منڈیلا کی بہت قربانیاں ہیں ۔ اس کے بعد وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ حکومت کو اجلاس ملتوی کرنے پر اعتراض نہیں۔ سرتاج عزیز کی جانب سے پیش کردہ تعزیتی قرارداد کی منظوری کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کردیا۔ قبل ازیں اجلاس میں سابق وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی امیر حیدر کاظمی کے لیے بھی فاتحہ خوانی کرائی گئی۔