پی سی بی اور وزیراعظم کا وژن
ایسے فیصلے ہی نہ کریں کہ پھر یوٹرن لینا پڑے، صاحب اگر ناراض ہوگئے تو وہ دوستوں کو بھی نہیں چھوڑتے یہ بات یاد رکھیں۔
ایسے فیصلے ہی نہ کریں کہ پھر یوٹرن لینا پڑے، صاحب اگر ناراض ہوگئے تو وہ دوستوں کو بھی نہیں چھوڑتے یہ بات یاد رکھیں۔ فوٹو: فائل
''پی سی بی حکام وزیراعظم کے وژن پر کام کر رہے ہیں، انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو ایسا بنا دوں گا کہ لوگ نوکریاں کرنے باہر سے آئیں گے، دیکھ لیں احسان مانی، وسیم خان، ثقلین مشتاق،ندیم خان، وقار یونس، گرانٹ بریڈ برن وغیرہ سب باہر ہی سے توآئے ہیں''
مجھے واٹس ایپ پرقہقہوں کے ایموجز والا یہ پیغام موصول ہوا، جس نے بھیجا اپنی دانست میں وہ اسے لطیفہ سمجھ رہا تھا لیکن میں اس سے متفق نہیں، احسان مانی اب پاکستان میں ہی رہتے ہیں، وسیم خان بھی یہاں آ چکے، ندیم خان کوتو واپس آئے برسوں بیت چکے، ثقلین اور وقار کے پاس بھلے ہی پاسپورٹس برطانیہ اور آسٹریلیا کے ہوں مگر کام تو وہ اپنے ملک کیلیے ہی کرنا چاہتے ہیں، مگر کیا کریں لوگوں کو کسی حال میں چین نہیں،وہ ایسے ہی مذاق اڑاتے رہتے ہیں، حالانکہ اس کیلیے لطیفے بنانے کی ضرورت نہیں جس طرح موجودہ انتظامیہ معاملات کو چلا رہی ہے وہ بھی کسی مذاق سے کم نہیں، وہ تو ''دوست'' میڈیا نہ ہو تو نجانے کیا ہو جائے، اس کے باوجود آپ دیکھیں ہر چند دن بعد کوئی بڑا تنازع سامنے آ جاتا ہے،جسے دیکھ کر یہ خیال دل میں آتا ہے کہ کہیں قذافی اسٹیڈیم کے باہر یہ بورڈ تو نہیں لگاکہ ''آ بیل مجھے مار''۔
آپ کورونا وائرس کے سبب اتنے خراب حالات میں نچلے اسٹاف کو برطرف کرنے کا شاہی فرمان ہی دیکھ لیں، وزیر اعظم واضح الفاظ میں کہہ چکے کہ کسی کو ملازمت سے نہ نکالا جائے، اس کے باوجود وہ ادارہ جس میں بطور سرپرست اعلیٰ ان کا نام لکھا ہوتا ہے اس نے ہی 55 غریبوں کو بغیر سوچے سمجھے فارغ کر دیا، رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی اس فیصلے کیخلاف عدالت میں مقدمہ کرنے والے تھے، میڈیا میں خبریں چلیں اور پھر رات گئے نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا۔
میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ان 55 افراد کی تنخواہیں مل کر بھی ایک اعلیٰ عہدیدار کی ماہانہ تنخواہ کے برابر نہیں ہو سکتیں مگر پھر بھی بورڈ نے ایسا کیا، سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ''درباریوں'' نے اس پر بھی ''واہ بادشاہ سلامت کیا فیصلہ کیا ہے'' کے قصیدے پڑھنا شروع کر دیے،ایک غلط فیصلے کو واپس لینا اچھی بات ہے مگر یہ کوئی کارنامہ کیسے ہوگیا؟
میرے صحافی دوست عباس رضا نے فخر سے کہا کہ ''بورڈ نے میڈیا کے ڈر سے فیصلہ تبدیل کرلیا'' میں یہ سن کر بس مسکرا ہی سکتا تھا کیونکہ مجھے پتا ہے کہ موجودہ حکام کو میڈیا کی بالکل پروا نہیں ہے، رپورٹس کا نوٹس لیا نہیں بلکہ نوٹس دیا جاتا ہے، اگر میڈیا کا خوف ہوتا تو تقرریاں پہلے اور اشتہار بعد میں نہ دیے جاتے، ڈومیسٹک سسٹم کو تبدیل کر کے کرکٹرز کو بے روزگار نہ کیا جاتا، پی ایس ایل کے میچز جوئے کی ویب سائٹ پر چلنے پر بھی ایکشن لیا جاتا مگر کچھ نہ ہوا۔
میڈیا کا دباؤ اپنی جگہ لیکن اسی کے ساتھ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ جو لوگ موجودہ بورڈ حکام کو لائے انھوں نے ہی سرزنش کی ہو گی جس پر حکام کو فیصلہ تبدیل کر کے ملازمین کو واپس لانا پڑا، باتیں سب اصولوں کی کرتے ہیں ہوتا اس کے برعکس ہے، نجم سیٹھی نے بھی ایسے غریب ملازمین کو نکالا اور بعد میں اپنے لوگ بھرتی کیے، آج اضافی اسٹاف کا واویلہ مچایا جاتا ہے تو پھر ماضی میں ذاکر خان کو برسوں بغیر کام لیے مکمل تنخواہ اور مراعات کیوں دی گئیں،اس وقت کیوں کسی نے اعتراض نہ کیا، سب کو ڈرائیور، مالی اور ایسے ہی غریب ملازمین نظر آتے ہیں۔
اب ایک طرف لوگ نکالے جا رہے ہیں دوسری جانب بھاری تنخواہوں پر بھرتیاں بھی ہو رہی ہیں، پوری دنیا کا نظام چوپٹ ہو چکا مگر یہاں ہائی پرفارمنس سینٹر کے نام پر خوب تقرریاں ہوئیں، کیا تھوڑا انتظار نہیں کر سکتے تھے، ابھی کون سا وہاں کرکٹرز کو تیار کیا جانا ہے، تقریباً ہر پوسٹ پر اپنی پسند کا آفیشل آ چکا، سب سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ چیف فنانشل آفیسر کیلیے گریجویٹ کی شرط رکھی گئی ہے، اس پر لوگ باتیں بنانے لگے کہ کسی من پسند شخصیت کو لانے کیلیے ایسا کیا گیا ہے، قائم مقام سی ایف او عتیق رشید چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں ان کا باس گریجویٹ کیسے ہوگا؟
کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عتیق کیلیے ہی راہ ہموار کی گئی اور وہی مستقل ہو جائیں گے، خیر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے،اس وقت بورڈ نے کئی محاذ کھولے ہوئے ہیں، پی ایس ایل فرنچائزز خوش نہیں، براڈ کاسٹرز سے بھی اختلافات ہیں، جنھیں سلجھانے کیلیے سابق سی او او سبحان احمد کام کر رہے ہیں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ حکام کا رویہ متکبرانہ ہے، وہ اہم اسٹیک ہولڈرز سے بھی اپنے ملازم کی طرح سلوک کرتے ہیں، میں کوئی نجومی نہیں مگر اس بورڈ کی زیادہ تر تقرریوں کا پہلے ہی بتا دیا تھا۔
میڈیا رائٹس کنسلٹنسی کیلیے آسٹریلوی کمپنی کا نام اشتہار دیکھتے ہی سامنے آ گیا تھا، یہ میری کامیابی نہیں بلکہ بورڈ کے سسٹم پر بڑا سوالیہ نشان ہے، اس سے شفافیت پر بھی سوال اٹھتے ہیں،آپ اس کرکٹ بورڈ کی ایک سالہ کارکردگی نکال کر دیکھ لیں کوئی اہم کامیابی نظر نہیں آئے گی مگر تنازعات کی بڑی فہرست موجود ہے۔
سی ای او وسیم خان کی بھاری تنخواہ ابتدا سے ہی خبروں میں رہی ہے، حالیہ تنازع کے بعد انھوں نے 15 لاکھ روپے پی سی بی ویلفیئر فنڈ میں دینے کا اعلان کیا جو خوش آئند ہے، مگر سوچنے کی بات ہے کہ اس کیلیے بورڈ کو باقاعدہ پریس ریلیز کیوں جاری کرنا پڑی جس میں چیئرمین نے سی ای او کی خوب تعریفیں کیں، اس سے ایسا لگتا ہے کہ حکام سخت دباؤ کا شکار اور اب اپنا امیج بہتر بنانا چاہتے ہیں،ویسے مصباح الحق کو بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ایسے مشکل وقت میں بغیر کسی کام کے 32 لاکھ روپے ماہانہ لینا درست ہے۔
وقار یونس باتیں پاکستان کی کرتے ہیں مگر جہاں کوئی مشکل وقت آیا فوراً اپنے نئے ملک آسٹریلیا چلے جاتے ہیں، وہ اب بھی وہیں ہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ تقریباً27 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ انھیں ڈالرز میں درکار ہوتی ہے، کیا یہ ملک کے ساتھ ظلم نہیں، اگر بورڈ کو واقعی بچت کرنی ہے تو بھاری تنخواہیں لینے والے ان آفیشلز اور اپنے اعلیٰ حکام کو دیکھیں۔
بیچارے غریب ملازمین پر تلوار نہ چلائیں، وہ تو کورونا کے دنوں میں بھی گراؤنڈ کی صفائی یا کوئی اور ایسا کام کر رہے ہوں گے، ایسے فیصلے ہی نہ کریں کہ پھر یوٹرن لینا پڑے، صاحب اگر ناراض ہوگئے تو وہ دوستوں کو بھی نہیں چھوڑتے یہ بات یاد رکھیں۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
مجھے واٹس ایپ پرقہقہوں کے ایموجز والا یہ پیغام موصول ہوا، جس نے بھیجا اپنی دانست میں وہ اسے لطیفہ سمجھ رہا تھا لیکن میں اس سے متفق نہیں، احسان مانی اب پاکستان میں ہی رہتے ہیں، وسیم خان بھی یہاں آ چکے، ندیم خان کوتو واپس آئے برسوں بیت چکے، ثقلین اور وقار کے پاس بھلے ہی پاسپورٹس برطانیہ اور آسٹریلیا کے ہوں مگر کام تو وہ اپنے ملک کیلیے ہی کرنا چاہتے ہیں، مگر کیا کریں لوگوں کو کسی حال میں چین نہیں،وہ ایسے ہی مذاق اڑاتے رہتے ہیں، حالانکہ اس کیلیے لطیفے بنانے کی ضرورت نہیں جس طرح موجودہ انتظامیہ معاملات کو چلا رہی ہے وہ بھی کسی مذاق سے کم نہیں، وہ تو ''دوست'' میڈیا نہ ہو تو نجانے کیا ہو جائے، اس کے باوجود آپ دیکھیں ہر چند دن بعد کوئی بڑا تنازع سامنے آ جاتا ہے،جسے دیکھ کر یہ خیال دل میں آتا ہے کہ کہیں قذافی اسٹیڈیم کے باہر یہ بورڈ تو نہیں لگاکہ ''آ بیل مجھے مار''۔
آپ کورونا وائرس کے سبب اتنے خراب حالات میں نچلے اسٹاف کو برطرف کرنے کا شاہی فرمان ہی دیکھ لیں، وزیر اعظم واضح الفاظ میں کہہ چکے کہ کسی کو ملازمت سے نہ نکالا جائے، اس کے باوجود وہ ادارہ جس میں بطور سرپرست اعلیٰ ان کا نام لکھا ہوتا ہے اس نے ہی 55 غریبوں کو بغیر سوچے سمجھے فارغ کر دیا، رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی اس فیصلے کیخلاف عدالت میں مقدمہ کرنے والے تھے، میڈیا میں خبریں چلیں اور پھر رات گئے نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا۔
میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ان 55 افراد کی تنخواہیں مل کر بھی ایک اعلیٰ عہدیدار کی ماہانہ تنخواہ کے برابر نہیں ہو سکتیں مگر پھر بھی بورڈ نے ایسا کیا، سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ''درباریوں'' نے اس پر بھی ''واہ بادشاہ سلامت کیا فیصلہ کیا ہے'' کے قصیدے پڑھنا شروع کر دیے،ایک غلط فیصلے کو واپس لینا اچھی بات ہے مگر یہ کوئی کارنامہ کیسے ہوگیا؟
میرے صحافی دوست عباس رضا نے فخر سے کہا کہ ''بورڈ نے میڈیا کے ڈر سے فیصلہ تبدیل کرلیا'' میں یہ سن کر بس مسکرا ہی سکتا تھا کیونکہ مجھے پتا ہے کہ موجودہ حکام کو میڈیا کی بالکل پروا نہیں ہے، رپورٹس کا نوٹس لیا نہیں بلکہ نوٹس دیا جاتا ہے، اگر میڈیا کا خوف ہوتا تو تقرریاں پہلے اور اشتہار بعد میں نہ دیے جاتے، ڈومیسٹک سسٹم کو تبدیل کر کے کرکٹرز کو بے روزگار نہ کیا جاتا، پی ایس ایل کے میچز جوئے کی ویب سائٹ پر چلنے پر بھی ایکشن لیا جاتا مگر کچھ نہ ہوا۔
میڈیا کا دباؤ اپنی جگہ لیکن اسی کے ساتھ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ جو لوگ موجودہ بورڈ حکام کو لائے انھوں نے ہی سرزنش کی ہو گی جس پر حکام کو فیصلہ تبدیل کر کے ملازمین کو واپس لانا پڑا، باتیں سب اصولوں کی کرتے ہیں ہوتا اس کے برعکس ہے، نجم سیٹھی نے بھی ایسے غریب ملازمین کو نکالا اور بعد میں اپنے لوگ بھرتی کیے، آج اضافی اسٹاف کا واویلہ مچایا جاتا ہے تو پھر ماضی میں ذاکر خان کو برسوں بغیر کام لیے مکمل تنخواہ اور مراعات کیوں دی گئیں،اس وقت کیوں کسی نے اعتراض نہ کیا، سب کو ڈرائیور، مالی اور ایسے ہی غریب ملازمین نظر آتے ہیں۔
اب ایک طرف لوگ نکالے جا رہے ہیں دوسری جانب بھاری تنخواہوں پر بھرتیاں بھی ہو رہی ہیں، پوری دنیا کا نظام چوپٹ ہو چکا مگر یہاں ہائی پرفارمنس سینٹر کے نام پر خوب تقرریاں ہوئیں، کیا تھوڑا انتظار نہیں کر سکتے تھے، ابھی کون سا وہاں کرکٹرز کو تیار کیا جانا ہے، تقریباً ہر پوسٹ پر اپنی پسند کا آفیشل آ چکا، سب سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ چیف فنانشل آفیسر کیلیے گریجویٹ کی شرط رکھی گئی ہے، اس پر لوگ باتیں بنانے لگے کہ کسی من پسند شخصیت کو لانے کیلیے ایسا کیا گیا ہے، قائم مقام سی ایف او عتیق رشید چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں ان کا باس گریجویٹ کیسے ہوگا؟
کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عتیق کیلیے ہی راہ ہموار کی گئی اور وہی مستقل ہو جائیں گے، خیر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے،اس وقت بورڈ نے کئی محاذ کھولے ہوئے ہیں، پی ایس ایل فرنچائزز خوش نہیں، براڈ کاسٹرز سے بھی اختلافات ہیں، جنھیں سلجھانے کیلیے سابق سی او او سبحان احمد کام کر رہے ہیں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ حکام کا رویہ متکبرانہ ہے، وہ اہم اسٹیک ہولڈرز سے بھی اپنے ملازم کی طرح سلوک کرتے ہیں، میں کوئی نجومی نہیں مگر اس بورڈ کی زیادہ تر تقرریوں کا پہلے ہی بتا دیا تھا۔
میڈیا رائٹس کنسلٹنسی کیلیے آسٹریلوی کمپنی کا نام اشتہار دیکھتے ہی سامنے آ گیا تھا، یہ میری کامیابی نہیں بلکہ بورڈ کے سسٹم پر بڑا سوالیہ نشان ہے، اس سے شفافیت پر بھی سوال اٹھتے ہیں،آپ اس کرکٹ بورڈ کی ایک سالہ کارکردگی نکال کر دیکھ لیں کوئی اہم کامیابی نظر نہیں آئے گی مگر تنازعات کی بڑی فہرست موجود ہے۔
سی ای او وسیم خان کی بھاری تنخواہ ابتدا سے ہی خبروں میں رہی ہے، حالیہ تنازع کے بعد انھوں نے 15 لاکھ روپے پی سی بی ویلفیئر فنڈ میں دینے کا اعلان کیا جو خوش آئند ہے، مگر سوچنے کی بات ہے کہ اس کیلیے بورڈ کو باقاعدہ پریس ریلیز کیوں جاری کرنا پڑی جس میں چیئرمین نے سی ای او کی خوب تعریفیں کیں، اس سے ایسا لگتا ہے کہ حکام سخت دباؤ کا شکار اور اب اپنا امیج بہتر بنانا چاہتے ہیں،ویسے مصباح الحق کو بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ایسے مشکل وقت میں بغیر کسی کام کے 32 لاکھ روپے ماہانہ لینا درست ہے۔
وقار یونس باتیں پاکستان کی کرتے ہیں مگر جہاں کوئی مشکل وقت آیا فوراً اپنے نئے ملک آسٹریلیا چلے جاتے ہیں، وہ اب بھی وہیں ہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ تقریباً27 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ انھیں ڈالرز میں درکار ہوتی ہے، کیا یہ ملک کے ساتھ ظلم نہیں، اگر بورڈ کو واقعی بچت کرنی ہے تو بھاری تنخواہیں لینے والے ان آفیشلز اور اپنے اعلیٰ حکام کو دیکھیں۔
بیچارے غریب ملازمین پر تلوار نہ چلائیں، وہ تو کورونا کے دنوں میں بھی گراؤنڈ کی صفائی یا کوئی اور ایسا کام کر رہے ہوں گے، ایسے فیصلے ہی نہ کریں کہ پھر یوٹرن لینا پڑے، صاحب اگر ناراض ہوگئے تو وہ دوستوں کو بھی نہیں چھوڑتے یہ بات یاد رکھیں۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)